ریاست میں کھڑے ہو کر اداروں پر تنقید برداشت نہیں کرینگے،کشمیریوں کے قاتل مودی کا یار بتائے کیا پیغام دینے آرہا ہے،متحدہ اپوزیشن

اسلام آباد (دانش ارشاد) یوم یکجہتی کے موقع پر مودی اور جندال کا میزبان کشمیریوں کو مایوسی کے سوا کیا پیغام دے سکتا ہے؟میاں نواز شریف کو جوائنٹ سیشن میں لانے کی خواہش رکھنے والوں کو معلوم ہونا چاہئے اسمبلی کسی کی جاگیر ہے نہ ہی بیت المال ۔ نواز شریف کی حالت مایوس اور شکست خوردہ شخص کی ہے ان کے پاس کشمیریوں کو دینے کیلئے کوئی اچھا پیغام نظر نہیں آ رہا، وہ اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا کر مودی کیلئے اچھا پیغام دے سکتے ہیں۔ یکجہتی کے موقع کو متنازع نہ بنایا جائے۔ شیخ مجیب الرحمن کو آئیڈیل کہنے والے نے مظفرآباد میں اگر اداروں کو نشانہ بنایا گیا تو سرحد پار کیا پیغام جائے گا؟نواز شریف کشمیر آنے سے پہلے بتائیں کہ محمود اچکزئی کو اسرائیلی وزیر اعظم کے پاس کیوں بھیجا؟سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دورہ مظفر آباد پر متحدہ اپوزیشن کا ردعمل۔ پانچ فروری کو میاں نواز شریف کے دورہ مظفرآباد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر چوہدری یسین کا کہنا ہے کہ پانچ فروری کو میاں نواز شریف کا مظفرآباد جانا درست عمل نہیں ہو گا۔ جس طرح کا رویہ ان کا پاکستان میں ہے وہ رویہ آزاد کشمیر میں اختیار کیا گیا تو سرحد پار کیا پیغام جائے گا؟ ان کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف نے وہاں بھی مایوسی ہی پھیلانی ہے تو وہ نہ جائیں کیونکہ ہندوستان پہلے ہی بہت مایوسیاں پھیلا چکا ہے۔ چوہدری یسین کا کہنا ہے کہ جس شخص کا مودی مہمان بنتا ہے، جندال سے خفیہ مالاقاتیں ہوتی ہیں وہ شخص یکجہتی کے موقع پر کیسا پیغام دے گا ؟ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قیادت ہمارے لئے قابل احترام ہے لیکن کشمیر میں متنازع رویہ اختیار کرنا درست نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف اس وقت مایوس اور شکست خوردہ نظر آ رہے ہیں اور ان کے پاس کشمیریوں کو دینے کیلئے کوئی اچھا پیغام نظر نہیں آ رہا۔ سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان کا کہنا ہے کہ سننے میں آ رہا ہے کہ میاں نواز شریف کو جوائنٹ سیشن سے خطاب کرنے کی تیاریاں کروائی جا رہی ہیں تو ایسا سوچنے والوں کو معلوم ہونا چاہئیے اسمبلی کسی کی جاگیر ہے نہ ہی بیت المال ، جہاں ہر ایک گھس جائے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی سیاسی راہنما ہو اسے آزاد کشمیر میں خوش آمدید کہتے ہیں تاہم میاں نواز شریف کا اس وقت جو رویہ ہے اور وہ اداروں کوتنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہ آزاد کشمیر میں بھی اختیار کیا گیا تو یہ کشمیریوں کیلئے تو نہیں لیکن مودی کیلئے اچھا پیغام ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف اس وقت شیخ مجیب کو آئیڈیل قرار دے رہے ہیں،محمود اچکزئی کے نظریے کو اپنا نظریہ قرار دے رہے ہیں اور ان کو اسرائیل کے وزیر اعظم کے پاس بھیجا جو کشمیریوں کے قتل عام کیلئے ہندوستان کو اسلحہ فراہم کرتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کشمیریوں سے یکجہتی پہلی مرتبہ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1944 میں کی تھی جب وہ سری نگر میں مسلم کانفرنس کے مہمان بنے تھے اور قائد اعظم کا ''کشمیر پاکستان کی شہ رگ قرار دینا'' ہی سب سے بڑی یکجہتی ہے۔اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے اور پھر قاضی حسین احمد نے 1990 میں کشمیریوں سے یکجہتی کی جس کا تسلسل ابھی تک چل رہا ہے۔
تحریک انصاف کے ممبر اسمبلی ماجد خان کا کہنا ہے کہ پانچ فروری کو کشمیریوں کو لالی پاپ دیا جائے گا تاکہ آئندہ انتخابات میں پاکستان میں مقیم کشمیریوں کی ہمدردی حاصل کی جا سکے۔یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر نواز شریف کے دورہ مظفرآباد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کی قیادت کو آزاد کشمیر میں خوش آمدید کہتے ہیں تاہم اگر وہاں بھی اداروں کو ہی تنقید بنانا ہے تو یہ رویہ ناقابل برداشت ہو گا اور مظفرآباد میں تنقیدی رویہ اختیار کرنا پاکستان کے کشمیر موقف کی نفی ہو گی۔یہ جندال اور مودی کے دوست ہیں ایسے میں کشمیریوں کو کیا پیغام دیں گے اس لئے ان کو چاہئیے کہ یکجہتی کے موقع کو متنازع نہ بنایا جائے۔
اپوزیشن