اٹک: ٹریفک پولیس کے ایک ماہ میں 2200 سے زائد چالان 

اٹک (ڈیلی اٹک نیوز ) ٹریفک پولیس اٹک نے ایک ماہ کے دوران 2200 سے زائد چالان کر کے سرکاری خزانے میں 11 لاکھ روپے سے زائد رقم ، تیز رفتاری پر 3 ایف آئی آر ، خطرناک ڈرائیونگ پر 6 لائسنس اور روٹ پرمٹ کی خلاف ورزی پر 5 روٹ پرمٹ کینسل کر دیئے یہ بات ڈی ایس پی ٹریفک اٹک مسرت عباس نے اٹک کے معروف سینئر صحافی سید فاروق حسن بخاری سے خصوصی ملاقات کے دوران کیا اس موقع پر انسپکٹر ٹریفک پولیس عدیل شہزاد ، انچارج ٹریفک ایجوکیشن انسپکٹر ٹریفک پولیس محمد عثمان اور چیئرمین اٹک پریس کلب رجسٹرڈ ندیم رضا خان بھی موجود تھے ڈی ایس پی ٹریفک نے بتایا کہ عوام کی سہولت کیلئے ڈی آئی جی ٹریفک پولیس ڈاکٹر اختر عباس ، اور ڈی پی او سید شہزاد ندیم بخاری کے حکم پر موٹر سائیکل اور موٹر کار کا ٹیسٹ اب ہفتہ میں 2 دن بروز سوموار اور منگل جبکہ مہینے کی پہلی 3 جمعرات ایل ٹی وی اور آخری جمعرات ایچ ٹی وی اور پی ایس وی ٹیسٹ لیا جائے گا جبکہ فائل ٹیسٹ والے دن صبح 8 سے 9 بجے تک جمع کی جائے گی اس سلسلہ میں ضلع بھر کے رہائشی مزید معلومات کیلئے ٹریفک آفس کے فون نمبر 0579316006 پر رابطہ کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہیوی ٹریفک کے اٹک شہر میں داخلے پر صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اس سلسلہ میں تین میلہ چوک پولیس پکٹ پر ٹریفک اہلکار بھی تعینات کر دیئے گئے ہیں رمضان المبارک میں رمضان بازار کے اطراف میں بھی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں پارکنگ مناسب فاصلہ پر بنائی جائے گی ٹریفک کی روانی کیلئے اہلکار ہمہ وقت تعینات رہیں گے پہلے ایک ماہ میں ہونے والے ٹیسٹوں میں 288 لائسنس بن سکتے تھے اب یہ تعداد بڑھ کر 750 ہو گئی ہے جبکہ کمرشل لائسنس جو ایک ماہ میں 4 دفعہ منعقد ہو گا اس کی تعداد بھی 192 ہو گئی ہے انہوں نے فائل جمع کراتے وقت میڈیکل کی شرط ختم کر دی ہے اب صرف شناختی کارڈ اور 60 روپے کا ٹکٹ لگا کر لرننگ بنایا جا سکتا ہے 50 سال سے زائد عمر کے افراد کیلئے میڈیکل سر ٹیفکیٹ لگانا ضروری ہے 42 دن بعد فائل ٹیسٹ کے روز صبح 8 سے 9 بجے تک جمع ہو گی تحریری ٹیسٹ کو انتہائی آسان بنا دیا گیا ہے جس کے تحت موٹر سائیکل کا لائسنس بنانے والے 16 میں سے 12 امیدوار بغیر کسی سفارش کے اپنی صلاحیت پر پاس ہو گئے ہیں جو ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کا ٹریفک پولیس پر اعتماد کا مظہر ہے انہوں نے کہا کہ ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کیلئے وہ دفتری اوقات کار کے دوران موجود ہوتے ہیں اور کوئی بھی شہری ان سے بلا ججھک ملاقات کر سکتا ہے۔