مشترکہ حریت قیادت کا نوہٹہ جامع مسجد کے باہر پر امن احتجاجی مظاہرہ
سرےنگر31جنوری(کے ایم ایس)
مقبوضہ کشمیرمیں مشترکہ حریت قیادت کے زیراہتمام آج نوہٹہ جامع مسجد کے باہر پر امن احتجاجی مظاہر ہ کیاگیا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محمد یاسین ملک نے مظاہرے کی قیادت کی جبکہ قابض انتظامیہ نے سیدعلی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو مسلسل گھروں میں نظربند رکھ کر مظاہرے میں شرکت نہیں کرنے دی ۔ مشترکہ حریت قیادت نے اس موقع پر جامع مسجد شوپیاں میں نماز جمعہ ادا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ شوپیاں میں نہتے کشمیریوں کے قتل عام کے خلاف آواز بلند کی جائیگی اور نہتے کشمیری عوام خاص طورپر نوجوانوںکے قتل کے خلاف شوپیاں میں میں احتجاج کیاجائیگا۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ شوپیاں میں نماز جمعہ کے بعد منعقد ہونیوالے جلسہ میں بڑی تعداد میں شرکت کریں۔ مظاہرے کے بعد یاسین ملک نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیدعلی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل گھروں میں نظربندی کی شدید مذمت کی۔ انہوںنے کہاکہ قابض بھارتی فورسز جنوبی کشمیرمیں کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے اور بزرگوں ، خواتین اور بچوں کو گھروں سے نکال کر شناختی پریڈ کرائی جاتی ہے اور پوچھ گچھ کی جاتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ قابض فوجی کشمیریوں کو اپنے وطن سے نکل جانے کا کہہ رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کشمیری تنازعہ کشمیر کے فریق اول ہیںاور بھارتی فوجیو ں کو کشمیرمیں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ یاسین ملک نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں رائج آرمڈ فورسز اسپیشل پاورزایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت بھارتی فوجیوںکو نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ حاصل ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نام نہاد کشمیر اسمبلی میں ڈرامہ رچایاجارہا ہے اور اسمبلی کے رکن بھارت کے فوجی تسلط کو طول دینے کا جواز پیش کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھارت قتل و غارت اور ظلم و تشدد سے کشمیریوں کی حق پرمبنی جدوجہد آزادی کو کمزور یا ختم نہیں کرسکتا ۔مظاہرے میںنور محمد کلوال ،یاسمین راجہ ،محمد یوسف نقاش ،عمرعادل ڈار ، بشیر کشمیری ، فاروق احمد سوداگراوردیگر نے مظاہرے میں شرکت کی KMS-09/Y
