اگر اس مرتبہ نواز شریف کو چھوڑ دیا تو اللہ بھی ہمیں معاف نہیں کرے گا، زرداری

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ میں نے پچھلے جسلے میں کہا تھا ہم آپ کی حکومت گرا سکتے ہیں ہٹاسکتے ہیں ہم صرف درست وقت کا انتظار کررہے ہیں کہ جمہوریت کو نقصان نہ ہو۔
لاہور کے موچی گیٹ پر ہونے والے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میاں صاحب اب بلوچستان میں آپ کی حکومت نہیں رہی۔
موجودہ حکومت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنی بادشاہت کو مضبوط کرنے کیلئے آپ نے پاکستان کی جڑیں کاٹیں۔
آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اگر اس مرتبہ نواز شریف کو چھوڑ دیا تو اللہ بھی ہمیں معاف نہیں کرے گا، اب ان کو نکالنا پڑے گا، اب چھوڑنا نہیں، یہ ہر چیز پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چار سال میں تین گنا قرضہ لیا گیا، اسے کون اتارے گا؟ میاں صاحب قومی چور ہیں۔
پی پی پی شریک چیئرمین نے کہا کہ میاں صاحب کشمیر جاکر اگر کشمیر کے بارے میں بات نہیں کرنی تو وہاں جاتے ہی کیوں ہیں؟
انہوں نے کہا کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے بھارت کے ساتھ ایک معاہدہ کرلیا تھا جس کی کاپی میرے پاس موجود ہے تاہم فوج راضی نہ ہوئی اور جب اسے دکھایا گیا تو فوج کے جنرلز اٹھ کر چلے گئے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عدالت میں کہا کہ مشرف کے باہر جانے پر کوئی اعتراض نہیں، کہہ رہے ہیں مشرف کو ہم لائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اور سینیٹ سے ایک بل منظور کروالیا ہے جس کے بعد عام انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوسکتی، وعدہ کرتا ہوں آئندہ الیکشن شفاف ہوں گے۔
اس سے قبل جلسے میں لوہے کا پول گرگیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے جلسہ عام میں کارکن لوہے کے پول پر چڑھ گئے جس کے باعث پول توازن برقرار نہ رکھ سکا اور گڑ پڑا۔
پول گرنے سے متعدد کارکن زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے کشمیر ڈے کی مناسبت سے لاہور میں موچی گیٹ گراؤنڈ میں جلسہ جاری ہے۔ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری و دیگر رہنما اسٹیج پر موجود ہیں۔
جلسہ گاہ کے اندر اور باہر بڑے بڑے پینافلیکس بھی آویزاں کیے گئے ہیں جن پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے نعرے درج ہیں۔
لاہور کا تاریخی موچی گیٹ گراؤنڈ ایک دور میں بڑی بڑی تحریکوں کاآغاز اسی گراؤنڈ سے ہوا کرتا تھا۔
جلسے سے سابق صدر آصف علی زرداری سمیت پیپلز پارٹی کے دیگر مرکزی قائدین خطاب کریں گے جب کہ کارکنوں کو دوپہر میں جلسہ گاہ پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
