بچوں کی خاطر تحریک کیساتھ بیوفائی نہیں کی جاسکتی:صلاح الدین

سری نگر(کے پی آئی)متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین کے فرزند سید شاہد یوسف کو نئی دہلی میںعدالتی تحویل کے تحت تہاڑ جیل بھیج دیا گیا ہے ۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے سید شاہد یوسف کو جعلی مقدمے میں گرفتار کر رکھا ہے ۔سید صلاح الدین نے سید شاہد یوسف کی گرفتاری پر اپنے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکے اہل خانہ کو باربار صرف انکی وجہ سے ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان سے انتقام لیا جارہاہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا میں نے 28سال قبل اپنے اہل خانہ کو اللہ کے حوالے کرکے یہ راستہ اختیار کیا ہے،تب سے لیکر آج تک انکی تربیت و پرورش میں انکا کوئی کردار نہیں،وہ جو کچھ بھی ہیں اور انہوں نے جو کچھ بھی حاصل کیا ہے یہ انکی ذاتی کاوش اور انکی مرحوم بہادر ماں کی سرپرستی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کبھی ٹیلفونک رابطہ ہوتا ہے تو وہ صرف خیرو عافیت اور مزاج پرسی کی حد تک ہی ہوتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ وہ اس نازک مرحلے پر اپنے اہل خانہ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے اور نا ہی وہ اپنے بچوں کی خاطر لاکھوں کٹی ہوئی جوانیوں اور ہزاروں لٹی عصمتوں سے سینچی ہوئی تحریک کے ساتھ بے وفائی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا میں ظلم وبربریت کی صورتحال میں اپنے اہل خانہ کو صبرو استقامت کا مظاہرہ اور اللہ کی طرف رجوع کرنے اور مدد مانگنے کی تاکید ی وصیت کرتا ہوں۔ دریں اثنا نئی دہلی کی ایک عدالت نے تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے)کے ہاتھوں گرفتار کئے گئے متحدہ جہاد کونسل چیئرمین سید صلاح الدین کے فرزند سید شاہد یوسف کو عدالتی تحویل کے تحت تہاڑ جیل بھیج دیا ہے ۔ سید شاہد یوسف کو 24اکتوبر کو نئی دلی طلب کرنے کے بعد باضابطہ طور گرفتار کرلیا گیا ہے۔ بدھ کو ریمانڈ ختم ہونے پر شاہد یوسف کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پونم اے بمبا کی عدالت میں پیش کیاگیا اور اس موقعہ پر این آئی اے وکیل نے عدالت سے کہا کہ شاہد یوسف کی مزید پوچھ تاچھ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جس کے بعد شاہد یوسف کو27 نومبر تک عدالتی تحویل میں رکھنے کے احکامات صادر کئے گئے ۔ انہیں دلی کی تہاڑ جیل منتقل کیا گیا ہے۔
