وزیراعظم عمران خان کے 2 معاونین خصوصی مستعفی

 وزیراعظم عمران خان کے 2 معاونین خصوصی مستعفی

اسلام آباد:  ایک ہی روز میں وزیراعظم عمران خان کے دو معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اور تانیہ ایدروس مستعفی ہوگئے۔

پہلے معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس نے استعفیٰ دیا اور کچھ دیر بعد معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا بھی مستعفی ہوگئے۔

میری کنیڈین شہریت کے حوالے سے بہت باتیں کی گئیں، تانیہ ایدروس

تانیہ ایدروس نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو بھیجا جس میں کہا گیا ہے کہ عوامی مفاد کے خاطر عہدے سے استعفیٰ دیا، میں پاکستان میں خدمت کے جذبے سے آئی تھی لیکن میری کنیڈین شہریت کے حوالے سے بہت باتیں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ میری پیدائش کینیڈا میں ہوئی اور وہاں پیدا ہونا میری خواہش نہیں تھی، پاکستان کو جب میری ضرورت پڑے گی میں حاضر ہوں۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم کے معاونین خصوصی اور مشیران کی شہریت اور اثاثوں کی تفصیلات جاری کی گئیں جن میں دہری شہریت کے حامل مشیران کو شدید تنقید کا نشانہ بنا گیا اور تانیہ ایدروس کوبھی دہری شہریت پر تنقید کا سامنا تھا۔

خوشی ہے اس وقت استعفا دیا جب کرونا کیسز کم ہوگئے ہیں، ظفر مرزا

بعد ازاں ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی اپنا استعفیٰ جمع کرادیا جس میں انہون ںے کہا کہ وہ معاون خصوصی کے کردار پر مسلسل تنقید کے باعث مستعفی ہوئے ، انہیں خوشی ہے کہ انہوں نے اس وقت استعفیٰ دیا جب کرونا کیسز کم ہوگئے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کی خصوصی درخواست پر عالمی ادارہ صحت چھوڑ کر پاکستان آئے تھے تاہم تنقید کی وجہ سے مستعفی ہورہے ہیں اور پاکستان کے عوام مزید بہتر ہیلتھ کیئر کے مستحق ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے تانیہ ایدروس اور ڈاکٹر ظفر مرزا کے استعفے منظور کرلیے ہیں ارور کابینہ سیکرٹریٹ کی جانب سے تانیہ ایدروس  اور ڈاکٹرظفرمرزاکےاستعفوں کی منظوری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

 

 

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزاکے استعفے کی وجوہات سامنے آگئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ظفرمرزا نے استعفیٰ دیا نہیں بلکہ ان سے استعفیٰ لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ظفر مرزا نے بھارت سے خلاف ضابطہ ادویات درآمد کرنے میں کردار ادا کیا،  وزیراعظم کے حکم پر انکوائری کے دوران ظفر مرزا اور ایک مشیر کا نام آیا، اس کے علاوہ ظفر مرزا اسلام آباد کےاسپتالوں اور میڈیکل اداروں کےسربراہ تعینات کرنے میں  بھی ناکام رہے۔

 ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم ادویہ سازکمپنیوں کا ازخود قیمت بڑھانےکا اختیارختم کرنا چاہتے تھے لیکن ظفر مرزا نے ادویہ ساز کمپنیوں کا اختیار واپس لینےکی سمری واپس لے لی تھی، جس کے بعد وزیراعظم کےحکم پر کمپنیوں کا اختیار واپس لینےکی سمری دوبارہ منگوائی گئی۔

ذرائع کے مطابق ظفر مرزانےکابینہ اجلاس میں بھی ادویہ سازکمپنیوں کااختیارواپس لینےکی سمری کی مخالفت کی،وزیراعظم ادویات اسکینڈل کےبعد ظفرمرزا کوپہلے ہی ہٹاناچاہتے تھے لیکن کورونا وائرس کےباعث ایسا نہیں کیا۔

جیو نیوز کو موصول دستاویز کے مطابق وفاقی کابینہ نے 9 اگست 2019ء کو بھارت سے درآمدات پر پابندی لگائی تھی اور وفاقی کابینہ کے بجائے وزیراعظم آفس سے 25 اگست کوفیصلے میں ترمیم کرائی گئی جب کہ سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم آفس منظوری دینے کامجاز نہیں۔

دستاویز کے مطابق مشیر تجارت رزاق داؤد اورمعاون خصوصی ڈاکٹر ظفرمرزا نے میٹنگ کی اور وزارت تجارت نے 24 اگست کو کابینہ ڈویژن کو فیصلے میں ترمیم کے لیے خط لکھا۔

خیال رہے کہ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے آج استعفیٰ دے دیا ہے اور ان سے کچھ دیر قبل معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس نے بھی استعفیٰ دیا تھا، وزیراعظم عمران خان نے دونوں معاونین کے استعفے منظور  بھی کرلیے ہیں۔

اپنے استعفے کے حوالے سے  ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ وہ معاون خصوصی کے کردار پر مسلسل تنقید کے باعث مستعفی ہوئے ،  خوشی ہے کہ  اس وقت استعفیٰ دیا جب کرونا کیسز کم ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کی خصوصی درخواست پر عالمی ادارہ صحت چھوڑ کر پاکستان آئے تھے تاہم تنقید کی وجہ سے مستعفی ہورہے ہیں۔