فاروق حیدر حساس معاملے پر جو مس ایڈونچر کرنا چاہتے ہیں وہ ریاست کے حق میں نہیں:چودھری محمد یٰسین

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی)اپوزیشن لیڈر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی چودھری محمد یٰسین نے کہا ہے پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میںعبوری آئین ایکٹ 74میں ترامیم کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے ،تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل آئینی کمیٹی بنائی گئی جس نے عبوری آئین
میں ترامیم کے ذریعے آزاد کشمیر کو بااختیار بنانے کے لیے سو صفحات پر مبنی سفارشات تیار کیں جسے فاروق حیدر حکومت نے آج تک فائلوں میں بند کر رکھا ہے ،فاروق حیدر پس پردہ رہ کر اس حساس معاملے پر سیاست کر کے جو ایڈونچر کرنا چاہتے ہیں ریاست کے حق میں نہیں ،آزاد کشمیر کو بااختیار بنانے کے حامی ہیں ،عبوری آئین ایکٹ 74میں موجود سقم ختم کر کے یہ اختیار حاصل کیے جا سکتے ہیں تاہم کشمیر کونسل کو مکمل طور پر ختم کرنے کی حمایت نہیں کریں گے کشمیر کونسل آزادکشمیر اور پاکستان کے عوام کے درمیان انتظامی رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے پل کا کردارادا کرتا ہے ،اداروں کو ختم کرنے کے بجائے ان میں بہتری لانے کے لیے کام کرنا چاہیے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں اسلام آباد میں کشمیر کونسل کے ملازمین کی جانب سے کونسل کو مبینہ طور پر ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف نکالی گئی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،ریلی سے ممبر کشمیر کونسل یونس میر سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا ،اپوزیشن لیڈر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی چودھری محمد یٰسین نے کہا کہ کشمیر کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جسے ذوالفقار علی بھٹو نے قائم کیا تھا ،جس کے ذریعے آزاد کشمیر کے انتظامی معاملات آج تک بخوبی چل رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کو با اختیار بنانے کے ہمیشہ حامی رہے ہیں ،ہم نے اپنے دور حکومت میں آزاد کشمیر کو بااختیار بنانے کے لیے آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک آئینی کمیٹی بنائی جس نے سو صفحات پر مبنی سفارشات تیار کیں ،آئینی کمیٹی کی سفارشات پر فاروق حیدر حکومت نے کوئی کام نہیں کیا اب پتہ نہیں کس کی خواہش پر پس پردہ رہ کر کشمیر کونسل کو ختم کرنے کا سیاسی ایڈونچر کیا جا رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ عبوری آئین ایکٹ 74میں ترامیم کر کے آزاد کشمیر کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے تاہم ایسی تمام کوششوں کی مخالفت کریں گے جن کے ذریعے پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان انتظامی رشتوں کی بنیاد کو نقصان پہنچے،چودھری محمد یٰسین نے کہا کہ آزاد کشمیر ایک جمہوری ریاست ہے جس میں مختلف سیاسی جماعتیں موجود ہیں ،وفاق کی حمایت سے معرض وجود میں آئے جعلی وزیر اعظم جان لیں کہ یہاں انکی بادشاہت کی خواہش پوری نہیں ہو سکتی فاروق حیدر آزاد کشمیر کو مزید اختیارات دلانا چاہتے ہیں تو آزادکشمیر کی ساری سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیں ،اور آئینی ترامیم کے ذریعے خطے کو بااختیار بنانے کے لیے اقدامات کریں ،اداروں کو ختم کرنا موجودہ حکومت کا وطیرہ بن چکا ہے ،ہم چاہتے ہیں کہ جو ادارے بنے ہوئے ہیں ان میں بہتری لائی جائے ۔کشمیر کونسل کو ختم کرنے کے بجائے پیپلزپارٹی کی آہینی کمیٹی نے جو سفارشات اسمبلی کے اجلاس میں کیں تھیں ان ترامیم کے مسودے کو  وفاق سے بات کر کے اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے پیپلزپارٹی ان ترامیم پرحکومت کا مکمل ساتھ دے گی ،جموں وکشمیر کونسل کو ختم کرنے سے ایک نیا آئینی بحران پیدا ہو گا ،جس کو حل کرنے کی موجود حکومت میں صلاحیت اور اہلیت ہی نہیں ۔ وزیراعظم آزاد کشمیر پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان دوریاں پیدا کرنے سے باز رہیں آورآئینی معاملات میں اپوزیشن کی مشاورت سے معاملات کو درست کریں۔