ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ڈیلی ویجز ملازمین کا کچہری چوک میں احتجاج 

اٹک (نمائندہ اٹک نیوز) اسفندیار بخاری ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ڈیلی ویجز ملازمین کا کچہری چوک میں احتجاج ، ایم ایس اور ڈپٹی کمشنر نے بات سننے سے انکار کرتے ہوئے کسی قسم کی مدد سے بھی معذرت کر لی تفصیلات کے مطابق اسفندیار بخاری ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بطور ڈیٹا انٹری آپریٹر ڈیلی ویجز پر اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے اسفندیار بخاری ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایم ایس نے غریب ملازمین کو بغیر کسی نوٹس کے نوکری سے نکال دیا اور ان کی جگہ نئی بھرتی شروع کر دی گئی جبکہ پورے پنجاب میں کسی بھی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں نئی بھرتی کا اعلان نہیں کیا گیا یہ ظلم صرف اسفندیار بخاری ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹک میں غریب ملازمین پر ڈھایا گیا ہے جو اپنے گھروں کے واحد کفیل ہیں ملازمت سے نکالے جانے والے یہ نوجوان ڈی سی اٹک عشرت اللہ خان نیازی کے دفتر پیش ہوئے اور انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کیا اس پر ڈی سی نے کہا کہ وہ ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتے میرے اختیار میں کچھ نہیں ہے جو کچھ کرنا ہے وہ ایم ایس نے کرنا ہے قبل ازیں انہوں نے ایم ایس ڈاکٹر کاشف حسین سے ملاقات کی تو انہوں نے ان کی بات سننے سے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ آپ سب یہاں سے چلے جائیں دوبارہ نوکری کے اشتہار کا انتظار کریں احتجاج کرنے والے ملازمین وسیم اختر ، ملک حمزہ سعید ، عاطف مجید ، احمد عماد ، عاقب رضا ، طارق عباس اور دیگر نے کہا کہ وہ اڑھائی سال سے ملازمت کر رہے ہیں اور انہیں سیاست کی نذر کر کے برطرف کر دیا گیا ہے وزیر اعظم عمران خان نے ایک کروڑ ملازمتیں دینے کا اعلان کر رکھا ہے بجائے ملازمتیں دینے کے ملازمت سے برطرفی تحریک انصاف کے منشور کی واضح خلاف ورزی ہے انہیں دوبارہ نوکری پر بحال کیا جائے اور اپنی تبدیلی کا نعرہ پورا کریں ان بچوں کے پاس اڑھائی سال کا تجربہ ہے جو کہ سرکاری نوکری کیلئے بہت ہوتا ہے رکن قومی اسمبلی میجر طاہر صادق ان کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک بلند کریں انہوں نے وزیر اعظم عمران خان ، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ،وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد ، سیکرٹری ہیلتھ پنجاب ، رکن قومی اسمبلی میجر طاہر صادق ، ڈپٹی کمشنر عشرت اللہ خان نیازی اور دیگر ارباب اختیار سے مطالبہ ہے کہ غریب ملازمین جو ڈیلی ویجز پر اسفندیار بخاری ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹک میں اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے انہیں دوبارہ ان کی سیٹوں پر بحال کیا جائے ۔علاوہ ازیں اے ایم ایس ایڈمن اسفندیار بخاری ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹک ڈاکٹر سید عرفان علی رضا نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ ہسپتال سے نکالے گئے 10 ڈیلی ویجز ڈیٹا آپریٹر ملازمین کا اعتراض اور احتجاج بالکل غلط ہے انہیں قواعد و ضوابط کے منافی بھرتی کیا گیا تھا ان کی بھرتی کیلئے قانون کے مطابق کوئی مشتہری بھی نہیں کی گئی حکومت پنجاب کے مقرر کردہ آڈیٹر نے آڈٹ رپورٹ میں ان ملازمین کے خلاف باقاعدہ تحریری پیراگراف میں 24 لاکھ 21 ہزار 936 روپے کا اعتراض تحریر کرتے ہوئے ان کی تقرریوں کو خلاف قانون قرار دیا ان ملازمین کو ملازمت پر رکھنے کے سلسلہ میں اخبار اشتہار دیئے بغیر بھرتی کیا گیا اس کے علاوہ ہسپتال سے 9 ہیلپرز کو بھی ملازمت سے فارغ کیا گیا انہیں بھی اخبار اشتہار کے بغیر بھرتی کیا گیا تھا ان کی ایک سال کیلئے بھرتی ہوئی تھی انہیں 2 سال قبل ملازمت سے فارغ ہونا چاہیے تھا تاہم انہیں توسیع ملتی رہی اس مالی سال بھی انہیں 3 ماہ کی توسیع ملی اس کے بعد نئی آسامیوں کیلئے باقاعدہ اخبار اشتہار دے کر انٹر ویو کیے گئے بعدازاں اس میں بھرتی ہونے والوں کو بھی محکمہ کی ہدایت پر فارغ کر دیا گیا ۔