پی ٹی آئی حکومت کا پھڈا میجر طاہر صادق سے، رگڑا این اے56 کی عوام کو

اٹک(صدیق فخر سے) تحریک انصاف کی قیادت کو ضلع اٹک میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ایم این اے میجر طاہر صادق سے این اے55 کی سیٹ نہ چھوڑنے والے اختلافات کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی برقرار جب کہ این اے56 سے سیٹ چھوڑنے پر تحریک انصاف نے اس حلقے کو بھی لاوارث چھوڑ دیا، این اے 56 میں تحریک انصاف کی قیادت منظر عام سے غائب ہو چکی ہے جبکہ عوام کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کے حل کی بجائے سبز باغ دکھا کر اعلانات تک ہی محدود رکھا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے ضمنی الیکشن میں ن لیگی ٹکٹ ہولڈر ملک خرم بھی کئی ماہ گزرنے کے بعد اپنی جگہ پی ٹی آئی میں نہ بنا سکے نہ ہی باقاعدہ تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ ضمنی الیکشن میں کھنڈہ گروپ بھی تحریک انصاف کا حصہ بنا تھا لیکن حکومت کے بعد جلد ہی صورتحال کو بھانپتے ہوئے کھنڈہ گروپ کی شناخت سے ہی الگ سے حلقے میں سرگرم رہنے پر اکتفا کر لیا جبکہ ضلع اٹک میں پی ٹی آئی کی اتحادی پارٹی پیپلز پارٹی نے بھی ضمنی الیکشن کے گزرنے کے کچھ ماہ بعد میں حکومت پر بیان بازی شروع کر دی۔ این اے 56 سے ن لیگ کے ایم این اے ملک سہیل خان کمڑیال، پی پی 3 سے ایم پی اے سردار افتخار خان اور تحریک انصاف کے ہی پی پی 5 سے منتخب ایم پی اے ملک جمشید الطاف نے اسمبلی میں اور دیگر فورم پر اپنی طرف سے حلقے کے لیے آواز اٹھائی لیکن حکومت اپوزیشن کیا این اے56 کے حوالے سے اپنے منتخب نمائندوں کی آواز سننے کو تیار نہیں ۔ تحریک انصاف حکومت کا پھڈا میجر طاہر صادق سے سیٹ نہ چھوڑنے کا ہے لیکن  اس وقت رگڑا حلقہ این اے56 کی عوام کو لگایا جا رہا ہے جس میں تحریک انصاف کے اپنے لاکھ سے زیادہ ووٹر بھی شامل ہیں جن کے ووٹ کے تقدس کا خیال تک نہیں رکھا جا رہا اور حلقہ این اے56 کو ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کسی کھاتے میں نہیں لایا جا رہا ۔