اٹک،3 سال قبل اغواء ہونیوالی لڑکی کا والد انصاف کا طلب گار

اٹک ( ڈیلی اٹک نیوز) 3 سال قبل سادات گھرانے کی نابالغ لڑکی کو اغواء کرنے والے مسیحی نوجوان کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود کارروائی نہ ہونے کے خلاف
لڑکی کے والد سید مشتاق شاہ بخاری اور سادات گھرانے کی خواتین سمیت اہلخانہ کا ڈی پی او آفس کے قریب ریسکیو 15 دفتر کے سامنے کراچی سے پشاور جانے والی مین شاہراہ بند کر کے احتجاج ، پولیس نے لڑکی کے والد کو دھمکیاں دینے والے اور اغواء کرنے والے مسیحی نوجوان کے بھائیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا کہہ کر کے احتجاج ختم کرا دیا ، تفصیلات کے مطابق سید مشتاق حسین شاہ بخاری کی نابالغ بیٹی مریم بخاری جسے 3 سال قبل ڈھوک فتح سے ان کا پڑوسی شہباز مسیح اغواء کر کے گلگت لے گیا تھا وہ مسلسل انصاف کی فراہمی کیلئے کوشاں رہے۔ 3 سال تک پولیس کی جانب سے انصاف نہ ملنے پر لڑکی کے والد اور اہلخانہ نے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ۔
ڈی پی او آفس کے قریب ریسکیو 15 کے دفتر کے سامنے کراچی سے پشاور جانے والی مین شاہراہ پر روڈ بلاک کر دیا جس پر ڈی ایس پی اٹک ملک عبدالرحمان ، ایس ایچ او ماڈل پولیس اسٹیشن اٹک سٹی سب انسپکٹر سید حامد کاظمی اور دیگر پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے مذاکرات کے بعد اس شرط پر کہ ان کے ساتھ انصاف اور انہیں دھمکیاں دینے والے افسر ، ان کی لڑکی کو اغواء کرنے والے مسیحی نوجوان کے رشتہ داروں اور دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی احتجاج ختم کرایا بعدازاں ریسکیو 15 کے دفتر میں انہیں لایا گیا اور روڈ بلاک ختم ہونے پر ٹریفک بحال کی گئی سید مشتاق شاہ بخاری نے ڈی پی او کے نام دی جانے والی درخواست میں تحریر کیا کہ مجھے گلگت سے کسی پولیس افسر کی کال آئی کہ وہ اپنا کیس واپس لیں ورنہ ان کو اٹھوا لیا جائے گا اور پھر ایک اور گروپ کے ریفرنس سے بھی دھمکیاں دی گئیں اور ایک افسر کی بھی کال آئی اور وہی بات دھرائی کہ کوٹ کچہری سے نکل آئو ورنہ نتائج کے خود ذمہ دار ہو گے ان کی بیٹی کو اغواء کرنے والے کے بھائیوں نے بھی انہیں دھمکیاں دیں پولیس کے بعض اہلکار بھی ملزم کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور ان کے کیس کی تفتیش کرنے والے پولیس افسران نے گلگت پولیس کے سامنے جھوٹ بیان کیا کہ لڑکی غیر مسلم ہے جبکہ لڑکی سید زادی ہے انہوں نے کہا کہ انہیں انصاف نہ ملا تو وہ بھوک ہڑتال پر مجبور ہوں گے ۔
