ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے مضبوط قیادت کی اشد ضرورت ہے: شیخ آفتاب احمد

اٹک: مرکزی رہنما مسلم لیگ ( ن ) سابق وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ اس ملک کا بہترین مستقبل شریف خاندان کے ساتھ منسلک ہے وہی واپس آ کر اس ملک کی ہچکولے کھاتی معیشت کی کشتی کو کنارے پر لائیں گے آج لوگ ڈینگی کے ہاتھوں موت کے منہ میں ہیں جبکہ محمد شہباز شریف نے خادم اعلیٰ ہونے کا صحیح معنوں میں حق ادا کیا اور ڈینگی کو صفر تک پہنچایا لیکن آج حکمران بے بسی کی تصویر بنے نظر آ رہے ہیں مہنگائی کا گراف بلند سے بلند تر ہوتا جا رہا ہے اور معیشت ڈوب رہی ہے اسی صورتحال میں ملک کو مضبوط قیادت کی اشد ضرورت ہے اور اس وقت محمد نواز شریف اور محمد شہباز شریف سے بہترین قیادت کوئی بھی نہیں ہے قیام پاکستان سے بھی قبل محمد شریف صنعت کار تھے اور اس دور کی چند نمایاں کاروباری شخصیات میں شامل تھے جبکہ محمد نواز شریف نے سیاست کا آغاز 80 کی دہائی میں کیا تھا اور ان کی سیاسی زندگی کے آغاز سے ہی میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں ان خیالات کا اظہار شیخ آفتاب احمد نے ضلعی سیکرٹریٹ مسلم لیگ ( ن ) میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اتنی طویل رفاقت کے بعد میں پوری ذمہ داری سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ میں نے ان میں کبھی بھی کوئی کرپشن نہیں دیکھی بلکہ ان جیسا دیانتدار اور محب وطن شخص نہیں دیکھا آج جو لوگ کرپشن اور ڈیل کی باتیں کرتے ہیں انہیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ محمد نواز شریف اس شخص کا بیٹا ہے جو قیام پاکستان کے وقت بھی نمایاں کاروباری شخصیت تھا جب شریف خاندان کو اٹک قلعہ میں لایا گیا تھا تو مجھے ایک سال تک ان کے شب و روز کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جس پر میرے دل میں ان کی قدر و منزلت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا اور خصوصاً بیگم کلثوم نواز جیسی عظیم خاتون میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی آمریت کے اس مشکل ترین دور میں بھی صبر و استقامت کا پہاڑ تھیں اس دوران بھی میں نے کبھی اس کے منہ سے جنرل مشرف کے لئے اخلاق سے گری ہوئی بات نہیں سنی ایسے خاندان کے خلاف آج جب ٹاک شوز میں حکومتی وزراء ہرزہ سرائی کرتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے ابھی بھی اڈایالہ جیل میں ہونے والی ملاقاتوں میں محمد نواز شریف کو پاکستان کی خاطر ہی فکر مند دیکھا تو سر فخر سے بلند ہو گیا کہ جس شخص کی قیادت میں ہم پاکستان کو دنیا کا عظیم ملک بنانا چاہتے ہیں اس نے کبھی بھی اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا ۔
