مسلسل نظربندی ،علی گیلانی نے تحریک حریت کی قیادت چھوڑ دی

سرینگر(کے ایم ایس) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کے لیے اس بات کے سوا کوئی دوسرا راستہ چھوڑا ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے مادر وطن کو بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے مزید پختہ عزم اور جرات کے ساتھ لڑیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں تحریک حریت کی مجلس شوریٰ کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام آزادی پسندوں بالخصوص تحریک حریت کے رہنمائوں اور کارکنوں کو بھارتی فورسز کے ہاتھوں مظالم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہو ںنے کہا سیاسی ماحول کی گنجائش کے خاتمے، تنظیم کے تمام ارکان کو جیلوں میں ڈالنے اور عدالتوں کی طرف سے انصاف کے قتل کے بعد ہمارے لئے اس بات کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے کہ ہم مزید پختہ عزم اور جرات کے ساتھ کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کریں۔ انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے وہ جیل ، انٹروگیشن، گھریلو مشکلات،جسمانی اور ذہنی تشدد کے باوجود آزمائش کی گھڑیوں میں اپنے موقف پر ڈٹے رہے لیکن گزشتہ آٹھ سال سے گھر میںمسلسل نظربندی اور پارٹی ساتھیوں سے ملنے پر پابندیوں کی وجہ سے تنظیم کا کام متاثر ہوا ہے اس لئے وہ اپنی مرضی سے چیئرمین شپ چھوڑ رہے ہیں اورشوریٰ کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ جلد کسی متبادل کا انتظام کرے۔ انہو ںنے تنظیم کی نئی قیادت کو مکمل تعاون دینے اور اس کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔تحریک حریت کے ترجمان نے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہاکہ تحریک حریت کی مجلس شوریٰ نے ایک متفقہ فیصلے میںمحمد اشرف صحرائی کو تنظیم کا عبوری چیئرمین مقرر کیا ہے۔