ایم ڈی اے میرپور کے سابق چیئرمین اور ضلعی اکائونٹس آفیسر کیخلاف ریفرنس نیب کو ارسال،سیکرٹری برطرف

میرپور(عتیق احمد سدوزئی)ادارہ ترقیات میرپور کا 1996 سے 2012 تک17 سالہ آڈٹ مکمل کر لیا گیا۔ بدوں منظوری 42 کروڑ خرچ کرنے پر سابق چیئرمین چوہدری عبدالقیوم ،پیشگی 34 لاکھ 62 ہزار وصول کر کے واپس نہ کرنے والے ادارہ ترقیات کے افسران اور جناح ماڈل ٹائون کے ٹھیکے من پسند افراد کو دیکر خلاف ضابطہ 1 کروڑ94 لاکھ روپے ادا کرنے پر انکے خلاف ریفرنس پبلک اکائونٹس کمیٹی نے احتساب بیورو کو بھیج دیئے ہیں۔ 17 کروڑ 91 لاکھ 97 ہزار کے ٹھیکے خلاف ضابط دینے پر محکمہ کو تین ماہ میں انکوائری مکمل کر کے ذمہ داران کے خلاف ریفرنس احتساب بیورو کو بھیجنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ سیکرٹری ادارہ ترقیات کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے پر ملازمت سے برطرف، ایجوکیشن سیس، ٹیکسز اور دوکانات اور بلڈنگز کے کرائے کی مد میں کروڑوں روپے وصول نہ کرنے پر پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اظہار برہمی،تین ماہ میں ریکوری کرنے کے احکامات جاری کر دیئے، سابق وزراء اعظم اور وزراء کے لئے اخبارات میں اشتہارات کی رقوم متعلقہ وزیراعظم اور وزراء سے ریکور کرنے سمیت مختلف خلاف ضابطہ ادائیگیوں کے کروڑوں روپے ریکور کر کے سرکاری خزانے میں جمع کروانے کی ہدایت۔ کشمیر ٹائمز نے پبلک اکائونٹس کمیٹی کی جانب سے ادارہ ترقیات میرپور کے آڈٹ اجلاسوں کی اندرونی کاروائی حاصل کر لی۔ سطر سطر کرپشن کی داستان۔ تفصیلات کے مطابق پبلک اکائونٹس کمیٹی نے ادارہ ترقیات میرپور کا سال 1996 تا 2012 تک کا 17 سال کا آڈٹ مکمل کر لیا۔ چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی چوہدری اسحاق ، اراکین ملک نواز ، ڈاکٹر مصطفی بشیر، احمد رضاء قادری، خان عبدالماجد خان اور کرنل وقار نور کی سربراہی میں ادارہ ترقیات میرپور کا آڈٹ دفتر ایم ڈی اے میں کیا، دوران چھان بین ثابت ہوا کہ چوہدری عبدالقیوم سابق چیئرمین / ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات میرپور نے بدوں منظوری ایم ڈی اے بورڈ 42 کروڑ 83 لاکھ 51 ہزار 872 روپے منظور شدہ بجٹ سے زائد اخراجات کئے جس کی منظوری اب تک محکمہ مالیات سے نہ ہو سکی ہے، سنگین مالی بے ضابطگی پر سابق چیئرمین چوہدری عبدالقیوم اور ڈسٹرکٹ اکائونٹس آفیسر عزیز مغل کے خلاف ریفرنس احتساب بیورو کو بھیجتے ہوئے محکمہ حسابات سے عزیز مغل کو معطل کر کے انکوائری کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔ علاوہ ازیں میرپور میں کرپشن کی ماں کہلائے جانے والے میگا کرپشن سکینڈل جناح ماڈل ٹائون میرپور کے ترقیاتی ٹھیکے من پسند افراد کو خلاف ضابطہ دینے اور محکمہ کو 1 کروڑ 94 لاکھ روپے کا نقصان پہنچانے پر افسران (وقت) کے خلاف ریفرنس احتساب بیورو کو بھیج دیا گیا۔ 17 کروڑ 91 لاکھ 97 ہزار سے زائد کے ٹھیکے خلاف ضابطہ دینے پر تین ماہ میں انکوائری مکمل کر کے ذمہ داران کا تعین کرنے اور ذمہ داران کے خلاف ریفرنس احتساب بیورو کو بھیجنے کا حکم دیا گیا۔ دوران چھان بین یہ بات بھی ثامنے آئی کہ ادارہ ترقیات سے افسران اور ملازمین کو خلاف قانون 34 لاکھ 62 ہزار روپے ایڈوانس دیئے گئے جو ان افسران اور ملازمین نے آج تک واپس ہی نہ کئے، پبلک اکائونٹس کمیٹی نے اب تک کی کاروائی کو دیکھنے اور ذمہ داران کی جانب سے ریکوری نہ کرائے جانے پر ریفرنس احتساب بیورو کو بھیج دیا ہے۔پی اے سی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ادارہ ترقیات میرپور نے الاٹیوں سے ایجوکیشن سیس، ٹیکس اور ایم ڈی اے اسٹیڈیم اور پلازہ کے کرائے وصول کرنے تھے جو نہ کئے گئے جس سے ادارے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ علاوہ ازیں پبلک اکائونٹس کمیٹی نے ادارہ ترقیات میرپور میں 1996 سے 2012 تک کی جانے والی ادائیگیوں ، ٹینڈرز، اخباری اشتہارات، ملازمین کو دی جانے والی اضافی تنخواہوں سمیت دیگر اہم ترسیلات زر کا جائزہ لیا اور خلاف ضابطہ ادائیگیوں کی ریکووری اور ذمہ داران کے خلاف محکمانہ کاروائی کا حکم دیا۔ سطر سطر کرپشن کی داستان بیان کرتی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ایم ڈی اے سے متعلقہ دستاویزات میں کئی میگا کرپشن سکینڈل موجود ہیں جبکہ اس ضمن میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سفارشات اور ہدایات بھی واضح ہیں۔ اگر پبلک اکائونٹس کمیٹی کی جانب سے کی جانے والی سفارشات پر عمل درآمد ہو گیا تو زبوں حالی اور مالی دیوالیہ پن کا شکار ادارہ ترقیات میرپور ایک بار پھر اپنے پائوں پر کھڑا ہو سکے گا۔ واضح رہے کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی نے سابق چیئرمین چوہدری عبدالقیوم ، جاوید اقبال مرزا، راجہ طارق، راجہ امجد پرویز کے ادوار میں ہونے والی الاٹمنٹ، چائنہ کٹنگ سمیت دیگر اہم اور سنگین معاملات کا آڈٹ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس ضمن میں ادارہ ترقیات کے ذمہ داران سے باز پرس کی گئی ہے۔
