گورنمنٹ ڈگری کالج وومن اٹک میں ٹیچر اور سہولیات کا فقدان 

اٹک (نمائندہ اٹک نیوز)گورنمنٹ ڈگری کالج وومن اٹک میں ٹیچر اور سہولیات کا فقدان ، 1966 میں بننے والا ےہ کالج 1200 طالبات کے لئے تھا جبکہ اس وقت اس میں طالبات کی تعداد 3000ہزار سے زائد ہے کچھ نئے کلاس روم بنے ہیں جو فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے تا حال زیر تعمیر ہیں تفصیلات کے مطابق ڈھائی سے تین سوطالبات کو ایک کلاس روم میں بٹھاےا جاتا ہے طالبات کی اکثریت اس جدید دور میں بھی بغیر چٹائی کے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں کلاس روم بھیڑ بکریو ں کا منظر پیش کر رہا ہوتا ہے مطالعہ پاکستان کی ایک ہزار سے زائد طالبات کے لئے صرف ایک ٹیچر ہے کئی طالبات ابھی تک مطالعہ پاکستان کا ایک پیریڈ بھی نہیں لے سکی ہیں کمپیوٹر اور باقی مضامین کی ٹیچر بھی کم ہیں جس کی وجہ سے اس گرمی اور حبس کے موسم میں سینکڑوں طالبات ایک ہی کلاس روم میں کھڑے ہو کر زمین پر اور کچھ کرسیوں پر بیٹھ کر پیریڈ لے رہی ہوتی ہیں اکثر پیریڈ نئے تعمیر ہونے والے ہال میں لئے جا رہے ہیں جہاں ایک پنکھا بھی نہیں ہے حبس اور گرمی سے طالبات کا برا حال ہوتا ہے ےہ کالج بھیڑ بکریوں کے باڑے کا منظر پیش کر رہا ہے اکثر طالبات جب اپنے گھروں کو پہنچتی ہیں تو کالج میں حبس اور گرمی کی وجہ سے بے ہوشی کے عالم میں ہوتی ہیں والدین نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔