جنڈ: رنگلی میں کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے تقریب کا اہتمام

جنڈ(ظفر اقبال+ نمائندہ اٹک نیوز) آج ہم کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے جمع ہوئے ہیں آج اڑتالیس روز گز ر گے ہیں کشمیرکے لئے کوئی لائحہ عمل طے نہیں ہو سکا یہ بڑا ضروری ہے کہ ہم اس معاملے کی تہےہ تک جائیں بات کو سمجھیں اور سوچیں اور اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں ہم حکومت اور فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں کیا ہم خود بھی کچھ کر رہے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیئے ۔قائد اعظم نے کہا تھا کہ کشمیر شہ رگ ہے پاکستان کی اگر شہ رگ کٹ جائے تو مزید زندہ نہیں رہا جا سکتا کشمیر مسئلہ کے حل طلب رہنے تک ہمارا انڈیا سے دوستی کا کوئی رشتہ نہیں ہو سکتا ان خیالات کا اظہار جہاد افغانستان کے ہیرو جنرل (ر) حمید گل کی صاحبزادی چیئر پرسن جموں وکشمیر سولیڈر ٹی موومنٹ محترمہ عظمی گل نے گاؤں رنگلی تحصیل جنڈ میں قاضی بدر افتخار کے زیر اہتما م یجہتی کشمیر کی تقریب میں شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا انڈین فوج جس طرح کشمیریوں کو محصور کر کے رکھے ہوئے ہے اور ماؤں بہنوں کی عزتیں پامال ہو رہی ہیں یہ لمحہ فکریہ ہے ۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ انڈیا یہی پر نہیں رکے ہماری فوج ہی جس کی وجہ سے آج ہم موجود ہیں ۔ والد مرحوم کے مطابق کشمیر ہماری فرنٹ لائن ہے نہتے کشمیری قربانیا ں دے رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ تم جہاد کیوں نہیں کرتے کیونکہ موت تو تمھیں آکر رہے گی جہاد تو مظلوم کے لئے ہے اور مظلوم ہرمذہب اور ہر مسلک سے ہو سکتا جہاد اس وقت فرض ہو جاتا ہے جب مظلوم پر ظلم ہو رہا ہوکیا انڈیا ظالم نہیں ہے ؟کیا ہمیں انڈیا کو نہیں روکنا چاہئے ؟،جہاد تو ہم پر پہلے بھی فرض تھا اور اب 5اگست سے ہربچے بچے ، بوڑھے ،جوان ،مردو خواتین پر فرض ہو چکا ہے ، جہاد کے بہت سے طریقے ہیں آپ لوگوں میں جس کے بس میں جو ہے وہ کرے ان سے اظہار یکجہتی کر کے ان کے لئے فنڈ جمع کر کے، ان کے لئے جس انداز سے بھی مدد ہو سکتی کی جائے، اگر آپ کچھ نہیں کر کر سکتے کم از کم اپنے جذبات کا اظہار تو کر سکتے ہیں ان کو پیغام تو پہنچ جائے گا کہ ہم ان ک لئے کھڑے اور دعا گو ہیں ہماری حکومتیں مصلحتوں اور رفاقتوں کے چکر سے باہر نکلیں اور جہاد کا اعلان کریں ۔اب یہ بات چل رہی ہے کہ ثالثی ہونی چاہیئے تو میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ ثالثی ایک ایسا جال ہے جس میں ہم پہلے بھی کئی بارپھنس کر الجھ کر کرخوار ہو چکے ہیں 1948 میں جب مجاہدین سرینگر تک پہنچ گئے تھے تو اس وقت بھی ہمیں گھسیٹ ثالثی کی ٹیبل پر لے جایا گیا 1962میں بھی موقع آیا لیکن یہی گولی دی گئی جس کے بعد مذاکرات کے چھ دور ہوئے لیکن نتیجہ صفر رہا انیس سو پینسٹھ ۔ شملہ معاہدہ، تاشقند معاہدہ ودیگر واقعات ہمارے سامننے ہیں جہاں ہمیں ثالثی کے جال میں لے جا کر پھنسایا گیا اور خوار کیا گیا ۔ثالثی کا مقصد کیا ہے آپ کیا سمجھتے ہیںجس دن بھی ثالثی کی بات ہو گئی تو ہمیشہ تقسیم کی بات ہو گی ثالثی کا مقصد یہ ہے کہ یہ حصہ مرے پاس رہے اور وہ تمھارے پاس یہ قابل قبول نہیں یہ کبھی بھی نہیں ہو سکتا ۔کشمیریوں کی سات سو سال پرانی تاریخ ہے اور کشمیری کبھی بھی تقسیم نہیں ہوں گے ہمیں اس بات کا احترام کرنا چاہئے کشمیریت کی عزت کرنی چاہئیے اور یہ بات سمجھ لینی چاہئیے کہ کشمیر کو بانٹا نہیں جا سکتا یہ کوئی زمین کا ٹکڑا نہیں ہے کہ بہن بھائی آپس میں بانٹ لیں گے کشمیر لوگوں کے اسصواب رائے کے حق کامسئلہ ہے پاکستان کی بقا کا مسئلہ کشمیر ہمارے جسم جاں کا حصہ ہے۔ میں پھر جہاد کے حوالہ سے بات کروں گی کہ افغانستان کے طالبان نے بے سرو سامانی اور وسائل کی کمی کے باوجود جہاد سے اسی فیصد سے زیادہ ایریا میں کنٹرول حاصل کر لیا ہے آج افغانستان کے مین روٹس ان کے پاس ہیں ۔سپر پاور امریکہ اور اس کی اتحادی فورسز کا یہ حال ہے کہ وہ آج افغانستان سے باعزت نکلنے کے لئے بھی مجبور ہیںکہ وہ پاکستان کی مدد مانگیں تین سپر پاورز کو بے سروسامان لوگوں نے جہاد کے ذریعے شکست فاش دی ہے کیا جہاد اللہ کی طرف سے مدد ہے نتقریب میں دیگر مہمان گرامی جن میں یوتھ پارلیمنٹ کے صدر شہیر سیالوی معروف صحافی سلطان سکندر ، منور بٹ ممتاز احمد ہمدانی اور دیگر مقررین نے بھی اپنی تقاریر میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ،ہندو بنئے کے مظالم کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کشمیری بھائیوں کی آزادی کے لئے بڑھ چرھ کر عملی صورت میں اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیا ۔تقریب میں اسٹنٹ کمشنر جنڈحسن نذیر دوگل ، اپسما کے عہدیداران ، ملک حفیط اللہ ، انیس احمد ، علاوالدین ،قاری مہر خان ، قاری غلام حیدر ، سردار و ہاب, راجہ طاہر نعیم ۔مقامی صحافی اور علاقہ کی سماجی شخصیات سمیت دیگرعلاقہ بھر کے افراد نے بھرپور شرکت کی ۔
