مقبوضہ کشمیرمیں مکمل ہڑتال،احتجاجی مظاہرے روکنے کیلئے سرینگر میں پابندیاںنافذ،حریت رہنما نظر بند

سرینگر 13جنوری (کے ایم ایس )مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے نہتے شہریوںکے بے دریغ قتل اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کیخلاف آج مکمل ہڑتال کی جارہی ہے۔کٹھ پتلی انتظامیہ نے لوگوں کو احتجاجی مظاہروں سے روکنے کیلئے سرینگر میں سخت پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف آج مقبوضہ علاقے میں پر امن مظاہروں اور مکمل ہڑتا ل کی کال دی ہے۔
کٹھ پتلی انتظامیہ نے احتجاجی مظاہرے روکنے کیلئے سرینگر کے رعناواری، خانیار، نوہٹہ ، مہاراج گنج ، صفاکدل ، مائسمہ ، کرالہ کھڈ اور دیگر علاقوں میں سخت پابندیاں نافذ کر دی ہیں اور بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔انتظامیہ نے مقبوضہ وادی میں ٹرین سروس بھی معطل کر دی ہے۔
دریں اثنا بھارتی پولیس نے جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو آج صبح سویرے سرینگر کے علاقے مائسمہ میں انکے گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار کر کے کوٹھی باغ تھانے میں منتقل کر دیا۔ انتظامیہ نے حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق اور دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کو بھی گھروں میں نظر بند کر دیا ہے جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی گزشتہ آٹھ برس سے زائد عرصے سے سرینگر میں گھر میں نظر بند ہیں۔ پولیس نے حریت رہنمائوں مختار احمد وازہ ، بلال صدیقی اور عمر عادل ڈار کو بھی گرفتار کر رکھا ہے ۔ حریت رہنمائوں کی نظر بندی اور گرفتار ی کا مقصدا نہیں احتجاجی مظاہروں کی قیادت سے روکنا ہے۔ KMS-01/M