معیشت میں تنزلی اور مہنگائی میں اضافہ ہوا، شیخ آفتاب احمد

اٹک(ڈیلی اٹک نیوز) سابق وفاقی وزیر و سینئر نائب صدر مسلم لیگ ن پنجاب شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ
موڈیز کی رپورٹ سے خوشحالی کے دعوے دار اٹک بازار،راجہ بازار،قصہ خوانی بازار،انار کلی بازار، سیالکوٹ،فیصل آباد،کوئٹہ اور کراچی کے بازاروں میں جا کر اشیاء کی قیمتوں کا بھی جائزہ لیں تاکہ آپ کو اندازہ ہو کہ مہنگائی کس طرح عوام کا قتل کر رہی ہے۔ پاکستان اس وقت سخت مشکلات کا شکار ہے جس کی سب سے بڑی وجہ معیشت کی تنزلی اور مہنگائی میں اضافہ ہے ایسے حالات میں حکومت نے عوام پر کمال مہربانی کی اور اکٹھا دس ارب روپے کا ریلیف پیکج دے دیا جو اونٹ کے منہ میں زیرے جتنا بھی نہیں ہے۔ بہترین معالج وہی ہوتا ہے جو بروقت مرض کی تشخیص کرئے اور اس کا علاج کرئے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ن لیگ کی حکومت میں حالات بہتر سے بہترین کے سفر پر گامزن تھے پھر اچانک ایسا کیا ہو گیا کہ اربوں ڈالر قرضے لینے کے باوجود، سینکڑوں ٹیکس عائد کرنے کے بعد بھی مہنگائی کا طوفان تھم نہ سکا۔ آئی ایم ایف سے قرضے تو ہر حکومت لیتی ہے امریکہ جیسا ملک آئی ایم ایف کا مقروض ہے ۔لیکن کیا وہ بھی آپ کی طرح اپنے ملک میں مہنگائی اور ٹیکس کی پالیسی آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بناتے ہیں آپ نے تو خزانہ، سٹیٹ بنک،ایف بی آر سمیت اہم مالیاتی اداروں پر تعیناتی ہی آئی ایم ایف کی سفارش پر کر رکھی ہے۔۔ عوام مہنگائی کے ہاتھوں رو رہے ہیں اور آپ کے وزراء اور مشیروں کی فوج ملکی وسائل کو سفید ہاتھی کی طرح کھا رہے ہیں جن کا کام صرف دو خاندانوں
کے خلاف زہر افشانی کرنا ہے۔ ن لیگ کے دور میں چینی باون روپے کی تھی آج اسی روپے فی کلو پہنچ گئی ہے آخر ایسی کیا وجہ بنی کے فی کلو کے ساتھ تیس روپے کا اضافہ کیا گیا۔اب لوڈنگ کے قوانین میں ترامیم کر کے اٹھائیس ٹن کو چودہ ٹن کر دیا گیا جس سے اشیاء ضروریہ کے نرخوں میں مزید اضافہ ہو گا۔آج تک کوئی ایک بھی ایسا اقدام نہیں یا کوئی ایک بھی ایسا میگا پروجیکٹ نہیں جو موجودہ حکومت نے شروع کیا ہو جس سے عوام کو بہتری کی امید لگی ہو۔ جس نواز شریف اور شہباز شریف پر آپ کرپشن کے جھوٹے الزامات عائد کرتے ہیں ان کے کام تاریخ کا سنہرا باب ہیں جن کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
