حکومت کی جانب سے بلدیاتی الیکشن کا معاملہ مزید الجھنے لگا

اسلام آباد(حسیب شبیر چوہدری)مسلم لیگ(ن )حکومت کی جانب سے بلدیاتی الکیشن کا معاملہ مزید الجھنے لگا،کارکن حکومت کی جانب سے واضح پالیسی نہ دئیے جانے پر شدید مایوس،کئی اداروں میں تعیناتیاں نہ کی جا سکیں،عوام کو شدید مسائل کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے،حکومت بار بار بلدیاتی الیکشن کا لولی پاپ دے کر کارکنوں اور عوام کو صرف تسلیاں دے رہی ہے،ایک وزیر اعظم اکتوبر میں الیکشن کی بات کرتاہے اور قائم مقام وزیر اعظم کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ  بلدیاتی الکشن کی کوئی تاریخ نہیں دی جا سکتی۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ(ن) کی جانب سے بلدیاتی الیکشن صرف ایک تسلی کا نام ہے تاہم کارکن اس پالیسی سے سخت ناراض ہیں اور حکومت پر تنقید کر رہے ہیں کہ  دعوؤوں کے علاوہ کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔عوامی حلقوںمیں بحث چھڑگئی ہے کہ فاروق حیدر اور راجہ نثار کے بلدیاتی الیکشن کے مختلف بیانات ہمیں صر ف تسلیاں ہی نظر آ رہی ہیں عملی اقدامات نہ کئے جانے پر اب اپنی ناکامی چھپانے کیلئے ادھر ادھر کے بیانات پر گزارہ کیا جا رہا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ جب تک الیکشن کے وسائل موجود نہیں عوام کو مسائل میں نہ دھکیلا جائے بلدیاتی اداروں کو فعال بنانے کیلئے صوابدیدی تقرریاں کر کے عوام کے مسائل حل کئے جائیں ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جو رفتار ہے اس سے لگ رہا ہے کہ ابھی دو سال مزید بلدیاتی الیکشن ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔