مقبوضہ کشمیر: بچی سے زیادتی اور قتل میں بھارتی فوجی افسر ملوث نکلا

 سرینگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں تعینات بد نام زمانہ بھارتی فوج اب سماجی جرائم میں بھی ملوث نکلی ہے اور اس کی اسپیشل برانچ  کے افسر کو ضلع کھٹوعہ میں 8سالہ بچی کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔وادی میں تعینات ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کرائم برانچ الوک پوری نے ایس پی او دیپک کھجوریہ کی گرفتاری کی تصدیق کرتے  ہوئے میڈیا کو بتایا کہ کرائم برانچ نے تفصیلی تحقیقات کے بعد ایک فوجی افسر جو کہ اسپیشل برانچ میں تھا کو 8سالہ بچی کے اغوا اور قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے ۔اس افسر کی شناخت دیپک کھجوریہ کے نام سے بتائی گئی ہے  جس نے 12جنوری کو  ضلع کھٹوعہ میں آصفہ نامی  ایک 8سالہ بچی کو اغواء کے بعد قتل کر دیا تھا اور اس کی لاش رسانہ کے جنگلات میں پھینک دی تھی۔بچی کی گم شدگی کی رپورٹ کے 7روز بعد اس کی لاش ملی تھی۔پولیس نے 17جنوری کو لاش تلاش کر کے ورثاء کے سپرد کر دی تھی۔یہ بچی جنگل میں گھوڑوں کو چراتے ہوئے لا پتہ ہو گئی تھی جس کی گم شدگی کی رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں قتل  سے پہلے زیادتی کا نشانہ بنانے کے شواہد ملے تھے ۔یہ معاملہ اپوزیشن جماعتوں نے نام نہاد اسمبلی  میں اٹھایا تھا اور ملوث عناصر کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جس پر 23جنوری کو وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے تحقیقات کا حکم دیا اور معاملہ پولیس سے لے کر کرائم برانچ کے سپرد کر دیا تھا۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل  الوک پوری نے بتایا کہ ہم نے بچی کے قتل میں ملوث افسر کو حراست میں لے لیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ جاری ہے ۔ہم نے فرانزک ڈیپارٹمنٹ کی خدمات بھی حاصل کر لی ہیں۔مبینہ طور  بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ  12جنوری2018کو محمد یوسف ولد شہاب الدین ساکنہ رسانہ، موہڑہ پلکھ کھواڑہ تحصیل ہیرا نگر نے ایک تحریری شکایت درج کرائی کہ اس کی 8سالہ بیٹی گھر سے نزدیکی جنگل میں گھوڑے چرانے گئی تھی تاہم4بجے گھوڑے واپس گھر پر آگئے لیکن آصفہ واپس نہیں آئی۔ جس کے بعد اس نے دیگر افراد کے ہمراہ دوسرے روز جنگل میں اس کی تلاش شروع کی لیکن آصفہ کا کوئی پتہ نہ چلا۔ محمد یوسف نے تحریری شکایت میں مزید کہاکہ اس کی دختر کو کسی نے اغوا کر لیا ہے۔ جس کے بعد اس واقعہ کے خلاف ہیرا نگر تھانے میں ایک ایف ائی ار زیر نمبر 10/2018زیر دفعہ363کے تحت درج کر کے تحقیقات شروع کی گئی ۔ہیرا نگر پولیس نے وی ڈی سی بڈولی کے ہمراہ فوری طورپر رسانہ جنگل میں آصفہ کی تلاش شروع کی ۔ 17جنوری2018کو صبح1030بجے گمشدہ لڑکی آصفہ کی نعش رسانہ جنگل سے پائی گئی ، ایس ڈی پی او اور ایس ایچ او ہیرا نگر کی سربراہی میں قانونی لوازمات مکمل کرنے کے بعد نعش کو ضلع اسپتال کٹھوعہ میںلایا گیاجہاں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اس کا پوسٹ مارٹم کیا اور اسے لواحقین کے حوالے کیا گیا ۔پوسٹ مارٹم رپورٹ  میں بچی کے ساتھ زیادتی کا انکشاف ہوا تھا ۔بعد میں حکومت نے  ایس ڈی پی او ہیرا نگر کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی۔دورا ن تحقیقات پولیس کی سپیشل ٹیم نے متعدد مشکوک افراد سے پوچھ تاچھ کی جس دوران ایک مشتبہ15سالہ نابالغ بچے سے اعتراف جرم کرایا گیا تھا اور اصل مجرم کو بچانے کی کوشش کی گئی تھی۔ ملزم کو19جنوری2018کو گرفتار کیاگیا، Juvenileہونے کی و جہ سے اس کو اطفال خانہ میں رکھا گیا ہے۔