زلزلہ زدگان کی بحالی کو میثاق جمہوریت والوں نے نقصان پہنچایا،سردار عتیق

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی)سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کے دور حکومت میںزلزلہ متاثر ین کی بحالی کے منصوبوں پر کام بہت تیزی سے ہوا ،میثاق جمہوریت والی حکومتوں نے  نقصان پہنچایا۔زلزلہ سے متاثر انفراسٹر یکچر کی بحالی کی ذمہ داری بین الاقوامی برادری نے اپنے ذمہ لی تھی اور اس کیلئے فنڈز مہیا کئے گئے تھے اس میں حکومت آزاد کشمیر کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا  اس حوالہ سے مرکز کی ذمہ داری تھی کہ زلزلہ متاثرین کی بحالی کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے ۔اس وقت مسلم لیگ(ن) کی حکومت آزاد کشمیر اور وفاق میں بھی ہے بلند و بانگ دعوے تو بہت کرتے ہیں یہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ  زلزلہ  سے  متاثر اداروں اور علاقوں کی تعمیر کو مکمل کروا لیا جائے۔ میاںنواز شریف  نے موٹر وے اور سکولوں کا اعلان تو کیا ہے مگر پہلے جو کام ادھورا  ہے اسے مکمل کروا لیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنامہ کشمیر ٹائمز سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین زلزلہ کی رقم میں سے 50ارب روپے وفاق نے منتقل کئے  وہ واپس نہیں کئے  گئے،جب سے پارلیمانی جمہوری نظام آیا ہے اور میثاق جمہوریت والی جماعتوں نے اقتدار سنبھالا ہے اس کے بعد متاثرین زلزلہ کی بحالی کا کام سست روی کا شکار ہوا ہے۔پر ویز مشرف کے دور میں کام بہت تیزی سے ہوا اور  بہت سے منصوبے جن پر اسی فیصد سے زیادہ کام  مکمل تھا  اور بیس فیصد  کام ہونا تھاان پر توجہ نہیں دی گئی جس کو مکمل کرنے کیلئے اب  20فیصد کے بجائے پچاس فیصد خرچ کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہاکہ میں نے اپنے دور میں  فنڈز بھی لائے اور کام بھی ہوا۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں کسی حد تک  متاثرین زلزلہ کی بحالی کا کام ہوا مگر مسلم لیگ(ن) کے دور میں تعمیر و ترقی کا کوئی کام نہیں ہو رہا۔مسلم لیگ(ن) نے کشمیر کونسل کے فنڈز بھی بند کئے ہوئے ہیں صرف بلند و بانگ دعوے کئے جاتے ہیں۔میاں نواز شریف  نئے سکولوں اور موٹروے کی تعمیر کے اعلانات کرتے ہیں وہ تو بہت دور کی بات ہے پہلے زلزلہ سے متاثر منصوبوں کا کام مکمل کرو الیں۔اس حوالہ سے آزاد کشمیر حکومت اور سیاست دانوں کو الزام نہیں دیا جا سکتا مگر  آزاد کشمیر اور مرکز میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہے تو ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ  اس حوالہ سے بات کی جائے اور کام کروایا جائے۔