ڈی ایچ کیو ہسپتال آٹھ مقام کا آپریشن تھیٹر 5سال سے بند،لاکھوں کی مشینری تباہ
نیلم ( راجہ ابریز سے) کروڑوں روپے کی لاگت سے ڈی ایچ کیو ہسپتال آٹھمقام کی عمارت تعمیر کی گئی ہے جس میں لاکھوں روپے کی مشینری پڑی گل سڑ رہی ہے 5سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود آپریشن تھیٹر کو نہ چلایا جا سکا ہے اور نہ ہی ہسپتال میں سرجن ڈاکٹر او ر گائنا کالوجیسٹ کی تعیناتی کوبھی عمل میں لایا جا سکا مسلم لیگ ن کی حکومت کے صحت کی سہولیات کی فراہمی کے جو دعوئے کئے ان کو پورا نہ کر سکے ۔مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرتے ہوئے مظفرآباد یا دوسرے اضلاع میں علاج معالجے کے لئے جانے پر مجبورتفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال آٹھمقام جو کہ کروڑوں کی مالیت سے تعمیر کیا گیا اور اس میںلاکھوں روپے کی مشینری لگائی گئی جو گل سڑ کر خراب ہو رہی ہے ، ہسپتال میں روزانہ 3سو سے زائد مریض او پی ڈی میں چیک اپ کرواتے ہیں لیکن اسپتال میں مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں ادویات کا کوٹہ انتہائی کم ہے جب کہ ہسپتال کا اوپریشن تھیٹر پانچ سالوں سے بند ہے ۔ہسپتال میں ادویات کے کوٹے میں اضافے اور سرجن کی تعیناتی کے لئے اسپتال انتظامیہ نے حکومت کو تحریک کی ہوئی ہے لیکن اس پرتا حال عملدرآمد نہ ہو سکا ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں یہاں سے مریضوں کو مظفرآباد یا دیگر اضلاع میں ریفر کر دیا جاتا جب کہ کئی مریض راستے میں دم توڑ جاتے ہیں محکمہ صحت نیلم کو حکومت کی جانب سرجن ڈاکٹر اور گائنا کالوجیسٹ نہ دینا زیادتی کے مترادف ہے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں عارضی طور پر گائنا کالوجیسٹ کی سہولت کو میسر کیا گیا تھا اطلاع کے مطابق مسلم لیگ ن کی حکومت آنے کے بعد گائنا کالوجیسٹ کو کسی دیگر اسپتال میں منسلک کر دیا گیا اور وادی نیلم کی عوام کو گائنا کالوجیسٹ سے محروم کر دیا جو کہ وادی نیلم کی عوام کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہے عوامی حلقوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان ،وزیر صحت ،چیف سیکرٹری آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وادی نیلم کی عوام پر رحم کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال آٹھمقام میں ڈاکٹرز کی کمی کو پورا کیا جائے اورسرجن ڈاکٹر ،گائنا کالوجیسٹ کی تعیناتی کرتے ہوئے ادویات کا کوٹہ پورا کیا جائے اور ہسپتال میں لگی لاکھوں کی مشینری کو خراب ہونے سے بچایا جائے ۔
