میرپورمیں سزائے موت کے قیدی کی پھانسی ٹل گئی

میرپور(بیورورپورٹ)چیف جسٹس عدالت العالیہ آزادجموں وکشمیرجسٹس ایم تبسم آفتاب علوی نے سنٹرل جیل میرپورمیں مقیدسزائے موت کے قیدکی پھانسی کے احکامات کوعارضی طورپرمعطل کردیا،جیل سپرنٹنڈنٹ میرپورسے 5مارچ کوعذرات طلب،فریقین مقدمہ عنوانی اظہرمحبوب بنام آزادحکومت وغیرہ کو19مارچ کیلئے نوٹسزجاری۔ایڈیشنل ضلعی فوجداری عدالت راولاکوٹ نے ملزم کوپھانسی کی سزاسنائی تھی جس کیخلاف دائرکی گئی متعدداپیلیںمستردہوچکی ہیں۔جیل قوانین کے مطابق 444رولزکے تحت درخواست دائرکی گئی ہے کہ ملزم کاذہنی توازن خراب ہوچکاہے اس لئے پھانسی کی سزاسے قبل علاج کرایاجائے۔تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ضلعی فوجداری عدالت راولاکوٹ سے پھانسی کی سزاپانے والے مجرم ارشدمحبوب کے ورثا نے بذریعہ سردارمحمدرازق خان ایڈووکیٹ اورمسٹرحامدرضاایڈووکیٹ آزادجموں وکشمیرعدالت العالیہ میں رٹ پٹیشن دائرکرتے ہوئے موقف اختیارکیاکہ مقدمہ قتل میں سزاپانیوالامجرم ارشدمحبوب قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کرنے کیوجہ سے اپناذہنی توازن کھوچکاہے لہذاسزامتذکرہ پرعملدرآمدسے پہلے اس کاعلاج کراناضروری ہے جس پرابتدائی سماعت کے بعدچیف جسٹس عدالت العالیہ جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی نے مورخہ27فروری2018 کوسنٹرل جیل میرپورمیں ہونیوالی پھانسی پرعارضی طورپرمعطل کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل میرپور5مارچ کوپھانسی روکنے سے متعلق عذرات طلب کرتے ہوئے فریقین مقدمہ کوبھی 19مارچ کیلئے نوٹسزجاری کردیئے ہیں یادرہے کہ مجرم ارشدمحبوب کوایڈیشنل ضلعی فوجداری عدالت راولاکوٹ نے APC(302)aجرم ثابت ہونے پرپھانسی کی سزاسنائی تھی جس کیخلاف مجرم نے شریعت کورٹ آزادکشمیر،مابعدسپریم کورٹ میں فیصلہ پرنظرثانی کیلئے اپیلیں دائرکیں لیکن اپیل ہامستردکردی گئیں،بعدازاں ملزم نے صدرریاست آزادجموں وکشمیرسے رحم کی اپیل کی جومستردکردی گئی تھی جس پرجیل حکام نے ٹرائل کورٹ سے ڈیتھ وارنٹ حاصل کئے تھے اورکل مورخہ27فروری کوصبح 6.30بجے سنٹرل جیل میرپورمیں پھانسی دی جاناتھی۔سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سرداررازق خان ایڈووکیٹ اورنوجوان قانون دان سردارحامدرضاایڈووکیٹ کی انسانی جان بچانے کیلئے اس کاوش کوقانونی حلقوں میں کافی سراہاجارہاہے کیونکہ اس سے قبل اس نوعیت کے مقدمہ میں پاکستان وآزادکشمیرمیں ایسی کوئی نظیرنہیں ملتی۔