ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے برطرف کردیا

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے پارٹی کے سربراہ فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے برطرف کردیا۔ بہادرآباد میں ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے منحرف اراکین کا اجلاس ہوا جس میں فاروق ستار کوکنوینر کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ رابطہ کمیٹی کے رکن کنور نوید جمیل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فاروق ستار کو بطور کنوینر فارغ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے علم میں لائے بغیر پارٹی آئین تبدیل کیا، فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کو بتائے بغیر ارکان کو چننے اور فارغ کرنے کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ ایم کیو ایم پاکستان میں تنظیمی بحران کی وجہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کی جانب سے کامران ٹیسوری کا نام سینیٹ امیدوار کے طور پر سامنے آنے پر پارٹی میں اختلافات نے سر اٹھایا جو بحران کی صورت میں تبدیل ہوگیا۔ رابطہ کمیٹی نے 6 فروری کو اجلاس بلاکر کامران ٹیسوری کی نہ صرف 6 ماہ کے لیے رکنیت معطل کی بلکہ انہیں رابطہ کمیٹی سے بھی خارج کیا جس کے بعد فاروق ستار نے اجلاس کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے اجلاس میں شریک رہنماؤں کی رکنیت کچھ دیر کے لیے معطل کی۔ رابطہ کمیٹی کے رکن خالد مقبول صدیقی کے مطابق روایات، اصولوں اور طریقہ کار کے تحت رابطہ کمیٹی نے ترتیب وار 6 امیدواروں کے نام سینیٹ کی نشستوں کے لیے تجویز کیے تھے۔ جن میں ڈپٹی کنوینئر نسرین جلیل، فروغ نسیم، امین الحق، شبیر قائم خامی، عامر خان اور کامران ٹیسوری شامل تھے۔ خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ فاروق ستار کی خواہش تھی کہ ہم دو ساتھیوں کی قربانیاں دے کر ہر حالت میں کامران ٹیسوری کو سینیٹ کا امیدوار بنائیں۔