چائلڈ لیبر اور جبری مشقت ،حکومتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائیگا ،چوہدری جمال

بھٹہ خشت پر کام کرنے والے محنت کشوں کے بچوں کو تعلیم اور صحت کی تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی، ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ اٹک
اٹک: چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے حوالہ سے حکومتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا بھٹہ خشت پر کام کرنے والے محنت کشوں کے بچوں کو تعلیم اور صحت کی تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی ان خیالات کا اظہار ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ چوہدری جمال نے ڈی سی آفس کے کانفرنس روم میں ڈسٹرکٹ ویلیجنس کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر سعید حیدر خان ، ڈی ای او لیٹریسی میمونہ انجم ، اے ڈی ڈی پی اکرام اللہ ، ایس ایس او سوشل سکیورٹی عبدالستار ، وائس چیئرمین پاکستان ورکرز فاءونڈیشن جنوبی پنجاب منیر حسین بٹ ، لیبر آفیسر ٹیکسلا کارٹن ملز لمیٹڈ محمد عظیم ہاشمی ، صدر بھٹہ خش ایسوسی ایشن احسان علی ، سوشل ویلفیئر آفیسر محمد ذیشان ، صدر بھٹہ خشت ایسوسی ایشن فتح جنگ چوہدری غضنفر ، چیئرمین اٹک پریس کلب رجسٹرڈ ندیم رضا خان ، سرپرست اعلیٰ سینٹرل یونین آف جنرنلسٹس پاکستان الحاج پرویز خان ، سوشل موبلائزر محمد برہان ، سب انسپکٹر محمد دراز اور دیگر موجود تھے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ چوہدری جمال نے کہا کہ حکومت نے کچھ عرصہ قبل ایک ہزار روپے بھٹہ خشت پر کام کرنے والے کم عمر بچوں کو تعلیم کیلئے دیئے تھے جو اب فنڈز ختم ہونے کے سبب بند کر دیئے گئے ہیں انہوں نے ہدایت کی کہ بھٹہ خشت سکولوں میں تعینات لیڈز ٹیچرز کیلئے واش روم بنائے جائیں اس موقع پر بتایا گیا کہ اٹک میں بھٹہ خشت پر خدمت کارڈ کے تحت 333 گھرانے رجسٹرڈ تھے جن میں 671 بچے تھے جن کو ایک ہزار روپے فی کس ماہانہ دیا جا رہا تھا جس کے سبب یہ بچے تعلیم کی طرف راغب ہو گئے تھے تاہم حکومت نے یہ پروجیکٹ جنوری 2018 ء سے ختم کر دیا ہے اس موقع پر بھٹہ خشت مالکان نے کہا کہ 2 سال سے بھٹہ خشت کا کاروبار خسارے کا شکار ہے اور حکومت کے آئے روز نت نئے قوانین کے سبب یہ صنعت زبوں حالی کا شکار ہے حکومت جدید زیگ زیگ پالیسی پر بھٹہ خشت پر لاگو کرنے کی خواہشمند ہے جس پر فی بھٹہ 30 لاکھ روپے لاگت اور اس کیلئے ماہرین کی ضرورت ہے اور یہ ماہرین پاکستان میں دستیاب نہیں۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیبر سعید حیدر خان نے بتایا کہ چائلڈ لیبر کے حوالے سے 2 ایف آئی آر درج کرائی گئی ہیں جبکہ بانڈڈ لیبر کا اٹک میں کوئی کیس نہیں ہے بھٹہ خشت پر 252 بچوں کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے اس موقع پر ایس ایس او سوشل سکیورٹی عبدالستار نے بتایا کہ کسی بھی ادارے میں کام کرنے والے محنت کش کو سوشل سکیورٹی میں 90 دن پورا ہونے پر رجسٹرڈ کیا جاتا ہے تاہم حادثہ کی صورت میں اس کو فوراً رجسٹرڈ کر کے اس کی مدد کی جاتی ہے اس پر ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ چوہدری جمال نے ہدایت کی کہ اس سلسلہ میں وہ تحریری دستاویز پیش کریں کہ اس قانون کا جائزہ لیا جا سکے انہوں نے ہدایت کی کہ پیشگی رقم کے حوالہ سے حکومت کے قوانین پر سختی سے عملدآمد کرایا جائے محکموں اور اداروں کے درمیان باہمی رابطہ مزید فروغ دے کر لیبر قوانین کے نفاذ اور اس کی خلاف ورزیوں پر قانون کے مطابق کاروائی کی جائے انہوں نے مناسب معلومات فراہم نہ کرنے پر ایس ایس او سوشل سکیورٹی کو آئندہ اجلاس میں مکمل معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وارننگ دی اجلاس میں جبری مشقت چائلڈ لیبر بھٹہ خشت پر سوشل سکیورٹی کارڈ کی رجسٹریشن ، کم از کم تنخواہوں ، بھٹہ خشت پر جمع داری سسٹم پر تفصیلی بات چیت کی گئی اجلاس میں بتایا گیا کہ محنت کش جن میں چوکیدار ، ماشکی ، لیبر کی کم از کم تنخواہ 17 ہزار 500 روپے ہو گی اسی طرح نیم ہنر مند جس میں جلائی والا ، باری والا ، کیری والا ، مٹی والا ، صفائی والا ، کوئلہ والا ، ٹیوب ویل ڈرائیور کی تنخواہ 18 ہزار 488 روپے ، ہنر مند میں کار ڈرائیور ، خانساماں کی تنخواہ 19 ہزار 308 روپے ، اعلیٰ ہنر مند میں مستری ، ٹرک ڈرائیور ، ٹریکٹر ٹرالی ڈرائیور کی تنخواہ 20 ہزار 773 روپے ، جز وقتی ورکر جس میں منشی شامل ہے کی تنخواہ 18 ہزار 806 روپے ، اینٹ بنانے والے کو فی ہزار 1295 ، اسپیشل اینٹ بنانے والے کو فی ہزار 1530 روپے ، نکاشی والا کو فی ہزار اینٹ 327 روپے ، گدا گاڑی اور ریڑے والے کو فی ہزار اینٹ421 روپے کی ادائیگی کی جائے گی اور یہ کم از کم معاوضہ اور اجرت ہے اس سے کم ادا کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی چائلڈ لیبر سے مراد ایسا کام ہے جو بچوں کو ان کے بچپن اور عزت نفس سے محروم کر دے اور ان کی سماجی ، اخلاقی ، جسمانی اور ذہنی نشونما کیلئے نقصان دہ ہو بچوں کو سکول جانے کے مواقع سے محروم رکھے اہم بین الاقوامی کنونشن نے اس سلسلہ میں قوانین وضع کر رکھے ہیں آئین پاکستان کے آرٹیکل 11-3 کے تحت 14 سال سے کم عمر کے بچوں کو فیکٹریوں ، دکانوں اور دوسرے خطرناک پیشوں میں ملازمت دینا ممنوع ہے آرٹیکل 37-;69; کے تحت انصاف اور انسانیت کے مطابق کام کا ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ بچے اور خواتین عمر اور جنس کے حساب سے غیر موزوں پیشوں سے منسلک نہ ہوں آرٹیکل 25-;65; کے تحت ریاست 5 سے 16 سال تک کے تمام بچوں کو قانون کے مطابق مفت اور لازمی تعلیم دینے کی پابند ہے اور بچے کی حفاظت کو بنیادی حق کی طرح مانا جاتا ہے ، پنجاب فری اینڈ کمپلمسری ایجوکیشن ایکٹ 2014 کے تحت حکومت کی ذمہ داری ہے کہ 5 سے 16 سال تک کے بچوں کو لازمی اور مفت تعلیم فراہم کرے چائلڈ لیبر کا خاتمہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اس سلسلہ میں بھٹہ مزدور ، جبری مشقت یا کسی بھی شکایت کی صورت میں 080088889 پر رابطہ کر سکتے ہیں چائلڈ لیبر کے حوالہ سے قانون برائے کارخانہ جات 1934 روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس 1961 ، پنجاب ریسٹرکشن آن ایمپائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 2016 ، شاپ اینڈ اسٹیبلیشمنٹ آرڈیننس 1969 ، خلاف ورزی کرنے کی صورت میں محکمہ لیبر کاروائی کرنے کا مجاز ہے اس سلسلہ میں حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں بچوں کو چائلڈ لیبر کی بد ترین اقسام سے بچانا ، اس سے ہٹانا ، ان کی سماجی بھلائی کیلئے ضروری موزوں اور برائے راست امداد فراہم کرنا بدترین چائلڈ لیبر سے ہٹائے ہوئے تمام بچوں کو مفت ابتدائی تعلیم اور جہاں ممکن اور مناسب ہو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا ، خطرے سے دو چار بچوں کی نشاندہی کرنا اور ان کی مدد کو پہنچانا ، چائلڈ لیبر کے خاتمہ کیلئے محکمہ لیبر کے زیر اہتمام جہلم ، چکوال ، جھنگ اور لیہ میں 18 کروڑ 8 لاکھ 32 ہزار روپے کی لاگت سے ڈبلیو ایف سی ایل پراجیکٹ پر کام ہو رہا ہے جس کے تحت بچوں کی غیر رسمی تعلیم ، صحت اور پیشہ ورانہ مہارت کی فراہمی شامل ہے جبری مشقت کے خاتمہ کیلئے محکمہ لیبر نے قصور اور لاہور میں 12 کروڑ 30لاکھ کی لاگت سے ایک منصوبہ مکمل کیا ہے جس میں بچوں کیلئے سکول اور مزدوروں کیلئے قرضہ کی فراہمی شامل ہے eblik;46;4d کے تحت جبری مشقت کے خاتمہ کیلئے فیصل آباد ، بہاولپور ، سرگودھا اور گجرات میں 19 کروڑ 60 لاکھ روپے کی لاگت سے بچوں کی غیر رسمی تعلیم و صحت وغیرہ پر کام کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے خاتمہ کیلئے 5 ارب روپے سے زائد کی لاگت سے جامہ منصوبہ بندی کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت صوبہ بھر میں بچوں کی غیر رسمی تعلیم ، پیشہ ورانہ مہارت اور قانونی و انتظامی اقدامات شامل ہیں جبری مشقت کے خاتمہ کیلئے بتایا گیا کہ اس سے مراد ہر وہ کام ہے جو کسی قرض ، پیشگی یا بحث کے بدلہ میں کام کرنے والے شخص سے اس کی مرضی کے خلاف لیا جائے یا اسے کام کرنے کیلئے مجبور کیا جائے جبری مشقت کی اشکال میں پیشگی یا قرض کے عوض جبراً کام لینا ، کسی معاشی فائدے کی خاطر مزدور خاندان سے کام لینا ، بغیر اجرت یا زبردستی کام لینا ، بین الاقوامی کنونشن اور آئی ایل او کنونشن کے تحت ;67;29,1930 کے مطا بق کسی شخص سے اس کی مرضی کے خلاف اور سزا کے تحت کام لینا جبری مشقت کے زمرے میں آتا ہے آئی ایل او کے کنونشن ;67;105 1957 کی رو سے جبری مشقت کو غلامی کی ایک شکل قرار دیا گیا ہے جبری مشقت کے بارے میں اس نظام کے خاتمہ کے ایکٹ 1992 کے تحت پیشگی وہ قرضہ کسی مزدور کو دیا جائے جو احتسال کا باعث بنے ، ایسا قرضہ جس سے جبری مشقت پیدا ہوتی ہے کو غیر قانونی اور غیر موَثر قرار دیا گیا ہے پنجاب حکومت نے اس سلسلہ میں سخت اقدامات کرتے ہوئے جبری مشقت کا نظام ( خاتمہ ) ایکٹ 1992 کے تحت ضلعی نگران کمیٹیوں کو فعال اور منظم کیا ہے جبری مشقت کے خاتمہ کیلئے محکمہ لیبر نے قصور اور لاہور میں 12 کروڑ 33 لاکھ 67 ہزار روپے کی لاگت سے ایک منصوبہ مکمل کیا ہے جس کے تحت بھٹہ جات پر بچوں کیلئے سکول اور مزدوروں کیلئے قرضہ کی فراہمی شامل ہے جبری مشقت کے خاتمہ کیلئے 4 اضلاع فیصل آباد ، بہاولپور ، سرگودھا اور گجرات میں 19 کروڑ 69 لاکھ 87 ہزار روپے کی لاگت سے منصوبہ کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت بچوں کو مفت تعلیم اور شناختی کار ڈ بنوانے میں مدد فراہم کی گئی وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے خاتمہ کیلئے 5 ارب روپے کی لاگت سے جامہ منصوبہ کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت صوبہ بھر میں بچوں کی غیر رسمی تعلیم ، پیشہ ورانہ مہارت اور قانونی و انتظامی اقدامات شامل ہیں چائلڈ لیبر کے خاتمہ کیلئے مزدور بچوں کیلئے مفت تعلیم ، مفت کتابیں ، یونیفارم ، سکول بیگ اور سٹیشنری کی فراہمی ، مزدور بچوں کے والدین کے شناختی کارڈ کا اجراَ ، مزدور بچوں کی پیدائش سر ٹیفکیٹ کا اجراَ ، ہوٹل ، ورکشاپس اور پیٹرول پمپس سمیت دیگر تمام پیشوں میں 15 سال سے کم عمر بچوں سے مزدوری کروانا جرم ہے ۔
