ڈپٹی کمشنر اٹک کا ایکشن، لاک ڈائون کی خلاف ورزی پرمینابازار میں سینکڑوں دکانیں سیل

ڈپٹی کمشنر اٹک کا ایکشن، لاک ڈائون کی خلاف ورزی پرمینابازار میں سینکڑوں دکانیں سیل

اٹک (تحصیل رپورٹرڈیلی اٹک نیوز) اٹک کے گنجان آباد تجارتی مرکز مینا بازار کے تاجروں کی جانب سے لاک ڈائون کی خلاف ورزی پر ڈپٹی کمشنر اٹک علی عنان قمر ذاتی طور پر مینا بازار اٹک پہنچ گئے 

اور ان کے ہمراہ چیف آفیسر بلدیہ محمد عمران سندھو ، انچارج تجاوزات بلدیہ اٹک سردار اسد خان بھی موجود تھے بعدازاں پولیس تھانہ اٹک سٹی کی بھاری نفری جو کئی گاڑیوں میں سوار تھی اور بلدیہ کے درجنوں اہلکاروں کو بھی مینابازار بلا لیا گیا اور ڈپٹی کمشنر علی عنان قمر کی نگرانی میں مینا بازار کی دکانیں جو حکومتی پالیسی کے مطابق کھولی نہیں جا سکتیں ان سینکڑوں دکانوں کو سیل کر دیا گیا اس موقع پر انجمن تاجران مینا بازار کی جانب سے حکومت کی تاجر کش پالیسی کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر علی عنان قمر نے کہا کہ لاک ڈاءون کے سلسلہ میں بعض اداروں کی جانب سے شکایات کی گئیں کہ مینا بازار اٹک کے تاجر اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں جنہیں حکومت کی جانب سے اجازت دی گئی ہے وہ مقررہ اوقات میں اپنا کاروبار کر سکتے ہیں تاہم جن دکانوں کو کھولنے کی اجازت نہیں ہے انہیں چوری چھپے کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی انہیں بارہا اپیل کر کے کہا گیا کہ وہ اپنے کاروبار کھلے عام یا پوشیدہ طور پر بند رکھیں خلاف ورزی پر مجبوراً ایکشن لینا پڑ رہا ہے اس سلسلہ میں دکانیں سیل کی جا رہی ہیں ورنہ ہمیں خلاف ورزی کے مرتکب تاجروں کے خلاف بھاری جرمانے اور ایف آئی آر کرنی پڑتیں اسی وجہ سے دکانیں سیل کرنے کا سلسلہ کیا گیا ہے ۔

 

 

اس موقع پر انچارج تجاوزات بلدیہ اٹک سردار اسد خان نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر اٹک جو مینا بازار اٹک میں لاک ڈاءون کی خلاف ورزی کرنے والے تاجروں کے خلاف دکانیں سیل کرنے کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں ان کی موجودگی میں چیف آفیسر بلدیہ محمد عمران سندھو کی زیر نگرانی بلدیہ اٹک کا عملہ دکانیں سیل کر رہا ہے کیونکہ مینا بازار اٹک کے تاجروں کے خلاف کافی شکایات ہیں کہ وہ لاک ڈاءون کے حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 9 مئی تک لاک ڈاءون کے سلسلہ میں سیل کی جانے والی دکانیں سیل رہیں گی انہوں نے کہا کہ جن دکانوں کو حکومت کی جانب سے کھولنے کی اجازت ہے انہیں چھوڑ کر ہوزری ، کپڑا ، جوتے ، ریڈی میڈ ، منیاری ، کاسٹمیٹکس وغیرہ کی دکانیں سیل کی جا رہی ہیں جنہیں حکومت نے کھولنے کی اجازت نہیں دی انہوں نے کہا کہ مختلف تجارتی مراکز میں خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں اور ایف آئی آر کے اندراج کے باوجود تاجروں کی جانب سے خلاف ورزی کا سلسلہ دن بدن طول پکڑ رہا تھا جس پر مجبوراً ڈپٹی کمشنر اٹک کے حکم پر یہ قدم اٹھانا پڑا ہے جب تک آئندہ احکامات نہیں آئیں گے یہ دکانیں اسی طرح سیل رہیں گی اور خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا ایف آئی آر درج کرانے کے علاوہ جیل یاترا بھی کرائی جائے گی اس موقع پر انجمن تاجران مینا بازار کے تاجروں نے شدید احتجاج کیا اور تاجر رہنما اسد لکی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن سسٹم کے تحت تاجر اپنی دکانوں سے رات گئے سامان نکال کر صارفین کو ان کے گھروں تک پہنچا رہے ہیں اور تمام دکانوں میں یو پی ایس اور بجلی کا سامان ورکنگ حالت میں موجود ہے اور بعض دکانوں میں تاجروں کی کیش بھی پڑی ہے اس تمام صورتحال میں ڈپٹی کمشنر اٹک کی زیر نگرانی پولیس اور بلدیہ اٹک کی بھاری نفری کی موجودگی میں دکانیں سیل کرنا حکومت کی تاجر کش پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے آن لائن سسٹم کے تحت صارفین کو ان کے گھروں تک اشیاء فراہم کرنا تاجروں کا حق ہے دکانیں سیل کر کے ان کے اس حق سے انہیں محروم نہ کیا جائے سندھ حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے تاجروں کو آن لائن کاروبار کی اجازت دے رکھی ہے جبکہ اٹک میں ضلعی انتظامیہ کا یہ اقدام غریب تاجروں جن کی اکثریت کرایہ کی دکانوں میں اپنی گزر اوقات کر رہی ہے سے ان کے بچوں اور اہل خانہ کا رزق حلال چھیننے کے مترادف ہے انہوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ مینا بازار کے تاجروں نے ہمیشہ حکومت کے فیصلوں پر لبیک کہا ہے صرف مینا بازار کے تاجروں کی دکانوں کو سیل کرنا ظلم اور زیادتی کی انتہا ہے اس کاروائی کو روکا جائے یہ خصوصی کاروائی صرف مینا بازار کیلئے ہے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے سینیٹائزر خود فراہم کریں گے اور دیگر حکومتی احکامات پر بھی عملدرآمد کیا جائے گا لہٰذا یہ سیلیں توڑ دی جائیں اور تاجروں کو آن لائن کاروبار کا حق دیا جائے اس موقع پر تاجروں نے اکھٹا ہو کر احتجاج بھی کیا اور کہا کہ ہمارے ساتھ مذاکرات کیے جائیں اور ہ میں چاہے مختصر وقت دیا جائے تاہم دو وقت کی روٹی کمانے کیلئے دو سے چار گھنٹے دکانیں کھولنے کی اجازت دے دی جائے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں نہ تو ہم احتجاج کر سکتے ہیں اور نہ ہی دھرنا دے سکتے ہیں کیونکہ یہ سوشل ڈسٹینس کی خلاف ورزی ہو گا ۔