آئینی ترامیم سے دیگر امور میں بہتری آئیگی،فاروق حیدر

مظفرآباد(وقائع نگار )وزیر اعظم آزادکشمیرراجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ اسلام بنی نوع انسانیت کے لئے امن اور سلامتی کا دین ہے اس میں انتہا پسندی و انتشار کی کوئی گنجائش نہیں ۔جہاد کے اعلان کا حق صرف ریاست کو حاصل ہے ۔افضل جہاد اپنے نفس کے خلاف ہے۔نبی کریم کی ذات تمام جہانوں کیلئے رحمت اور تمام خوبیوں کا مجموعہ ہے ۔اللہ کے قرب کا ذریعہ رسول کی ذات اور ان کی تعلیمات ہیں ۔ختم نبوت کے حوالے سے آئین میں ترمیم کے بعد جس انداز علمائے کرام ومشائخ عزام نے عز ت افزائی فرمائی اس پر ان کا شکر گزار ہوں ۔ختم نبوت کا سپائی ہونے کا خطاب میرے لئے باعث افتخار ہے۔ علماکرام اور مداس میں پڑھنے والے لوگ عام لوگ نہیں ہوتے ان کی جانب سے جو محبت اور خلوص دیا گیا وہ ہمیشہ یاد رہے گا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ ن اور علماء ومشائخ ونگ مظفرآباد ڈویژن جامعہ اسلامیہ برکاتیہ میں اپنے عزاز میں دیئے گئے استقبالیہ کی تقریب سے کیا خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر صاحبزادہ محمد سلیم چشتی ،پیر حمید الدین برکتی ،علامہ عبیداللہ فاروقی ،زاہد امین کاشف ،مولا نامحمد اسحاق نقوی ودیگر نے خطاب کیا ۔وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ جب پہلے بھی آزادکشمیرقانو ن ساز اسمبلی میں ختم نبوت کی قراردادپیش کرنے پر بہت دباتھا منتخب حکومت کے خلاف سازش کی گئی عدم عتماد کی تحریک لائی گی اور اس کے بعد آزادکشمیرقانون ساز اسمبلی سے اختیارات بھی واپس لے لئے گے ۔مگر اب آئین میں ترمیم ہوئی تو انشااللہ باقی تمام امور میں بھی بہت بہتری آئے گی ۔اس سارے عمل میں مجیر ایوب مرحوم کی قرار داد کوآگے لے کرچلنے کے حوالے سے ممبر ان قانون ساز اسمبلی راجہ محمد صدیق خان اورپیر سید علی رضا بخاری نے ہمت کی ۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت آدمی سمجھتا ہوں کہ مجھ سے زیادہ اہل اور بڑے لوگ اس منصب پر فائز رہے مگر اللہ نے مجھے یہ سعاد ت بخشی کہ آزادکشمیرکے اندر مسلم اور غیر مسلم کے فرق کو ہمیشہ کیلئے واضح کردیا ۔فتنہ مرزایت بہت خطر ناک فتنہ ہے جو ہمیشہ چھپ کر وار کرتے ہیں ۔اگرچہ اس سے پہلے قوانین موجود تھے مگر ان کو آئینی تحفظ حاصل نہیں تھا ۔ اب یہ آئین باضابطہ طور آئین کا حصہ بن گیا ہے ۔اللہ رب العزت نے ہمار ے نصیب میں یہ بات بھی لکھی کہ ہم نے شریعت کورٹ کے حوالے علماکرام کی تجاویر مانتے ہوئے شریعہ اپیلٹ بنچ تشکیل دیا ۔اہل سنت کی ایک بہت بڑی شخصیت حضرت پیر حسین الدین شاہ کی جانب سے جو عزت آفزائی ملی اور ختم نبوت کے سپائی کا جو خطاب ملا وہ میری زندگی کا سرمایہ ہے ۔وزارت عظمی غیر دائمی تھی مگریہ خطاب مرتے دم تک میرے ساتھ رہے گا ۔
