تحریک لبیک ختم نبوت کی پہرے دار جماعت ہے، خادم حسین رضوی

اٹک(ڈیلی اٹک نیوز) پاکستان ہمارے بزرگوں اور اکابرین کی قربانیوں سے ہی معرضِ وجود میں آیا۔ اس میں اسلام، قرآن اورمحمدِ عربی کے نظام کے علاوہ کوئی نظام نہیں آ سکتا۔
تحریکِ لبیک پاکستان ختمِ نبوت کی پہرہ دار جماعت ہے۔ ہم نے اسلام آباد کے دھرنے میں 12ہزار سے زائد گولیاں اور شیل کھائے۔ شہداءکی لاشیں اٹھائی اور جیلیں کاٹی۔ لیکن ہم شرمندہ نہیں۔ ہم سے بڑا کوئی محبِ وطن اور عاشقِ رسول ہے تو سامنے آئے۔ر نجیت سنگھ کے لاہور میں مجسمے لگانے والے اور شیرِ پنجاب کا خطاب دینے والے سکھوں کے ساتھی ہو سکتے ہیں ہمارے نہیں۔ انہیں سکھوں کے پاس چلے جانا چا ہیے ۔
ہمارے شیرِ پنجاب حضرت داتاگنج بخش ہجویری، قطب الدین ایبک ، شیر شاہ سوری، ظہیر الدین بابر جیسے جید اور دلیرتھے جن پر ہمیں فخر ہے۔فتح مکہ امن سے نہیں تلوار سے ہی ہوئی تھی۔ کشمیر کی آزادی کے لیے فوج کے ساتھ ساتھ ہمارے کارکن بھی جہاد کے لیے تیار ہیںاسلام کے بول بالا کے لیے جہاد وقت کی ضرورت ہے۔ تمام مسلمانوں کو جہاد کی اہمیت کا پتہ چل جائے تو دنیا بھر سے اسلام دشمنوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار سربراہ پاکستان تحریک لبیک علامہ حافظ خادم حسین رضوی نے ریلوے گرائونڈ اٹک میں منعقدہ لبیک یا رسول اللہ ﷺ کانفرنس کے موقع پر ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سابق آئی ایس آئی چیف جنرل(ر) حمید گل مرحوم کے صاحبزادے چیئرمین تحریکِ جوانانِ پاکستان کشمیر محمد عبداللہ گل ، سید عنایت الحق،مخدوم ذوالفقار علی حیدری،سابق امیدوارقومی اسمبلی ملک امانت راول، پیر سید فیصل شاہ، سابق امیدوار صوبائی اسمبلی ملک عمر ارشد ایڈووکیٹ، سابق امیدوار صوبائی اسمبلی پی پی 5 پیر سیداحسن شاہ گیلا نی، مفتی اظہر محمود اظہری ، میجر یعقوب سیفی، منصور رضا قادری،حافظ شیر خان قادری نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پرہ منتظمین جلسہ سابق امیدوار قومی اسمبلی انجینیئر حفیظ اللہ علوی، ، مولانا عمران صدیقی، علامہ ساجد مجید حقانی، حاجی شفیق قریشی، سفیر احمد قادری سمیت علاقہ بھر کے مشائخ عظام، تحریکِ لبیک کے رہنمائوں اور کارکنوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ علامہ حافظ خادم حسین رضوی نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم الحمد للہ مسلمان ہیں ۔ مودی اور ٹرمپ ہمارا مقابلہ کیا کریں گے ۔ اگر مسلمانوں نے جہاد کا راستہ اختیار کیا تو یہ دم دبا کر بھاگتے نظر آئیں گے۔ لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ اگر یہ جرم ہے تو یہ جرم ہم صرف یہاں نہیں قبر میں بھی یہی نعرہ لگاتے سنائی دیں گے۔ ہم سے زیادہ محبِ وطن کوئی نہیں۔ لبیک یا رسول اللہ ﷺ کا نعرہ دنیا اور آخرت میں ہماری کامیابی کی کنجی ثابت ہو گا۔ پاکستان میں محمدِ عربی ﷺ کا دین ہی چلنا ہے انہیں کا نظام لا کر چھوڑیں گے۔ ہم نے جس کو بھی مانا ہے محمد ﷺ کی وجہ سے ہی مانا ہے۔ قیامت کے دن ان کے غلاموں نے ہی جنت میں جانا ہے۔ رسولِ عربی ﷺ کے غلاموں کو نماز کی پابندی کرنی چاہیے نہ وہ ملاوٹ کریں نہ ہی جھوٹ بولیں نبی کریم نے فرمایا تھا کہ جس نے دو نمبری کی وہ ہمارے امت میں سے نہیں۔ سابق آئی ایس آئی چیف جنرل(ر) حمید گل مرحوم کے صاحبزادے چیئرمین تحریکِ جوانانِ پاکستان کشمیر محمد عبداللہ گل نے کہا طاغوتی طاقتوں کو معلوم ہے کہ پاکستان میں جب بھی کوئی نظام آئے گا اسلام کا نظام ہی آئے گا۔ پاکستانی فوج اللہ کا انعام ہے۔ پاکستان کی آئی ایس آئی کو دنیا مانتی ہے۔ عمران خان کی حکومت سے چھٹکارا پانا انتہائی ضروری ہے۔ اپوزیشن نے حکومت سے ڈیل کر لی ہے۔ کوئی پوچھنے والا نیں کوئی بولنے والا نہیں۔ پاکستان سے تجارت کر کے بھارت جو رقم کماتا ہے اس کی گولیاں بنائی جاتی ہیں جو ہمارے کشمیری بہن بھائیوں کے سینوں پر برسائی جاتی ہیں۔ حضورﷺ کے نام کے ساتھ ہمارا محبت، اخوت، دیانت داری اور رحمت کا رشتہ ہے۔ آج ناموس ِ رسالت کا پہرہ دینے والے خادم حسین رضوی اپنے آبائی شہر اٹک تشریف لائے ہیں۔ جن کو اللہ کے نبی ﷺ کی محبت کھینچ لائی ہے۔ اسلامی نظام کو کوئی مائی کا لعل نہیں روک سکتا۔ امریکہ افغانستان میں شکست کھا کر طالبان کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔ امریکہ نے پاکستان کا رخ کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کے بہادر بائیس کروڑ عوام اس کا حشر نشر کر دے گی اور اس کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور ورلڈ بنک سے جو خفیہ معاہدہ کیا ہے اس کے ذریعے آئندہ کچھ دنوں میں 800ارب روپے کے نئے ٹیکس نافذ کر رہی ہے جس سے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈالا جائے گا۔ ڈالر، گندم، چینی اور سبزی کے بحران کے ذمہ داران عمران خان کے دائیں بائیں موجود ہیں۔ انصاف کے نام پر قائم ہونے والی حکومت لوگوں کو انصاف دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ سابق امیدوار صوبائی اسمبلی پی پی 5 پیر سیداحسن شاہ گیلا نی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان تحریکِ لبیک حکومت میں آ کر ملک میں نظامِ مصطفی لائے گی۔ ملک کا مستقبل اسلامی نظام کے نفاذ میں ہی پوشیدہ ہے۔ چوروں ڈاکوئوں کو اقتدار سے نکال کرقرار واقعی سزا دی جائے گی۔ اس موقع پرسیکیورٹی کے فرائض ایک ڈی ایس پی، دو ایس ایچ اوز اور 173پولیس اہلکاران نے انجام دیئے۔
