ڈکیتی کی واردات میں ملوث 2 پولیس کانسٹیبل اور اینٹی نارکوٹکس کا ہیڈ کانسٹیبل گرفتار

اٹک(ڈیلی اٹک نیوز) محکمہ پولیس ضلع اٹک ڈی پی او نے ڈکیتی کی واردات میں ملوث دو پولیس کانسٹیبلز اور اینٹی نارکوٹکس کے ہیڈ کانسٹیبل کو گرفتار کروا دیا
ڈکیتی کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج،دونوں پولیس ملازمین کو معطل کر دیا گیا،تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خالد ہمدانی کو اٹک کے رہائشی محمد عمران نے درخواست دی کہ اٹک پولیس کے دو کانسٹیبلز ثمر زمان،جلیل احمد اور اینٹی نارکوٹکس کے ہیڈ کانسٹیبلز عثمان نے اس کے ساتھ ڈکیتی کی واردات کی جس میں ملزمان نے کار اور نقدی اسلحہ کے زور پر چھین لی،ڈی پی او نے ڈی ایس پی صدر سے انکوائری کروائی جس میں پولیس کانسٹیبلز اور اے این ایف کے ہیڈ کانسٹیبل پر الزام ثابت ہو گیا،ڈی پی او نے ”قانون سب کے لئے یکساں“ کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں پولیس کانسٹیبلوں ثمر زمان،جلیل احمد اور اے این ایف کے ہیڈ کانسٹیبل عثمان کو گرفتار کروا کر محمد عمران کی مدعیت میں ڈکیتی کی دفعہ کے تحت تھانہ سٹی اٹک میں مقدمہ درج کروا دیا۔
ڈی پی او نے دونوں پولیس کانسٹیبلوں کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف باقاعدہ محکمانہ انکوائری کا حکم دے دیا جس کے بعدپولیس کانسٹیبلوں کو محکمانہ قواعد و ضوابط کے تحت سخت سزا دی جائے گی جو ملازمت سے برخاستگی بھی ہو سکتی ہے،ڈی پی ا وکا کہنا ہے کہ قانون کے محافظ جب ڈکیتی جیسی بدترین قانون شکنی پر اتر آئیں تو انہیں قانون کے مطابق عدالت سے سزا دلوا کر معاشرے کے لئے نشان عبرت بنانا از حد ضروری اور ناگزیر ہو جاتا ہے،ڈی پی او نے کہا کہ میں تو قانون شکنوں کے ساتھ پولیس والوں کے کس بھی حوالے سے مکس اپ ہونے کو برداشت نہیں کرتا،پولیس والوں کے ہاتھوں قانون شکنی کرنا تو انتہائی ناقابل برداشت ہے،ادھر سوشل میڈیا پر ڈی پی او خالد ہمدانی کے اس اقدام کو سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے سراہا جا رہا ہے،عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس کانٹیبلوں اور اے این ایف کے ہیڈ کانسٹیبل کے خلاف ڈی پی او کے عملی اقدام نے ثابت کر دیا ہے کہ قانون سب سے طاقتور اور بالادست ہے،ڈی پی او کے اس اقدام کو وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے عین مطابق قرار دیا جا رہا ہے۔
