بیرسٹر سلطان کی زیرقیادت کشمیریوں کا عالمی عدالت انصاف کے سامنے مظاہرہ

دی ہیگ( نمائندہ کشمیر ٹوڈے) آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم وپی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ برلن میں چوتھا ملین مارچ بڑے ملین مارچ جو کہ لائن آف کنٹرول پر ہوگا کی ریہرسل ہے۔جبکہ عالمی عدالت انصاف کے سامنے آج کا یہ مظاہرہ برلن ملین مارچ کی ریہرسل ہے۔جبکہ اس موقع پر ہم انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سے دوہرے معیار پر انصاف بھی مانگتے ہیں۔ ایک طرف بھارتی جاسوس دہشتگرد کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوائی گئی جبکہ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر عالمی عدالت انصاف خاموش ہے۔ جبکہ اس موقع پر ہم پاکستان سے بھی کہیں گے کہ اگر بھارت اپنے ایک دہشتگرد کو بچانے کے لئے عالمی عدالت میں جا سکتا ہے تو پاکستان کو بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کا دروازہ کٹکھٹانا چاہیے۔ کیونکہ میں نے آج بھی بطور بیرسٹر عالمی عدالت انصاف میں پیش ہونے کی کوشش کی لیکن انکا کہنا تھا کہ صرف کوئی ممبر ملک ہی یہاں پیش ہو سکتا ہے۔ لہذا پاکستان کو چاہیے کہ اگر بھارت اپنے ایک جاسوس کو بچانے کے لئے عالمی عدالت میں آسکتا ہے تو پاکستان بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کو رکوانے کے لئے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں آئے۔ہم ہر فورم پر ڈیڑھ کروڑ کشمیری عوام کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ برلن ملین مارچ سے ہم دوٹوک پیغام دیںگے کہ برلن وال کی طرح لائن آف کنٹرول کی وجہ سے بھی کشمیری تقسیم ہیں۔ کشمیری اس خونی لکیر کو ایک دن روند ڈالیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہالینڈ میں دی ہیگ میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے سامنے کشمیریوں کے ایک زبردست مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مظاہرے سے راجہ ذیب خان، پادری ایرک، قمر، سردار یاسر اور دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر مظاہرین آزاد کشمیر کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے اور بھارتی غاصبو کشمیر ہمارا چھوڑ دو، عالمی عدالت مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا نوٹس لے،کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے جیسے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے اور اسی طرح کے بینرز اور کتبے اٹھائے ہوئے تھے۔اس موقع پر مظاہرے میں خواتین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ آج کے مظاہرے میں ہم نے یہ واضح کردیا ہے کہ ہم عالمی عدالت انصاف سے انصاف چاہتے ہیں۔ میں نے آج بھی عالمی عدالت انصاف میں بطور بیرسٹر پیش ہونے کی کوشش کی لیکن مجھے یہی جواب ملا کہ کوئی ممبرملک ہی یہاں پیش ہو سکتا ہے اگر بھارت اپنے جاسوس کو بچانے کے لئے یہاں آسکتا ہے تو پاکستان کشمیریوں کا مقدمہ انٹرنیشنل آف کورٹ آف جسٹس میں کیوں نہیں لا سکتا۔ہم عالمی عدالت سے انصاف چاہتے ہیں کہ جسطرح کلبھوشن کی پھانسی رکوائی گئی اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں مظالم بھی بند کرانے کے لئے عالمی عدالت انصاف اپنا کردار ادا کرے
