دنیا میں سب سے زیادہ جبر کا شکار کشمیری خواتین ہیں،فاروق حیدر

مظفرآباد(وقائع نگار)وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ کشمیری عورت دنیا کے مشکل ترین حالات کا سامنا دلیرانہ اور مردانہ وار کر رہی ہے ۔دنیا میں آدھی بیوہ کا تصور مقبوضہ کشمیر سے سامنے آیا مقبوضہ کشمیر میں آج بھی ہزاروں خواتین نیم بیوگی کی زندگی گزار رہی ہیں جن کے شوہروں کو بھارتی خفیہ ایجنسیوں اور سیکیورٹی فورسز نے اغواہ کر کے لاپتہ کر رکھا ہے اور یہ ہزاروں خواتین اپنے شوہروں کی آمد کی منتظر ہیں ۔بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں جہاں نوجوانوں ،بوڑھوں ،بچوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے وہاں کشمیری خواتین بھی بھارتی مظالم کا شکار ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر کے اندر نوجوانوں ،عورتوں کی ٹارگٹ کلنگ کا بین الاقوامی برادری نوٹس لے کشمیریوں پر زندگی تنگ کر دی گئی ہے ہندوستان لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کے ذریعے آزادکشمیر کے شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا چاہتا ہے معصوم طلباء کو آئے روز حریت پسند قرار دے کر شہید کیا جاتا ہے ہندوستانی فوج خطے کی ہی نہیں دنیا کی دہشت گرد فوج ہے جو انسانیت سے عاری اور قاتل ہے جس کے ہاتھ معصوم کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں کشمیری عوام تمام تر مظالم ،جبر نسل کشی کے ساتھ ساتھ کھربوں کے مراعاتی پیکیج کو ٹھکراتے ہوئے آزادی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری سے کم کسی آپشن کو قبل کرنے کے لیے تیار نہیں اپنے جاری کردہ بیان میں وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ ہندوستانی فوج طے شدہ منصوبے کے تحت کشمیری عورتوں ،بچوں ،بوڑھوں کی نسل کشی کر رہی ہے دنیا بھر میں تشدد اور جبر کی بدترین مثالیںمقبوضہ کشمیر کے اندر موجود ہیں ۔قابض افواج معصوم بچوں کو اپاہج اور اندھا بنانے کے ساتھ ساتھ عورتوں سے ان کے سہاگ چھیننے، ان کی امیدوں آرزوئوں کا خون کر رہے ہیں ۔
اسلام آباد(وقائع نگار)وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے باشندے نظریاتی طور پر پاکستانی ہیں اور اس حوالے سے کشمیریوں نے قائد اعظم کے فیصلے کا راستہ اپنایا ہے،تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کرنے کی طرح ملک میں آئین و قانون،پارلیمنٹ کی بالادستی کی جدوجہد میں بھی وکلاء کا متحرک کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔وزیر اعظم آزاد کشمیر نے 'لائیرز فورم مسلم لیگ ن' ، کشمیر لائیرز فورم راولپنڈی اور پنجاب بار کے وکلاء کے ایک وفد سے ملاقات میں آزاد کشمیر حکومت کو با اختیار بنانے کے حوالے سے آزاد کشمیر کے عبوری آئین میں ترامیم کے حوالے سے کہا کہ 1974کے عبوری آئین سے ایگزیکٹیو اختیارات اور ٹیکسیشن کے اختیارات آزاد کشمیر حکومت سے کونسل کو منتقل کر دیئے گئے۔1975کے الیکشن میں بدترین دھاندلی سے بننے والی حکومت نے کئی ترامیم کے ذریعے آزاد کشمیر حکومت کے باقی ماندہ اختیارات بھی کونسل کو منتقل کر دیئے۔وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ جب کونسل کا وجود نہیں تھا،اس وقت بھی حکومت پاکستان کے ساتھ آزاد کشمیر حکومت کے معاملات اچھی طرح چل رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف نے وزیر اعظم کے اہم عہدے کے لئے شاہد خاقان عباسی کا اچھا انتخاب کیا ہے اور وہ معاملات کو بہت اچھے طریقے سے چلا رہے ہیں۔وزیر اعظم آزاد کشمیر نے وکلاء وفد کو ایکٹ 1974ء میں ترامیم کے حوالے سے اعتماد میں لیا اور ان سے سیاسی صورتحال اور دیگر امور پر بات چیت کی۔وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے لائیرز فورم مسلم لیگ ن اور کشمیر لائیرز فورم کے متحرک کردار کو سراہا اور کہا کہ وکلاء ہماری قومی جدوجہد میں صف اول کے سپاہی ہیں۔آزاد کشمیر اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے وکلاء نے آزاد کشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 1974میں ترامیم اور کشمیر کونسل کے خاتمے کے فیصلے کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی اور بیس کیمپ کی حکومت کے با اختیار ہونے سے آزاد کشمیر کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو نے کے ساتھ ریاستی عوام کو حق حکمرانی بحال ہو گا۔آزا د کشمیر قانون سازا سمبلی کا بااختیار ہونا پاکستان اور آزاد کشمیر کے مفاد میں ہے۔اس اقدام سے آزاد کشمیر کے عوام کا احساس محرومی بھی ختم ہو گا۔ آزاد کشمیر بھر کے وکلائ، سنجیدہ سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر کے ساتھ ہے۔وکلاء آئینی ترامیم اور کشمیر کونسل کے خاتمے میں وزیر اعظم آزاد کشمیر کے ساتھ ہیںاور ان کا غیر مشروط ساتھ دیں گے۔ اس موقع پر پاکستا ن و آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے وکلاء پاکستان مسلم لیگ ن لائرز فورم کے مرکزی سیکرٹری جنرل ارشد خان جدون ایڈووکیٹ،محمد نعیم خان ایڈووکیٹ،طالب حسین عباسی ایڈووکیٹ،میاں فیصل ایڈووکیٹ، رانا ظفر اقبال ایڈووکیٹ،خاور اکرام بھٹی ایڈووکیٹ،چوہدری اسماعیل ایڈووکیٹ،محترمہ راحت فاروق راجہایڈووکیٹ،محمد نصیر خان ایڈووکیٹ،راجہ ابرار عارف ایڈووکیٹ،ارشاد خان ایڈووکیٹ، میڈم فائزہ ایڈووکیٹ اور دیگر کا کہنا تھا کہ کشمیر کونسل آزاد حکومت کے متوازی ادارہ ہے اس ادارے کا آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی میں کوئی کردار نہیں۔کونسل آزاد کشمیر کے عوام کے ٹیکسوں کے پیسے سے چلتی ہے اور یہ کونسل کسی پارلیمنٹ یا عدالت کے سامنے جوابدہ تک نہیں۔ آزاد کشمیر کو بجٹ خسارے کی مد میں جو رقم ادا کی جاتی ہے وہ حکومت پاکستان ادا کرتی ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام کا پاکستان کے ساتھ نظریاتی تعلق ہے اور یہ کونسل جیسے اداروں سے بالا تر ہے۔کشمیری نظریاتی طور پر پاکستانی ہیں۔اس حوالے سے کشمیریوں نے قائد اعظم کا راستہ اپنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر حکومت کو وہ تمام اختیارات تقویض کیے جائیں جو ایکٹ 1970کے تحت آزا د کشمیر حکومت کو حاصل تھے۔ آزاد کشمیرحکومت کو بااختیار بنانے کے لیے آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت متحد و منظم ہو کر آگے بڑھے ۔
