مقبوضہ کشمیر : شہید نوجوانوں کی تعداد 4ہو گئی،جھڑپوں میں مزید 7زخمی

سرینگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوڑی میں  بھارتی فوج کئے ہاتھوں  مارے جانے والے نوجوانوں کی تعداد چار ہو گئی ہے ،ان نوجوانوں پر فدائی حملے کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا ہے ،علاقے میں کشیدگی،جھڑپوں میں مزید7زخمی،بھارتی فوج کا میتوں کی شناخت  جاری کرنے اور میتیں  مقامی لوگوں کے سپرد کرنے سے انکار ،مختلف علاقوں میں احتجاج اور مظاہرے ،فورسز پر پتھراؤ،ہڑتال کے باعث نظام زندگی درہم برہم،انٹر نیٹ ،موبائل اور ریل سروس معطل،وادی میں فورسز کی یونیفارم کی خریدو فروخت پر پابندی عائد ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز  راجوڑی کے علاقے سندر بنی کے قریب رواریہ تلا علاقہ میں فورسز کیمپ کے قریب بھارتی فوج نے  چار نوجوانوں کو مجاہد قرار دے کر شہید کر دیا تھا۔ابتدائی طور پر دو افراد کے شہید ہونے کی اطلاعات تھیں تاہم آپریشن مکمل ہونے کے بعد بھارتی  فوج نے چار نوجوانوں کی شہادت کی تصدیق  کی ہے ۔بھارتی فوج اور پولیس کے مطابق بدھ کی صبح:30 7بجے اس وقت تصادم  شروع ہوا جب سندر بنی قصبہ سے قریب 500میٹر دوری پر ندی کے کنارے فورسز نے چار نوجوانوں کو گھیرے میں  لے کر کارروائی کی ۔ تصادم سے چند گز کے فاصلہ پر بی ایس ایف کا کیمپ واقع ہے ۔ جیسا کہ کل بھی خبردی جا چکی ہے ، سندر بنی علاقہ میں دراندازی کی اطلاعات کے بعد پچھلے چار روز سے تلاشی مہم چلائی جا رہی تھی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ شب فورسز کو رواریہ تلا علاقہ میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں جس کے بعد پورے علاقہ کو گھیرے میں لے کر تلاشی مہم چلائی گئی۔بدھ کی صبح فوج، پولیس اور بی ایس ایف کی مشترکہ پارٹی پر ملی ٹینٹوں نے فائرنگ شروع کر دی جس کا موثر جواب دیا گیا اور اس کے بعد انکائونٹر شروع ہوگیا جو قریب 9گھنٹے تک چلنے کے بعد شام 5بجے اختتام کو پہنچا اور اس دوران تمام 4جنگجوجاں بحق ہو گئے ۔ایس ایس پی راجوری یوگل منہاس نے انکائونٹر ختم ہونے کے بعد ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ مہلوک ملی ٹینٹوں کی نعشیں برآمد ہو گئی ہیں اورجائے تصادم سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا جس میں 4اے کے رائفلیں، میگزین اور دیگر ساز وسامان شامل ہے ۔اس آپریشن کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ فورسز کا کوئی بھی اہلکار زخمی نہیں ہوا ہے ۔ تصادم شروع ہونے سے قبل تلاشی مہم کے دوران فورسز کو تین بیگ ملے جن میں یو بی جی ایل گرنیڈ ، آئی ای ڈی اور کچھ اشیائے خوردنی تھیں۔  بھارتی فوج کے مطابق  اگر چہ مہلوک جنگجوئوں کی سر دست شناخت نہیں ہو سکی ہے تاہم تما م ملی ٹینٹ غیر ملکی تھے اور وہ حال ہی میں دراندازی کر کے علاقہ میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی نعشوں کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور ابھی تک ان کی آخری رسومات کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔ادھر مقامی لوگوں  نے  بھارتی فوج سے شہداء کی شناخت جاری کرنے اور میتیں تدفین  کیلئے مقامی لوگوں کے سپرد کرنے  کا مطالبہ کیا  تاہپم بھارتی فورسز نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا  ہے ۔مقامی لوگوں نے  بھارتی فوج کی جانب سے فدائی حملے کا الزام مسترد کرتے ہوئے  کہا ہے کہ بظاہر نوجوانوں کو کہیں باہر سے لاکر نشانہ بنایا گیا۔علاقے میں مقابلے کے کوئی شواہد نہیں ۔دریں اثنا لوگوں نے بھارتی فورسز کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت اور احتجاج کیا ہے ۔اس دوران لوگوں کی بڑی تعداد نے قابض اہلکاروں پر پتھراؤ کیا ۔انڈو ایشین  نیوز ایجنسی کے مطابق  سندر بنی میں لوگوں نے بھارتی اہلکاروں پر شدید  پتھراؤ کا نشانہ بنایا  جس کے جواب میں بھارتی فورسز کی  جانب سے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا گیا جس کے نتیجے میں  سندر بنی میں  تین افراد زخمی ہو ئے ۔دوسری جانب پلوامہ میں احتجاج کے دوران فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ادھر سرحدی ضلع کپوارہ میں گزشتہ ہفتہ ہلمت پورہ علاقہ کے فتح خان چک جنگلات میں فوج اور جنگجوئو ں کے درمیان جھڑپ کے بعد ضلع کے دیگر علاقوں کے جنگلات کا محاصرہ جاری ہے اور جنگجوئو ں کے چھپے ہونے کے خدشہ کے پیش نظر تلاشی کارروائی گزشتہ3روز سے جاری ہے ۔ فوج کو شبہ ہے کہ آورہ سے ہلمت پورہ سے لیکر کاچہامہ تک کے جنگلو ں میں جنگجو چھپے بیٹھے ہیں اور اس سلسلہ میں فوج کے علاوہ سپیشل آ پریشن گروپ نے ہلمت پورہ ،وائن ،گلگام ،آ ورہ ،زرہامہ ،گزریال ،وارسن اور کاچہامہ کے علاوہ رامحال اور ہندوارہ کے جنگلو ں کا محاصرہ کر کے تلاشی کارروائی شروع کی  ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کئی جنگلی علاقوں میں فوج نے فائرنگ بھی کی تاہم فوج کی فائرنگ کا کوئی جواب نہیں آ یا اور نا ہی گزشتہ دو روز کے دوران فوج اور جنگجوئو ں کے درمیان کسی بھی مقامات پر آ منا سامنا نہیں ہوا ۔دریں اثناء گزشتہ برس چاڑورہ کے مضافات میںفورسز کے ہاتھوں 3عام نوجوانوں کی ہلاکت کی پہلی برسی پر بدھ کو چاڑورہ،اور سرینگر کے کئی علاقوں میں ہڑتال کی گئی۔ادھرمقامی جنگجو شفاعت حسین وانی کی کی یاد میں ان کے آبائی علاقہ واگورہ بارہمولہ میں بدھ کو چوتھے روز بھی مکمل ہڑتال رہی اور تمام دوکانیںاور کاروباری ادارے بند رہے ۔گذ شتہ سال 28مارچ کو دربگ چاڈورہ  علاقہ میں جنگجوئوں اور فوج کے درمیان گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا  تھا۔جھڑپ کے ابتدائی مرحلے میں جب فوج کی اضافی کمک دربگ چاڈورہ کی طر ف آرہی تھی تو نوجوانوں نے فوجی گاڑیوں کا راستہ روک کر ان پر شدید سنگباری شروع کی۔ فوجی اہلکاروںنے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پہلے ہوائی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی نوجوان گولیاں لگنے سے نرسری میں ہی خون میں لت پت ہو کر گر پڑے۔ مظاہرین کی  فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں  اشفاق احمد وانی رنگریٹ،زاہد احمد چاڈورہ اور عامر ریاض واتھورہ جاںبحق ہوئے تھے۔ تینوں نوجوانوں کی پہلی برسی کے موقعہ پر چاڈورہ اور اسکے مضافاتی علاقوں کے ساتھ ساتھ مرنے والے نوجوانوں کے آ بائی علاقوں میں تعزیتی ہڑتا ل سے عام زندگی مفلوج رہی۔ادھر ہڑتال کا اثر سرینگر کے کرالہ پورہ، بوگام،واتھورہ،باغ مہتاب،صنعت نگر،رنگریٹ اورراولپورہ میں بھی دیکھنے کو ملا، جہاں دکانیں بند رہیں۔مونچھو اور راولپورہ ریلوے ٹریک کے علاوہ رنگریٹ مں پتھرائو کے واقعات بھی پیش آئے۔اس دوران آری زال بیروہ میں مارے گئے جنگجو شفاعت حسین کی یاد میں بدھ کو چوتھے روز بھی تعزیتی ہڑتال جاری رہی ۔ جبکہ علاقے میں کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کیلئے فورسز کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا تھا ۔ معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں معمولی پتھر بازی کے واقعات بھی پیش آئے ۔ادھر وادی کشمیر میں مقامی نوجوانوں کے عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے کے رجحان میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سماجی رابطوں کی ویب سائٹس بالخصوص فیس بک پر دو نوجوانوں کی ہاتھوں میں اے کے 47 تھامے تصویریں وائرل ہوگئی ہیں اور ان تصویروں کے کیپشنز میں مذکورہ نوجوانوں کی شناخت اور تنظیم کا نام ظاہر کیا گیا ہے۔ اس طرح سے گذشتہ تین ماہ کے دوران عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے والے نوجوانوں کی تعداد بڑھ کر 6 ہوگئی ہے۔ ان میں تحریک حریت جموں وکشمیر کے نو منتخب چیئرمین محمد اشرف صحرائی کا فرزند جنید اشرف خان اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ریسرچ اسکالر منان بشیر وانی بھی شامل ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیاں کشمیری نوجوانوں کی عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت میں اضافے کو پہلی ہی تشویش ناک قرار دے چکی ہے۔ ان کے مطابق کشمیری نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے ہتھیار اٹھانے پر تیار کیا جاتا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مرکزی داخلہ سکریٹری راجیو گابا ،جنہوں نے پیر اور منگل کو سری نگر میں دو روزہ قیام کے دوران ریاست کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا، نے کشمیری نوجوانوں کے عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مقامی نوجوانوں کو مختلف سرگرمیوں بشمول کھیل کود میں مصروف کرنے کی ہدایت دی ہے۔ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہونے والی تصویروں کے کیپشنز کے مطابق فید مشتاق وازہ ولد مشتاق احمد وازہ ساکن خانیار سری نگر نے لشکر طیبہ جبکہ روف بشیر کھانڈے ولد بشیر احمد کھانڈے ساکن ارہ دہرنہ تحصیل ڈورو ضلع اننت ناگ نے حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی ہے۔ خانیار سری نگر کے رہائشی فید مشتاق وازہ کی تصویر کے کیپشن کے مطابق اس نے 23 مارچ کو لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کی ہے اور اسے ابو اسامہ  کاڈ نام دیا گیا ہے۔ دہرنہ ڈورو اننت ناگ کے روف بشیر کھانڈے کی تصویر کے کیپشن کے مطابق اس نے 4 فروری کو حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی ہے اور اسے عمر حیات کوڈ نام دیا گیا ہے۔ تصویر پر لکھا ہے کہ وہ بی اے سال اول کا طالب علم تھا اور اس نے قرآن پاک کے 15 پارے حفظ کئے ہیں۔ ریاستی پولیس کے مطابق فید مشتاق وازہ کے والدین نے پولیس تھانہ خانیار میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ دراج کرائی ہے۔ 24 مارچ کو تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی کے فرزند جنید اشرف خان نے حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔جنید کی وائرل ہونے والی تصویر پر لکھا تھا کہ اس نے کشمیر یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی ہے۔ تصویر پر تنظیم کا نام حزب المجاہدین، شمولیت اختیار کرنے کی تاریخ 24 مارچ 2018 اور ولدیت محمد اشرف صحرائی، سکونت باغات برزلہ لکھا ہواتھا۔ اسے عمار بھائیکوڈ نام دیا گیا ہے۔ 24 مارچ کو ہی جنوبی ضلع پلوامہ کے خان گنڈ ترال کے رہنے والے عابد مقبول بٹ کی بندوق تھامے تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے کیپشن میں لکھا تھا کہ عابد نے جیش محمد میں شمولیت اختیار کی ہے۔ عابد مقبول جو مبینہ طور پر ایک پولیس ہیڈ کانسٹیبل کا بیٹا ہے، کو عمر بھائی کوڈ نام دیا گیا ہے۔ جنوری کے اوائل میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر منان بشیر وانی نے حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کی۔ شمالی ضلع کپواڑہ کے ٹکی پورہ لولاب کے رہنے والے منان وانی کی بندوق تھامے تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس نے علی گڑھ یونیورسٹی کے طالب علموں اور اہلیان کشمیر کو تشویش میں ڈال دیا تھا۔ تاہم علی گڑھ یونیورسٹی کے طالب علموں ، اپنے والدین اور ہزاروں کشمیری نوجوان کی اپیلوں کے بعد بھی منان نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ لولاب میں منان وانی کے بعد ایک اور نوجوان بلال احمد شاہ نے مارچ کے اوائل میں حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔ 24 سالہ بلال احمد ولد شمس الدین کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ ریاستی حکومت کے مطابق وادی میں گذشتہ تین برسوں کے دوران 280 نوجوانوں نے عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ریاستی وزیر اعلی محبوبہ مفتی جنہوں نے وزارت داخلہ کا قلمدان اپنے پاس رکھا ہے، نے 6 فروری کو جموں میں قانون ساز اسمبلی میں نیشنل کانفرنس رکن و جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا تھا گذشتہ تین برسوں میں 280 نوجوانوں نے عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے ۔ انہوں نے کہا تھا 2015 میں 66، 2016 میں 88 اور 2017 میں 126 نوجوانوں نے عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ۔ حکومتی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا تھا کہ وادی میں 8 جولائی 2016  کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد سے فروری 2018 تک قریب دو سو مقامی نوجوانوں نے بندوقیں اٹھاکر جنگجو تنظیموں بالخصوص حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے ۔ ریاستی پولیس کے اعداد وشمار کے مطابق وادی میں گذشتہ تین مہینوں کے دوران کم ازکم ایک درجن مقامی جنگجووں نے سیکورٹی فورسز کے سامنے خودسپردگی اختیار کی ہے۔ ریاستی پولیس سمیت دوسرے سیکورٹی اداروں نے اس رجحان کو گھر واپسی کا نام دیا ہے۔ تاہم ریاستی پولیس نے گھر واپسی اختیار کرنے والے بیشتر نوجوانوں کی شناخت ظاہر کرنے سے معذرت ظاہر کی۔ادھر خانیار علاقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان فہد مشتاق وازہ کی بندوق ہاتھوں میں تھامے سماجی میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویرکے ایک دن بعد اس کی والدہ نے اپنے بچے کو واپس گھر آنے کی اپیل کی۔ تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی کے فرزند جنید اشرف کے جنگجوئوں کے صفوں میں شامل ہونے کے بعد سرینگر سے تعلق رکھنے والا یہ ایک اور نوجوان ہے۔بدھ کو فہد مشتاق کے اہل خانہ نے اچانک نمودار ہو کر میڈیا کے سامنے اپنے بچے کی گھر واپسی کی اپیل کی۔فہد کی والدہ میمونہ نے ہاتھ جوڑ کر جذباتی انداز میں نامہ نگاروں کو بتا یا کہ اسکا بیٹا کھبی بھی اس سے جھوٹ نہیں بولتا تھا،اور آج زندگی میں پہلی بار اس نے جھوٹ بولا۔ انہوں نے کہامیںبلڈ پریشر کی مریضہ ہوں،اور دن میں کئی بار میرا بیٹا(فہد) ہی مجھے بلڈ پریشر کی جانچ کیلئے لئے جاتا تھا،اسکی نانی کی حالت بھی غیر ہوگئی ہے ،اور والد سکتے میں ہے۔میمونہ نے کہا کہ ہمیں اس بات کی کوئی بھی امید نہیں تھی کہ فہد اس طرح کا قدم اٹھائے گا۔انہوں نے کہا کیا تم نے مجھ سے اجازت حاصل کی، مجھ پر اور اپنے ابو پر ترس کھاو اور واپس آجاو۔میمونہ کے مطابق اس کے بیٹے کا موبائل فون بند آرہا ہے۔انہوں نے مزید کہا2014میں آئے تباہ کن سیلاب کے دوران ہمارا مکان بچ گیا تھا،مگر اب کا سیلاب میرا سب کچھ بہا کر لیجائے گا،میرے بچے کہا ہو،واپس آئو۔میمونہ نے عسکری قیادت اور نوجوانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس کے بچے کو واپس بھیج دیں۔انہوں نے کہا وہ(جنگجو) میرے بھائی اور اولاد ہیں،اللہ انکو بھی سلامت رکھے،میں ان سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ میرے بچے کو واپس گھر بھیج دیں۔پیشہ سے آشپازہ فہد اپنے والد اور چاچا کے ساتھ کام کرتا تھا،جبکہ انکے چاچاکے مطابق دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد فہد نے پڑھائی ادھوری چھوڑ دی تھی،اور وہ خاندانی پیشہ(آشپازہ) میں لگ گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ23مارچ جمعہ کو گھر سے جماعت(تبلیغی جماعت) میں شامل ہونے کیلئے نکلا،تاہم اتوار شام کو بھی جب وہ گھر نہیں پہنچا،تو اہل خانہ کو تشویش ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اس دوران فہد کی تلاش شروع کی گئی،اور کئی تبلیغی جماعتوں کے ذمہ داروں سے بھی رابطہ قائم کیا گیا،تاہم انہوں نے فہد کے بارے میں بتایا کہ وہ انکے ہمراہ نہیں تھا۔ فہد کے چاچا نے کہا کہ بعد میں انہوں نے پیر کو خانیار پولیس تھانے میں گمشدگی کے حوالے سے رپورٹ درج کرائی،اور منگل کو وہ اس وقت سکتے میں رہ گئے جب انہوں نے سماجی میڈیا کی مختلف رابطہ گاہوں پر اس کی بندوق تھامے تصویر دیکھی۔عقل میر خانیار سے تعلق رکھنے والے18برس کے فہد مشتاق کے مزید2بھائی بھی ہیں،جو آٹو چلا کر اپنا روزگار کماتے ہیں۔