مقبوضہ کشمےر:حرےت فورم اور تحرےک خواتےن کی لال قلعہ حملے کے الزام میں سرینگر کے تاجرکو گرفتار کرنے کی شدےد مذمت

سرےنگر14جنوری(کے اےم اےس)
مقبوضہ کشمےر مےں مےرواعظ عمرفاروق کی زےر قےادت حرےت فورم ور کشمیر تحریک خواتین نے 17 سال قبل دہلی مےں لال قلعے پر ہونے والے حملے کے الزام میں سرینگر کے تاجر بلال احمد کاواکو گرفتار کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک کاروباری شخص ہیں اورانہےں بھارت کے یوم جمہوریہ کی آمد کے پیش نظر بھلی کا بکرا بنایاجارہا ہے۔کشمےرمےڈےا سروس کے مطابق حریت فورم کے ترجمان نے سرےنگر مےں جاری اےک بےان مےں بلال کاوا کی فوری اور غےرمشروط رہائی کامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز ،پولیس اور سراغرساں ایجنسیاں روزگار اورحصول تعلیم کے سلسلے میںبھارت کی مختلف ریاستوں میںمقیم کشمیریوںکو گرفتار کرنے اور انہیں پرےشان اور ہراساں کرنے کی ایک منصوبہ بند پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ انہوںنے کہا کہ انہیں محض کشمیری ہونے کی بنا پر سزا دی جارہی ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔انہوںنے بلال کاوا کے اہل خانہ اور لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلا ل احمد کاوا کودانستہ طور پر پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ترجمان نے قابض انتظامےہ کی طرف سے ایک بار پھر فورم کے چےئرمےن میرواعظ عمر فاروق کو گھر مےں نظربند کرنے،شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں کرفیو اور پابندےاں نافذ کرنے اورلوگوں کی نقل و حمل کو مسدود کرنے کی شدےد مذمت کی ہے۔ 
درےں اثناءکشمیر تحریک خواتین کی سر براہ زمرودہ حبیب نے بلال کاوا کی فوری رہای کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ جس کیس میں پہلے ہی لوگ گزشتہ17 برسوں سے تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا بھگت رہے ہیں ا ±س کیس میں بلال احمد کیسے ماسٹر مائنڈ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ہمارے نوجوانوں کی زندگیوں سے کھلواڑ ہے جو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ دلی پولیس کشمےری نوجوانوں کو فرضی کیسوں میں پھنسا کر اور دہشت گردی کی لیبل لگا کر بدنام کرنا چاہتی ہے۔KMS-03/S