مقبوضہ کشمیر ،بھارتی فوج نے نوجوان کی لاش غائب کر دی،پر تشدد مظاہرے

سرینگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں  بھارتی فوج کی تحویل سے  نوجوان کی لاش غائب ،علاقے میں خو وہراس ،لوگوں کا شدیداحتجاج ،بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی  ہو گئے ،دو روز قبل بھارتی فوج نے اوڑی میں پانچ نوجوانوں کو مجاہدین قرار دے کر شہید کیا تھا،چار کی گزشتہ روز تدفین کر دی گئی پانچویں لاش کا کوئی پتہ نہیں کہاں گئی،حکام نے چپ سادھ لی ،شوپیاں میں گزشتہ روز دم توڑنے والا کشمیری ہزاروں سوگواران کی موجودگی میں سپرد خاک ،سوپور میں مقتول تاجر کی لاش کی بازیابی کیلئے احتجاج،مزاحمتی قیادت کا مرکزی  جامع مسجد سے جلوس،قیدیوں کی رہائی اور مظالم روکنے کا مطالبہ ،پلوامہ اور ڈورو میں شبانہ چھاپے،6گرفتار،ناگہ بل گاندربل کا دوسری بار کریک ڈائون،کھندرو اچھہ بل کیمپ میں پر اسرار دھماکہ،2 مزدور شدید زخمی، صورہ منتقل۔تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج نے دو روز قبل  بارہمولہ کے اوڑی سیکٹر کے علاقے دو لنجہ میں دراندازی کا الزام عائد کر کے  5نامعلوم نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا۔بھارتی فورسز نے دعویٰ کیا تھا کہ مارے جانے والوں کا تعلق جیش محمد سے تھا۔فورسز کے مطابق جائے وقوعہ سے 5لاشیں تحویل میں لی گئی تھیں  جبکہ ایک نوجوان زخمی حالت میں فرار ہو گیا تھا تاہم  بعد میں  بھارتی فوج نے چار عدم شناخت نوجوانوں کی لاشیں  پولیس کے سپرد کیں  جنھیں  اوڑی میں ٹی وی ٹاور کے نزدیک شہداء کے  قبرستان میں  سپرد خاک کیا گیا۔ایک نوجوان کی لاش کو تیسرے روز  بھی مقامی لوگوں کے سپرد نہیں کیا گیا۔مقامی لوگوں نے جب پانچویں لاش کا تقاضا کیا تو بھارتی فوج نے اس ضمن میں لا علمی کا اظہار کیا ہے  حالانکہ اس سے قبل بھارتی فوج کے ترجمان  سمیت اعلیٰ حکام تصدیق کر چکے ہیں کہ پانچ نوجوانوں کو دو لنجہ میں شہید کیا گیا تھا۔مقامی پولیس  چیف  ایس پی وید نے بھی پانچ لاشیں فوجی تحویل میں لینے کی تصدیق کی تھی تاہم اب بھارتی فورسز پانچویں لاش سے انکاری ہیں ۔مقامی لوگوں کے مطابق اوڑی میں  5لاشیں اٹھائی گئی تھیں ۔اس ضمن میں بدھ کو جب لوگوں نے  فوجی کیمپ میں جا کر  لاش کا تقاضا اور مارے جانے والوں کی شناخت کے بارے میں دریافت کیا توفوجی حکام نے کوئی تفصیل دینے سے انکار کر دیا  جس پر لوگوں نے فوجی کیمپ کے باہر دھرنا دیا اور احتجاج کیا ہے ۔اس موقع پر بھارتی فوج نے لوگوں کو منتشر کر نے کیلئے آنسو گیس کا استعما ل کیا جس پر لوگ منتشر ہو گئے اور تشدد بھڑک اٹھا۔اس موقع پر لوگوں نے بھی بھارتی فوج کے کیمپ اور اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کر دیا ۔جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو ئے۔بھارتی فوج کی جانب سے فائرنگ اور پیلٹ گنوں کے استعمال کی اطلاعات ہیں ۔دریں اثناء مشترکہ مزاحمتی قائدین سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی ہدایت پرمرکزی جامع مسجد سرینگر سے ایک پر امن احتجاجی جلوس نکالاگیا۔جلوس میں شامل مزاحمتی قائدین ،کارکنان اورعام لوگ بھی شامل تھے۔مظاہرین جموںوکشمیر میںانسانی حقوق کی پامالیوں،این آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائر کٹوریٹ جیسے تفتیشی اداروں کے تحت کشمیری رہنمائوں کی گرفتاریوں ، کیسو کے تحت کریک ڈائون ، چھاپوں ، خانہ تلاشیوں اور نہتے عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کارروائیوں ، مزاحمتی قیادت کی خانہ و تھانہ نظر بندیوں اور سرینگر شہر کے بیشتر علاقوں کو کرفیو اور بندشوں کی زد میں لانے کے خلاف نعرے بلند کررہے تھے ۔جلوس میں غلام نبی زکی، محمد رفیق اویسی، شیخ عبدالرشید، مشتاق احمد صوفی، عمر عادل، ظہور احمد بٹ ، ایڈوکیٹ شیخ یاسر، رئوف دلال،یاصف نذیر،بشیر احمد کشمیری،غلام محمد ڈاراور اشرف بن سلام وغیرہ شامل تھے ۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مسئلہ کشمیر کو حل کرو، کشمیریوں کا قتل عام بند کرو،اندھا دھند گرفتاریاں بند کرو، سیاسی قیدیوں کو بلا مشروط رہا کرو،انسانی حقوق کی پامالیاں بند کرو، اوراین آئی اے ،انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اورکیسو کے تحت کارروائیاں بند کروجیسے نعرے درج تھے ۔ادھر شمالی کشمیر کے سوپور  قصبے سے 21 دن قبل قتل کئے گئے صراف کے رشتہ داروں نے  اقبال مارکیٹ سوپور میںاس کی لاش کی بازیابی کیلئے زوراد احتجاجی مظا ہر ے کئے۔ تفصیلات کے مطابق26 دسمبر کو پراسرا ر طور لاپتہ کرنے کے بعد قتل کئے گئے 32سالہ طارق احمد ملک ولد غلام رسول ملک ساکن کلاس کپواڑ کے رشتہ داروں نے پیر کو اقبال مارکیٹ سوپور میں احتجاج کیا اور مقتول کی لاش طلب کرتے ہوئے قتل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاش برآ مد ہونے نہ ہونے کی وجہ سے ان کے گھر میں ماتم چھا یا ہوا ہے۔ انہوں ے کہاکہ کسی بھی مردے کے لئے ماتم کرنا چار دنوں سے جا ئز نہیں لیکن لاش نہ ملنے کی وجہ سے وہ  اب تک ماتم منا ئیں گے وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اورماہر غوطہ خوروں کے ساتھ ساتھ ہمارے رشتہ داربھی  لاش کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں تاہم انہیں ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے جس کے سبب وہ سخت پریشان ہیں۔لواحقین نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ لاش کی تلاش کیلئے بڑے پیمانے پر سرچ اپریشن شروع کرنے کے اقدمات کئے جائیں تاکہ لاش کو برامد کیا جا سکے۔خیال رہے کہ پولیس نے اس قتل میں چارافراد کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے پولیس کے مطابق صراف کی لاش کو دریائے جہلم میں پھینک دیا ہے۔  پولیس کے مطابق طارق کو ملزمین نے  26دسمبر کی شام  دکان سے اغوا کیا تھا اور پھر پھانسی دیکر  لاش دریائے جہلم میں پھینک دی تھی۔  ادھر سوپور میں انتظامیہ طارق کی لاش کی بازیابی کی پوری کوشش میں لگی ہے جبکہ ملزمین نے طارق کو قتل کرنے کے بعد دکان سے ساری نقدی اور سونہ لوٹ کر فرار ہوگئے۔دریں اثناء بٹہ مڈن کیلرشوپیان میں 19 دسمبر2017 کو مسلح تصادم کے دوران زخمی ہونے والا ایک شہری 27 دنوں کے بعد زندگی کی جنگ ہار گیا ہے۔اسکی شناخت محمد ایوب بٹ ساکن مولو چھتراگام کے بطور ہوئی ہے۔پولیس نے بتایا کہ 57برس کامحمد ایوب بٹ بٹہ مڈن وانپورہ  کیلرمیں 19 دسمبر 2017 کو جنگجووں اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والے مسلح تصادم کے دوران گولیاں لگنے سے زخمی ہوا تھا۔اسے تین گولیاں لگیں تھیں اور اسکی حالت نازک بنی تھی جب اسے سرینگر صدر اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔واضح رہے یہاں تصادم آرائی میں ایک مقامی جنگجو سمیت دو عساکر جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 24سالہ ایک جوان سال خاتون روبی جان عرف بیوٹی، جو 10ماہ کے بچے کی ماں تھی، کو فورسز نے اپنے گھر میں گولی مار کر ہلاک کیاتھا۔اسکے علاوہ قریب 50مظاہرین زخمی ہوئے تھے۔محمد ایوب کا صدر اسپتال میں قریب 20روز تک علاج و معالجہ ہوتا رہااور ایک ہفتہ قبل اسے گھر بھیج دیا گیا تھا۔سوموار کی شب اسکی حالت بگڑ گئی جس کے بعد اس کے افراد خانہ نے اسے سری نگر منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔بعد میں جلوس کی صورت میں نعروں کی گونج میں محمد ایوب کو پرنم آنکھوں سے آبائی مقبرہ میں سپرد لحد کیا گیا۔معلوم ہوا کہ محمد ایوب کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں جو کہ ابھی زیر تعلیم ہیں محمد ایوب کا بڑا بیٹا نویں جماعت میں زیر تعلیم ہے ۔محمد ایوب اپنے اہل خانہ کا واحد کمائو تھا۔دریں اثنا سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نیمحمد ایوب بٹ کو خراج عقید ادا کیا ہے۔دریں اثناء پلوامہ ضلع ہیڈکوارٹر میں شبانہ چھاپوں کے دوران 4افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جن میں ایک نوجوان کے بدلے اسکے چاچا کو گرفتار کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان پتھرائو کرنے میں ملوث ہیں۔یہ چھاپے پلوامہ کے چاٹہ پورہ علاقے میں مارے گئے ۔گرفتار شدگان میں مدثر کمار، اعجاز کمار، نواز احمد اور سنجو گنائی شامل ہیں۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز احمد ایک نوجوان سمیر احمد کا چاچا ہے، جو چھاپے کے دوران فورسز کو چکمہ دے کر بھاگ نکلا۔ چنانچہ سمیر کی جگہ اس کے چاچا کو گرفتار کرلیا گیا ۔اس دوران ڈورو شاہ آباد میں دوران شب دو نوجوانوںکی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔ پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ اور فوج گلزار احمد ملک ساکن گنڈ نوروز کریری اور ظہور احمد گنائی ساکن جال کریری کو اس وقت گرفتار کر کے اپنے ساتھ لئے گئے جب مذکورہ نوجوان اپنے اپنے گھروں میںسوئے ہوئے تھے ۔اہل خانہ کے مطابق فورسز اہلکاروں نے دوران شب انکے رہائشی گھروں پر چھاپے ڈالکر نوجوانوں کو گرفتار کیا  ۔پیشہ سے مزدور دونوں نوجوان دو بچوں کے باپ ہیں ۔ لواحقین نے گرفتاری پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ادھرفورسز نے ناگہ بل گاندربل سے ملحقہ علاقہ کھلہ مولہ کا محاصرہ کرکے گھر گھر تلاشیاں لیں۔ کھلہ مولہ کے ریشی محلہ کا سیکورٹی فورسز نے محاصرہ کرکے تلاشیاں لیں۔ کئی گھنٹوں تک پورے علاقے کو محاصرہ میں رکھا گیا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔پچھلے تین روز سے دوسری مرتبہ علاقہ کا محاصرہ کیا گیا۔ادھر  اننت ناگ میں سب سے بڑے فوجی کیمپ کھندرو اچھہ بل میں ممکنہ طور پربارودی مواد پھٹ گیا جس کے نتیجے میں دو پورٹر شدید طور پر زخمی ہوئے جن کو علاج معالجہ کے لئے اسپتال میں داخل کیا گیا ۔کھندرو فوجی کیمپ کے اسلحہ ڈیپو کے نزدیک منگل دو پہر ایک پر اسرار دھماکہ ہوا جس کی زد میں آکر فوج کے دو مزدور 35سالہ بلال احمد گنائی ولد غلام قادر گنائی ساکن پانپور اور18سالہ جہانگیر احمد وگے ولد غلام قادر ساکن چک اچھ بل شدید طور پر زخمی ہوئے ۔اگر چہ زخمیوں کو ضلع اسپتال لایا گیا تاہم ڈاکٹروں نے انہیں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سرینگر منتقل کیا ۔پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے ۔واضح رہے کہ کئی سال قبل اس کیمپ میں اسی طرح کا ایک پر اسرار دھماکہ ہوا  تھاجس کے بعد اسلحہ خانے میں موجود باردوی مواد اور راکٹ پھٹ گئے جو آس پاس کی بستوں میں جا گرے تھے جس سے کئی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔