آزادکشمیر سے کسی کو قیمتی پتھر نکالنے نہیں دینگے:فاروق حیدر

اسلام آباد(خبرنگارخصوصی)آزادجموں وکشمیر کے وزیراعظم راجہ محمدفاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ جکومت کی پالیسیوں پر لوگوں کا اعتماد بحال کرنا میری ترجیح ہے تاکہ ریاست میں بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی جا سکے۔سرمایہ کاری بورڈ کا قیام عمل میں آچکا اہل افراد کا انتخاب کر کے معدنی و صنعتی ترقی کی راہ ہموار کی جائے گی۔پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے ذریعے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں۔معدنی شعبے میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے 12 ارب ڈالر تک کا منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔اے کے ایم آئی ڈی سی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کروں گا۔وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار کشمیر ہاوس اسلام آباد میں آزادکشمیر معدنی و صنعتی ترقیاتی کارپوریشن کے زیر اہتمام قیمتی پتھروں کی دو روزہ نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوے کیا۔اس سے پہلے وزیراعظم نے دو روزہ نمائش کا افتتاح کیا۔اس موقع پر وزیر صنعت وحرفت محترمہ نورین عارف،وزیر بحالیات ناصر ڈار،رکن اسمبلی نسیمہ وانی ،رکن کشمیر کونسل پرویز اختر اعوان ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل فرحت میر،سیکرٹریز راجہ طارق مسعود ،راجہ عباس ،ایم ڈی زاہد حسین چوہدری،پریس سیکرٹری راجہ وسیم خان،معاون ناظم اطلاعات خواجہ عمران الحق سمیت حکام موجود تھے۔وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے قیمتی پتھروں کی نمائش کو بہترین کاوش قرار دیتے ہوے وزیر حکومت محترمہ نورین عارف کی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے انویسٹمنٹ بورڈ بنایا ہے تاکہ ریاست کو معاشی خودکفالت کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے جدید ترہن مارکیٹنگ ٹیکنیکس اپنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جلد ہی ایک سرمایہ کاری کانفرنس منعقد کی جائے گی تاکہ آزادکشمیر میں ان شعبوں کی نشاندہی کی جا سکے جن میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی ذات کے خول سے باہر نکل کر ٹکر اور خبر کے جھنجٹ سے نکل کر ملک و قوم کی فکر کرنا ہو گی اور ملک و ملت کے لئے زیادہ سے زیادہ جذبے سے کام کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ معدنی شعبے میں سرمایی کاری کو محفوظ بنانے کے لئے اسمبلی سے قانون سازی کی ضرورت محسوس ہوئی تو کریں گے۔انہوں نے کہا کہ قیمتی معدنیات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے بھی لائحہ عمل مرتب کرنے کہ ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے کسی بھی حصے سے کسی کو غیر قانونی طور پر قیمتی پتھروں کو نکالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے محکمے کے شرکاء  پر زور دیا کہ وہ مسابقت کے جدید طریقوں کو اپنا کر اسے منافع بخش بنائیں۔راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ قدرتی وسائل پر سب سے زیادہ حق وہاں کے لوگوں کا ہوتا ہے،اس آمدن کو صرف چند افراد کے منافع کے بجائے معاشرے کی بہتری کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اپنی مٹی سے محبت کریں اور اپنے اوپر اعتماد رکھیں یہی کامیابی کی کنجی ہے۔وزیر حکومت محترمہ نورین عارف نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا کہ ان کی سرپرستی میں محکمہ آگے بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ معدنی پالیسی 1995میں بنی تھی مگر اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔انہوں نے کہا کہ وسائل کی عدم دستیابی کام میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے یہ وہ واحد محکمہ ہے جو اپنے اوپر لگایا گیا سرمایہ حکومت کو دوگنا واپس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے میڈیا سے بھی کہا کہ وہ اپنے قلم و کیمرے کے ذریعے آزادکشمیر کے معدنی وسائل کو اجاگر کرے۔انہوں نے کہا کہ صنعتی و معدنی ترقی کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے بیروزگاری کو ختم کرنے میں بڑی مدد ملے گی،اور پبلک سیکٹر پر بوجھ کم ہو گا۔اس سے پہلے سیکرٹری محکمہ راجہ طارق مسعود نے اپنی بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو نمائش کے بارے میں بتایا۔دو روزہ نمائش کے دوران قیمتی پتھروں کی نیلامی۔بھی کی جائے گی۔