مقبوضہ کشمیر،بھارتی مظالم جاری،ایک اور نوجوان شہید،2اہلکار زخمی
سرینگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں جہاںایک اور نوجوان کو درانداز قرار دے کر شہید کر دیا گیا ہے جبکہ پاکستان پر دراندازوں کو کور فائر دینے اور دو اہلکاروں
کو زخمی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ،گزشتہ روز ایئر اسٹیشن کے باہر مارا جانے والے شہری سپرد خاک کر دیا گیا ہے جس کے اہل خانہ نے دماغی توازن خراب ہونے کا الزام مسترد کر دیا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب ضلع پونچھ میں کنٹرول لائن کے گلپور علاقے میں دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی اور ایک مبینہ مجاہد کو شہید کر دیا گیا ہے ۔اس دوران جھڑپ میں بھارت کے دو فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں ۔کنٹرول لائن عبور کرنے والے مبینہ مجاہدین کو پاکستان کی سرحدی فورس کی حمایت حاصل تھی۔پاکستان فورسز نے مجاہدین کو تحفظ دینے کیلئے ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیا جس کی زد میں آکر دو فوجی زخمی ہوئے ۔مارے جانے والے نوجوان کی لاش قبضے میں لے لی گئی ہے اس نے مجاہدین کا لباس پہن رکھا تھا ۔مارے جانے والے کے قبضے سے بھاری اسلحہ برآمد ہو ا ہے تاہم شہید کی شناخت کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔ادھر کپوارہ پولیس کی ایک خصوصی ٹیم فوج کی41RR ,اور سی آر پی ایف نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر پولیس تھانہ کپوارہ کے تحت آنے والے لسٹیال کلاروس کے جنگلی علاقہ میں چھاپہ ڈال کر جنگجوئوں کی ایک کمین گاہ سے بھاری مقدار میں ہتھیار کی بھاری کھیپ ضبط کرنے کا دعوی کیا ہے۔ایس ایس پی کپوارہ چودھری شمشیر حسین نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس ،فوج اور سی آر پی ایف نے لسٹیال کے جنگل سے جنگجو وں کی ایک کمین گاہ سے بھاری مقدار میں گولیوں کے رائونڈ ،چینی ساخت پسٹل، میگزین، یو بی جی ایل شل کے علاوہ دیگر ہتھیار ضبط کئے۔معاملہ کی نسبت پولیس تھانہ کپوارہ میں ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر 2018 / 29۔۔دفعہ25 /7 درج کر کے تحقیقات شروع کی۔ادھر فوج اور پولیس نے ترال میں ایک مشترکہ کاروائی کے دوران جنگلات میں ایک کمین گاہ کو یباہ کرنے کا دعوی کیا ہے قصبہ ترال سے تقریبا تین کلومیٹر دور پنگلش ناگہ بیری علاقے میں سو موار کے روز فوج اور پولیس نے ایک مشترکہ کاروائی کے دوران مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد علاقے میں تلاشی کاروائی کا آغاز کیا ہے جس کے دوران جنگلات میں موجود زیر زمین جنگجوں کی ایک کمین گاہ کا پتہ لگایا گیا ہے جس کے دوران کمین گاہ سے غذائی اجناس اور کھانا بنانے کے برتن بر آمد کئے گئے ہیں تاہم کمین گاہ میں کوئی فرد یا اسلحہ موجود نہیں تھا۔دریں اثناء حاجن بانڈی پورہ کے4افراد کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کوٹ بلوال جیل جموں منتقل کردیا گیا ہے۔ضلع مجسٹریٹ بانڈی پورہ نے 10فروری کو چاروں پر پی ایس اے لاگو کرنے کے احکامات صادر کئے تھے۔ان میں محمد اسداللہ پرے ولد عبدالغنی پرے ساکن حاجن ، رئیس احمد بابا ولد مظفر بابا ساکن عشم سوناواری، محمد اظہر پرے ولد عبدالرحمان ساکن چندر گیر اور غلام محی الدین خان ولد نذیر احمد ساکن پری بل حاجن شامل ہیں۔ان پر احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے اور سنگبازی کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اسداللہ پرے مسلم لیگ سے وابستہ ہیں، کو اس سے پہلے بھی کئی بار مختلف الزامات کے تحت نظر بند رکھا گیا ہے۔اسے جون2015میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر مسلسل چھ بار پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق عمل میں لایا گیا ۔چاروںپر پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرکے انہیں پیر کی صبح کورٹ بلوال جیل جموں منتقل کیا گیا ۔ادھرترال کے مختلف علاقوں میں فورسز کی جانب سے شبانہ چھاپوں کے دوران نصف درجن کے قریب نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ۔ ہندورہ،ترال پائین،نئی بگ ،اور پستونہ وغیرہ علاقوں کے لوگوں نے بتایا کہ فورسز نے دوران شب چھاپے مار کر مذکورہ علاقوں سینصف درجن نوجوانوں کو گرفتار کیا ۔ واضح رہے دو روز قبل آری پل تحصیل کے نصف درجن دیہات کو محاصرے میں لے کر گھر گھر کی تلاشی لی گئی ہے ۔ دریں اثناء بڈگام میں قائم ائر فورس سٹیشن میں تعینات اہلکاروں نے دوران شب گولیاں چلا کر6بچوں کے والد کو ابدی نیند سلا دیا۔ بھارتی فورسز نے دعوی کیا ہے کہ وہ دماغی طور معذورتھا ۔ تاہم اہل خانہ نے اس بات کو مسترد کیا کہ سید حبیب اللہ دماغی معذور تھا ۔سویہ بگ علاقے میںاس ہلاکت پر مکمل ہڑتال ہوئی،جبکہ فورسز اور مقامی نوجوانوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران شلنگ کے واقعات بھی پیش آئے اس دوران متعدد افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ بڈگام کے آستان پورہ سویہ بگ علاقے سے تعلق رکھنے والے بزرگ شہری سید حبیب اللہ کی لاش جب آبائی علاقہ پیر محلہ پہنچائی گئی،تو وہاں کہرام مچ گیا۔ سید حبیب اللہ کا نماز جنازہ مرکزی جامع مسجدمیں انکے برادر سید حمید اللہ نے پڑھائی،جس میں ہزاروں افرادنے شرکت کی۔سید حبیب اللہ کو بعد میں اسلام و آزادی کے نعروں کی گونج کے بیچ مقامی قبرستان میں پرنم آنکھوں کے ساتھ سپرد لحد کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے بتایا ہے کہ سید حبیب اللہ اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ ائر فورس کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔پولیس ترجمان کے مطابق دوران شب ایک شخص نے ائرفورس اسٹیشن کے سیکورٹی علاقے میں مبینہ طور پرداخل ہونے کی کوشش کی ۔ترجمان نے کہا سیکورٹی زون کے نزدیک آتے ہی اس شخص کوفورسزاہلکاروں نے وارننگ دی اوراسکووہیں رکنے کیلئے کہاگیالیکن وہ آگے بڑھتارہاجسکے بعدائرفورس کے سنتری نے اس شخص کوخبردارکرنے کیلئے ہوامیں گولیوں کے کچھ رائونڈفائر کئے لیکن اسکے باوجودیہ شخص آگے ہی چلتارہا،جس کے بعدسنتری نے اسکوگولی ماردی اوراسکی موت واقع ہوگئی ۔پولیس ترجمان کے مطابق فورسزنے اسبارے میں پولیس پوسٹ ہمہامہ کومطلع کیااوریہاں سے ایس ایچ اواورڈی اووہاں پہنچ گئے جنہوں نے مارے گئے شخص کی نعش اپنی تحویل میں لی۔ترجمان نے مزیدبتایاکہ موقعہ پرہوئی ابتدائی تحقیقات سے یہ ظاہرہواکہ مارے گئے شخص کی عمرلگ بھگ 50تا55برس ہے۔ ترجمان نے اسبات کااعتراف کیاکہ ماراگیاشخص دماغی طورپرمعذورتھایعنی اسکی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی ۔پولیس ترجمان کے مطابق ہلاک شدہ شخص کے پیروں میں چپل یاجوتانہیں تھااورنہ اس کے پاس کوئی شناختی کارڑ تھا،اور نہ ہی موسم سرما کی نسبت سے کپڑے پہنے تھے۔اس دوران مذکورہ شہری کی شناخت سویہ بگ آستان پورہ،پیر محلہ کے سید حبیب اللہ کے بطور ہوئی۔ اہل خانہ نے پولیس کے اس بیان کو مسترد کیا کہ سید حبیب اللہ دماغی طور پر معذور تھے۔ سید حبیب اللہ کے بھانجے مشتاق احمد نے میڈیا کو بتایا کہ70برس کے سید حبیب اللہ ولد مرحوم سید محمد اکبر گزشتہ شام نماز عشا ادا کرنے کی غرض سے گھر سے نکلے اور بعد میں واپس نہیں آئے۔انہوں نے بتایا کہ چونکہ سید حبیب اللہ پیری مریدی بھی کرتے تھے،اس لئے وہ کھبی کھبار بغیر بتائے کئی کئی روز تک بھی گھر سے باہر رہتے تھے گزشتہ روز جب وہ گھر واپس نہیں لوٹے تو اہل خانہ نے سمجھا کہ وہ شائد کسی مرید کے گھر گئے ہونگے۔مشتاق احمد نے کہا کہ وہ نہایت ہی کسمپرسی اور غربت کی حالت میں تھے،اور صرف ایک شیڈ میں اپنے6بچوں کے ہمراہ گزارہ کرتے تھے،اس لئے وہ ذہنی الجھنوں میں کھبی کھبار گرفتار رہتے تھے۔مشتاق احمد نے بتایا کہ مہلوک شہری سید حبیب اللہ نے بیرون ریاست شادی کی تھی،اور انکے ہاں5لڑکوں کے علاوہ ایک بیٹی بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میںوہ اسلامک ایجوکیشنل اسکول سویہ بگ میں بطور چپراسی بھی کام کرتے تھے۔ادھر مرحوم کے فرزند ابو بکر نے بھی اپنے والد کے دماغی طور پر معذور ہونے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہاہمارے والد پاگل نہیں تھے،بلکہ کھبی دماغی پریشانیوں میں مبتلا رہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ اس ہلاکت کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔ اس دوران آئی جی کشمیر ایس پی پانی نے کہا کہ ابھی تک پولیس کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچی ہے۔ایس پی پانی نے کشمیر عظمی کو بتایا پولیس ابھی تک کسی بھی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچی،بلکہ یہ کیس تحقیقات کے تابع ہے۔انہوں نے سید حبیب اللہ کے اہل خانہ کی طرف سے انہیں دماغی طور پر معذور قرار دینے کے بیان کو مسترد کرنے پر کہاہم اہل خانہ کے دعوئوں کی عزت کرتے ہیں۔ اس دوران نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد سویہ بگ میں نوجوانوں اور فورسز کے درمیان سنگبازی کے واقعات بھی رونما ہوئے۔مقامی لوگوں کے مطابق سید حبیب اللہ کے نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی لوگوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے جلوس برآمد کیا،جس کے بعد فورسز اور فوج پر سنگبازی بھی کی گئی۔عینی شاہدین کے مطابق نوجوانوں نے سنگبازی کی،جبکہ فوج اور ٹاسک فورس نے ٹیر گیس کے گولے داغے۔جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ۔واضح رہے کہ سویہ بگ ضلع بڈگام میں ایک حساس علاقہ مانا جاتا ہے،اور حزب سپریم کمانڈر و جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کا آبائی علاقہ ہے۔دریں اثناء حریت (ع) لبریشن فرنٹ،دختران ملت، سالویشن مومنٹ،ماس مومنٹ ،ووئس آف وکٹمزاور پیروان ولایت نے بڈگام میں فورسز کے ہاتھوںمارے گئے سید حبیب اللہ ساکن سویہ بگ کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں فورسز غیر معمولی اختیارات کی آڑ میںانسانیت کی قبا چاک کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کررہے ہیں۔حریت(ع) ترجمان نے فورسز کے اس طرز عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں فورسزاہلکار بے لگام ہوچکے ہیں اور خود کو حاصل غیر معمولی اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے عام لوگوں کو اپنے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں جو انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے ہلاکت کوفورسز کی سفاکیت کی دلیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب فوجیوں اور اہلکاروں کو قانون کا سہارا حاصل ہو تو وہ انسانوں کا قتل کرنے میں بے باک ہوجاتے ہیں اور آج اس معصوم بزرگ کشمیری کا قتل بھی اسی بے باکی کا نتیجہ ہے۔انہوں نے مذکورہ بزرگ کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے ان کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکیا ۔دختران ملت کی جنرل سیکریٹری ناہیدہ نسرین نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز اہلکار کسی کشمیری کو مارنے سے قبل ذرا بھی نہیں سوچتے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ہم پر کب کا عیاں ہوچکا ہے لیکن یہ واقعات دنیا کی طاقتوں کیلئے چشم کشا ہونے چاہئیں اور انہیں سمجھنا چاہئے کی بھارت کس طرح کشمیریوں کا قتل عام کر رہا ہے۔سالویشن مومنٹ نے فورسز کی جانب سے بڈگام میں فائرنگ کے نتیجے میںایک بزرگ شہری کو جاں بحق کرنے کی کارروائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔ ماس مومنٹ نے ہلاکت کو انتہا پسندی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ معصوموں کو نشانہ بنانا فورسز کا معمول بن گیا ہے۔ماس مومنٹ سربراہ فریدہ بہن جی نے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقوام عالم اور بشری حقوق کی عالمی تنظیموں کی طرف سے شہری ہلاکتوں پر خاموشی کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ووئس آف وکٹمزکے کوارڈی نیٹر عبدالرئوف خان نے فورسز کی کارروائی کو افسپا کی دین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ اب تشویشناک رخ اختیار کرچکا ہے ۔پیروان ولایت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے فورسز کی بوکھلاہٹ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی نہ کسی بہانے بھارت کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے جو انتہائی تشویشناک عمل ہے۔ادھر شوپیان ضلع کے مضافاتی دیہات میں محاصرے کے دوران فائرنگ ہوئی تاہم فورسز کو کچھ ہاتھ نہیں لگا۔فورسز نے پیر کی سہ پہر ساڑھے چار بجے فورسز نے گنڈ وین امام صاحب ،ترکہ وانگام اور نولی پوشواری کے باغات میں تلاشی کارروائی عمل میں لائی۔ تلاشی کاروائی کے دوران نولی پوشواری میں گولیوں کی آواز سنائی دی گئی۔تاہم یہ معلوم نہ ہو سکا کہ گولیاں کس نے چلائی۔ اس سلسلے میں پولیس نے کہا کہ تلاشی کارروائی کے دوران پوشواری گاوں میں کچھ ہی دوری پر سیب کے باغیچوں سے گولیوں کی آواز سنی گئی اسکے کچھ دیر بعد آپریشن ختم کردیا گیا۔ادھر وادی کے طول و عرض میں حالیہ احتجاجی لہر کے دوران پیلٹ کے قہر سے زخمی ہوئے سینکڑوں متاثرین نے سوموار کو احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے عوام سے مالی مدد کا مطالبہ کیا ہے ۔یہ احتجاج پیلٹ وکٹمز ویلفیئرٹرسٹ کے بینر تلے منظم کیا گیا تھا۔مظاہرے میں شامل وادی کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے پیلٹ متاثرین میں ایک لڑکی اور بینائی سے محروم نوجوان بھی شامل تھے۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں بینراور پلے کارڈس اٹھارکھے تھے جن پر پیلٹ متاثرین کی غمناک تصاویر کے ساتھ ساتھمہلک ہتھیاروں کا استعمال بند کرو اورآنکھیں بیش قیمتی ہیں کے نعرے درج تھے۔احتجاجی متاثرین نے کشمیر عظمی کو بتایا ہم سڑکوں پرصرف اس غرض سے آئے ہیں تاکہ کشمیری معاشرے میں رہ رہے ہمدرد لوگ ہماری مدد کر سکیں۔مظاہرین میں شامل محمد اشرف نامی ایک متاثر نے بتایا ہم سخت مصیبت میں مبتلا ہیں اور ہم لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پیلٹ متاثرین نے حکومت سے کوئی نو کری یا مالی معاونت حاصل نہیں کی ہے ۔ انہوں نے بتایا حکومتی نوکری اور مالی معاونت کی افوائوں کے پیش نظر اب سماج میںپیلٹ متاثرین کے متعلق الگ ہی نقطہ نظر ہے جو حقیقت نہیں ہے ۔اشرف نے بتایا پیلٹ متاثرین کی تعداد1200 سے زائد ہے جن میں صرف12متاثرین کو حکومت کی طرف سے نوکری فراہم کی گئی ہے جبکہ دیگر کئی متاثرین کو حکومت نے خدا کے رحم وکرم پر چھوڈ دیا ہے اور عوامی امداد کے بغیر ہمارا کوئی چارہ نہیں ہے ۔ متاثرین نے بتایا کہ ایسے وقت میں جب حکومت انہیں جسمانی طور کمزور افراد کے زمرے میں شامل کر نے سے انکاری ہے ، اب عوامی امداد حاصل کرنے کے بغیر انکے پاس دوسرا کوئی چارہ نہیں ہے۔متاثرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے مطابق اسپتال ریکارڈ میں پیلٹ متاثرین کے ناموں کا صحیح اندارج نہیں ہوا ہے جبکہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ انکی بینائی چلی گئی ہے ۔
