ہم نے سپریم کورٹ کا فیصلہ مانا لیکن عوام نے قبول نہیں کیا،شاہدخاقان

اسلام آباد(صباح نیوز) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہہم نے سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول کیا لیکن عوام اور تاریخ اسے قبول نہیں کرتے، ہمارے خلاف 28 جولائی کو فیصلہ آیا جسے ہم نے من و عن قبول کیا لیکن اس فیصلے کو تاریخ اور عوام قبول نہیں کرتے، 8 ماہ میں منصوبوں کو مکمل کرنا ہے جو 4 سال پہلے نوازشریف نے شروع کیے، جتنے کام 4 سال میں نواز شریف نے کیے، اتنے نہ 8 سال میں آمریت کرسکی اور نہ ہی پیپلزپارٹی، یہ وہ فرق ہے جسے عوام محسوس کرتے ہیں، مسلم لیگ نون کا رکن ہونے پر مجھے فخر ہے، اسی جماعت کی طاقت نے مجھے پچھلی نشستوں سے آگے لاکر وزیراعظم بنایا،ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کی طرح عوام اورتاریخ ہمارے خلاف آنے والے فیصلے کو بھی تسلیم نہیں کرتی۔منگل کواسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں مسلم لیگ (ن)کے جنرل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمارے خلاف 28 جولائی کو فیصلہ آیا جسے ہم نے من و عن قبول کیا لیکن اس فیصلے کو تاریخ اور عوام قبول نہیں کرتے۔وزیراعظم نے کہا کہ جس طرح نوازشریف کے حق میں فیصلہ آیا، پورا یقین ہے کہ الیکشن میں عوام(ن)لیگ اور نواز شریف کے حق میں فیصلہ دیں گے۔انہوں نے کہا وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس بات کا دعوی کرتا ہوں، جو آمریت 8 سال ملک میں مسلط رہی وہ اپنے کام دکھائے، ٹیلی ویژن پر بات کرنے والے آمریت کے 8 سال اور پی پی کے 5 سالہ منصوبے دیکھ لیں، اگر ہمارے منصوبے ان سے 100 گنا زیادہ نہ ہوئے تو ہم حکومت چھوڑنے کو تیا رہیں۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ نوازشریف کی محنت اور حب الوطنی ہے جو منصوبے مکمل ہوئے انہوں نے پاکستان کے مسائل حل کیے اور آئندہ 10 سال بھی حل کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ جو مینڈیٹ نوازشریف کو دیا وہ الیکشن میں عوام انہیں دیں گے، لیڈر عوام کے دل میں ہوتا ہے، وہ عدالتوں کے فیصلوں سے نہیں ختم ہوتا، وہ عوام کی آواز ہوتی ہے، عوام کا فیصلہ آپ کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر پارٹی کے ورکروں نے بھروسہ کیا، پوری توقع رکھتا ہوں کہ نوازشریف اور ان کی جماعت، ہم سب مل کر ملک کے مسائل ختم کریں گے، پوری امید ہے کہ عوام کی دعاں اور کوشش سے ہمیشہ سروخرو ہوں گے۔
#/S
