اٹک میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کئی دھڑوں میں تقسیم

اٹک: حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف ضلع اٹک میں واضح طور پر مختلف کئی دھڑوں میں تقسیم ہوگئی، میجر طاہر صادق گروپ اور ملک امین اسلم گروپوں کے درمیان لفظی گولہ باری عروج پر پہنچ چکی ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب بھی خاموش تماشائی بنے رہے، تفصیل کے مطابق سابق ضلع ناظم اٹک کی اپنے پورے دھڑے کے ساتھ پی ٹی آئی میں شمولیت سے پارٹی نے عام انتخابات 2018 ء میں بھر پور کامیابی حاصل کی بالخصوص مسلم لیگ (ن) کے مرکزی راہنماء سابق وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد کو شکست دینا ان کی بہت بڑی فتح تھی لیکن عمران خان نے وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھتے ہی اپنے پرانے دوستوں کو نوازنے کی سیاست پر عمل کرتے ہوئے ملک امین اسلم کو مشیر بنا کر ضلع کا " چوہدری " بنا دیا ایک طرف میجر طاہر صادق کے پاس عوامی مینڈیٹ کی طاقت تھی۔ تو دوسری طرف ملک امین اسلم کے پاس ریاستی طاقت ، جس کے باعث دونوں کے درمیان ابتدائی ایام کی سرد جنگ بعد ازاں کھلی جنگ میں تبدیل ہوگئی، حالیہ دنوں کے دوران دونوں گروپوں کے درمیان لفظی گولہ باری اخبارات کی زینت بھی بنی رہی جس کا واضح طور پر مظاہرہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی اٹک آمد کے موقع پر ہوا لیکن وہ بھی خاموش تماشائی بنے رہے علاوہ ازیں یاور بخاری گروپ، کرنل انور گروپ ، نوابزادہ ملک اولیاء خان گروپ اور ضلعی تنظیم کا اس سلسلہ میںکوئی مصالحانہ کردار تا حال سامنے نہیں آیا شاید وہ بھی اس نورا کشتی سے محظوظ اور لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
