پاکستان کی طرح کشمیر میں بھی کڑے احتساب کی ضرورت ہے،بیرسٹر سلطان

سہنسہ (نمائندہ خصوصی) سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر اور پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے سربراہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کو ایٹمی جنگ سے بچنے کے لیے مسئلہ کشمیر ترجیح بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔ عالمی برادری ایل او سی پر بھارتی درندگی اور بلاجواز فائرنگ کا نوٹس کیوں نہیں لے رہی، جنوبی ایشیا کا خطہ بھارتی ہٹ دھرمی اور عالمی بے حسی کے باعث عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے ۔ نوازشریف کا اقتدار تو چلا گیا اب سیاست کا سور ج بھی ڈوب کر قصہ پارینہ بننے والا ہے۔ امریکی صدر ،بھارتی آرمی چیف کے بیانات پاکستان کو دبائو میں لانے کی کوششیں ہورہی ہں۔بھارت نے ناگاساکی کی تباہی سے کچھ سبق حاصل نہیں کیا۔ پاکستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی کڑے احتساب کی ضرور ت ہے۔ موجودہ حکمران ٹولہ قومی خزانے کو بیدردی سے لوٹ رہا ہے اور کمیشن بھی کما رہا ہے۔ تارکین وطن ملکی معیشت کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ پاکستان کے سفیر اور تحریک آزاد ی کشمیر کے وکیل بھی ہیں بین الاقوامی فورم پر انھیں مسئلہ کشمیر پر ایجوکیٹ کرنے ، یورپی سفارتخانوں میں کردار ادا کرنے ، یورپی اقوام اور پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کو لے جانے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پی ٹی آئی برطانیہ کے مرکزی رہنما یاسین راجہ کی قیادت میں ملنے والے وفد سے گفتگو مٰں کی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے مسئلہ کشمیر کو عالمی فورم پر لے کر گیا ہوں ۔میں نے اقوام عالم پر دبائو بڑھایا۔ نیویارک ، فرانس، بلیجیم، برسلز میں ملین مارچ کے ذریعے بھارتی ایوانوں میں ہلچل مچائی ، عالمی برادری کو بیدار کیا، اقوام متحدہ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔ ملین مارچ کے مثبت نتائج بھی برآمد ہوئے، تحریک آزادی کشمیر کو بھی تقویت ملی اور بھارتی ایوانوں میں کھلبلی بھی مچی۔ ممبران اف پارلیمنٹ، یورپی اقوام، پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کی توجہ بھی بڑھی اور کشمیر یوں سے ہمدردی بھی پیدا ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ پچھلے ستر سالوں سے کشمیریوں کی تیسری نسل اپنے پیدائیشی حق خودارادیت کے لیے اپنے سروں کی فصلیں کٹوا رہی ہے اقوام متحدہ کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور عالمی بے حسی کی وجہ سے کشمیریوںکو ہتھیار اٹھانا پڑے اور جانوں کے نذرانے پیش کرنے پڑے، ہم جمہوریت پسند ملکوں، آّزادی پسند تنظیموں اور عالمی منصفوں سے بھیک نہیں بلکہ اپنا حق مانگتے ہیں، حمایت نہیں انصاف کے متلاشی ہیں، غلامی نہیں بلکہ آزادی چاہتے ہیں، کشمیریوں نے پرامن معروف جمہوری طریقوں، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق پرامن جدوجہد کا آغاز کیا ۔انھوں نے کہا کہ میاں نوازشریف نے عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر کو کمزور اور ناکام بنایا مگر جنرل راحیل شریف اور قمرحسین باجوہ نے مسئلہ کشمیر پر دوٹوک بات کرکے مسئلہ کشمیر کو تقویب بخشی جس سے کشمیریوں کے حوصلے بھی بلند ہوئے اور بھارت دفاعی پوزیشن پر چلا گیا۔ ہم پاک فوج کی لازوال قربانیوں، جنگی مہارت ، دفاعی پوزیشن کو مستحکم کرنے ، ملک کو بدامنی بے چینی سے نکالنے اور دہشت گردی کی ہولناکیوں سے بچانے پر پاک آرمی کو سلام پیشن کرتے ہیں پوری کشمیری قوم جنرل قمر باجوہ کی پیٹھ پر کھڑی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر حقوق انصاف ن لیگی حکومت نے ناپید کیے ، روزبروز مہنگائی بڑھتی جارہی ہے پہلے پیپلز پارٹی کے دور میں عوامی زندگیاں اجیرن بنی ہوئی تھیں رہی سہی کسر ن لیگی حکومت نے نکال دی ہے۔ آج پورا ملک اضطرابی کیفیت کا شکار ہے جس طرح پاکستان کے اندر قوم نے عمران خان کا ساتھ دیا ۔ نوجوان نسل ان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کررہی ہے اسی طرح یورپی ممالک اور آزاد خطے کے اندر روشن خیال تعمیر ی سوچ رکھنے والے باصلاحیت، باعمل باکردار لوگ اپنا عملی کردار ادا کریں ، ملکی و قومی خدمت کا جذبہ رکھنے ، عوامی حقوق کا تحفظ کرنے اور مثبت سوچ کے حامل افراد پی ٹی آئی کے پرچم تلے جمع ہوجائیںاور پی ٹی آئی میں نئے آنے والوں کو ویلکم بھی کریں گے اور ساتھ چلنے والوں کو چھتری کی طرح سایہ فراہم کریں گے ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اوران کی مثبت تجاویز کا خیرمقدم بھی کیا جائے گا۔
