سوشل میڈیا پرہراساں،بلیک میل کیا جارہاہے،ٹرانسجینڈرکمیونٹی 

حضرو :ٹرانسجینڈر کمیونٹی کے سرکردہ عہدیداروں نادرا خان ،نیلی رانا ،صائمہ خان ،کومل راجپوت کی حضرو پریس کلب میں اپنے حقوق دفاع اور سوشل میڈیا افراد کی جانب سے ہراساں اور بلیک میل کئے جانے کے خلاف بھر پور پریس کانفرنس

مذکورہ عہدیداروں نے کہا کہ ہم مسلمان اور پاکستان کے شہری ہونے کے ناطے قانونی طریقے سے پرفارم کر کے روزی کماتے ہیں کچھ افراد ہماری اجازت کے بغیر ہماری تصاویر وائرل کر کے لوگو ں کو گمراہ کن پراپیگنڈے کا شکار کرتے ہیں ہم نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا کسی کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا اور نہ ہی ڈاکا مارا لوگوں کی خوشیوں میں شریک ہو کر اور گھروں میں جا کر ڈانس کے ذریعے انٹرٹین کرتے ہیں جبکہ حضرو میں کچھ افراد ہمارے کمیونٹی کو منفی ہتھکنڈوں سے ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ بغیر تحقیق کسی پر الزام تراشی کرے اور ایسی تصاویر پوسٹ کرنے جن سے ہماری عزت نفس مجروح ہو اور فیملی میں باعث بدنامی ہو اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔

ایس ایچ او حضرو ہمارے ساتھ اچھا تعاون کرتے ہیں جس شخص نے یہ پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے معلوم ہوا ہے کہ وہ ملک سے باہر ہے ہم اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرینگے اگر کوئی شخص دیکھتا ہے کہ ہماری کمیونٹی کی جانب سے کوئی غیر قانونی اور غلط کام ہو تا ہے تو اس کا حق ہے کہ وہ پولیس میں رپورٹ کرے نیلی رانا نے کہا کہ حضرو میں پچھلے چھ سال سے ہر طرح کے پروگرام بند ہیں ہمارے ڈانسر دوسرے شہروں اور علاقوں میں جا کر پرفارم کرتے ہیں اس پر تو لوگوں کو اعتراض نہیں ہو نا چاہیے کومل راجپوت نے کہا کہ بعض افراد ہمیں پریشان کرتے ہیں صائمہ خان کے ڈیرے پر فائرنگ بھی کی گئی لہذا ہمیں بھی تحفظ چاہیے ہمیں ملازمت نہیں ملتی ہم نے ڈانس کے پروگرام تو کرنے ہیں نادرا خان نے کہا کہ جب ہماری کمیونٹی کا کوئی فرد فوت ہو جائے تو کوئی اس کی تجہیز وتکفین کرنے والا نہیں ہو تا ہمیں اپنی فیملی قبول نہیں کرتی ہم ان مسائل سے دوچار ہوتے ہیں لیکن ہم نے کبھی کسی کو نہ پریشان کیا نہ تنگ کیا حالانکہ لوگ ہم پر آوازیں کستے ہیں پریشان کرتے ہیں ہم نے کبھی کسی کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کی اور اگر ہم میں سے کوئی غلط کام کرے تو اس کا ساتھ بھی نہیں دیتے وہ اپنی قانونی جنگ اکیلے لڑتا ہے جب سے ٹرانسجینڈر قانون پاس ہوا ہے ہمارے بھی برابر کے حقوق ہیں اور ان حقوق کےلئے جدوجہد کرنا ہمارا فرض ہے ہمارے اپنے معاشرے کے افراد کو بھی چاہیے کہ وہ صدقے دل سے اس قانون کو تسلیم کریں اور ہماری عزت نفس کا خیال رکھیں چھچھ میں ہمارے لوگوں کو سوشل میڈیا و دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے سے ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف باقاعدہ طور پر ہم سائبر کرائم اور ڈی پی او اٹک سے رجوع کر کے اپنا قانونی حق استعمال کرینگے بعد ازاں انہوں نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب بھی تسلی بخش دیئے ۔