مقبوضہ کشمیر کنن پوش پوشپورہ سانحہ کیخلاف طلباء کا احتجاج

میرپور(بیورو رپورٹ) مقبوضہ کشمیر کنن پوش پورہ سانحہ بھارتی جمہوریت کے منہ پر طمانچہ،بھارتی ریاستی دہشت گردی عروج پر عالمی برادری کی خاموشی لمحہ فکریہ، کشمیری خواتین پر مظالم کو بھارتی حکومت جنگی ہتھیار کے طور پراستعمال کر کے انسانیت کو شرمندہ کر رہی ہے آزاد جموں کشمیر میرپور یو نیورسٹی(مسٹ) کے تعاون سے انٹرنیشینل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام کنن پوش پوشپورہ سانحہ کیخلاف طلبہ، طالبات کا شدید احتجاج، ریلی میں سینکڑوں طلبہ طالبات،پروفیسرز کی شرکت، احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر کنن میں متاثر ہوئی خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی، سانحہ میں ملوث بھارتی فوجیوں، حکومت ہند کے خلاف نعرے درج تھے یونیورسٹی کے طلبہ نے احتجاجی مارچ کیا، آزادی کے حق اور جموں کشمیر پربھارت کے جبری فوجی قبضے کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے وائس چیئر مین مشتاق السلام نے کہا کے کنن پوش پورہ کاسانحہ ایک دلخراش واقع ہے جس کی ساری دنیا نے مزمت کی،بھارت جمہوریت کے نام پر سیاہ دھبہ ہے ان کا کہنا تھا کے کنن کی متاثرہ خواتین کو آج تک انصاف نہیں ملا اور نہ ہی اس جرم میں ملوث بھارتی فورسز کے اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا، انھوں نے کشمیر کے اندر جاری مظالم، انسانی حقوق کی پامالیوں کی شدید مزمت کرتے ہوئے کنن واقعہ میں ملوث فوجیوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ کیا بھارت کے خلاف مظاہرے سے مسٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرحبیب الرحمن نے آپنے خطاب میں کہا کہ کنن پوشپورہ کا واقع بھارت کی سیاہ تاریخ میں ایک بڑے جرم کے طور درج ہوچکا ہے بھارت کشمیر ی خواتین پر مظالم کو جنگی ہتھیار کے طور استعمال کر رہا ہے بھارت جمہوریت کی آڑ میں بچوں کو اندھا، جوانوں کو شہید، حریت پسند قیادت کو قید کر رہا ہے ان کا کہنا تھا کے جموں کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب کا حق مانگ رہے ہیں لیکن بھارت فوجی طاقت سے ان کی تحریک کو کچلنے کی کوشش کررہا ہے انھوں نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کے کنن پوش پورہ واقع میں ملوث بھارتی فوجیوں کو عالمی عدالت انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ان پر جنگی جرائم کے مقدمات درج کیئے جائیں احتجاجی ریلی سے پاسبان حریت جموں کشمیر کے چیئرمین عزیر احمد غزالی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کے بھارت نے جموں کشمیر کو سات لاکھ فورسز کے زریعے ایک جیل میں تبدیل کر رکھا ہے جہاں آزادی مانگنے والوں کو شہید کیا جارہا ہے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں غیر انسانی قوانین کے نفاز سے جموں کشمیر کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق پامال کردیئے گئے ہیں ان حالات میں عالمی برادری کو بھارت کے خلاف آزاو بلند کرنی چائیے ان کا کہنا تھا کے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان مسئلہ جموں کشمیر عوامی خواہشات کے مطابق حل نہ ہوا تو خطہ کا امن تباہی سے دوچار ہوجائے گا طلبہ کی نمائندگی کرتے ہوئے عفیفہ اویس اور زون میر نے کنن واقع کی شدید مزمت کی طالبات نے عالمی برادری سے بھارتی مظالم کو روکنے کیلیئے آپنا کردارادا کرنے کی اپیل کی، احتجاجی ریلی میں معروف حریت راہنماء محمد اسلم ملک، اے ڈی کشمیر لبریشن سیل کشمیر سنٹر میرپور سید ضمیرالحسن نقوی،عثمان علی، ڈین سائنسز پروفیسر ڈاکٹر ریحانہ اصغر، ڈین آرٹس ڈاکٹر مقصود احمد، ڈاکٹر الطاف حسین، ڈاکٹر شائد عزیز، ڈاریکٹر پی اینڈ ڈی محمد اقبال، محمد جاوید قریشی، شائد امین، ڈاکٹر راشدہ، ڈاکٹر تحسین غوث،سید کاشف حسین شاہ، پروفیسر مشتاق ملک، طالبہ عفیفہ اویس، طالبہ زون میرنے خصوصی طور شرکت کی، ریلی کے شرکاء نے بھارتی فوجی قبضہ کیخلاف شدید نعرے بازی کی اور یونیورسٹی سے احتجاجی مارچ کیا۔