دھیرکوٹ اور گردونواح میں غیر معیاری اشیاء کی خرید و فروخت دھڑلے سے جاری
دھیرکوٹ(راجہ انعام الحق خان)دھیرکوٹ اور اس کے گردونواح میں غیرمعیاری اشیاء کی خریدوفروخت دھڑلے سے جاری، فوڈانسپکٹرنام کی کوئی چیزنہیں ، بعض دکاندار وںنے مضر صحت اشیاء کی فروخت کابازارگرم کررکھاہے ۔تحقیقاتی رپورٹ کیمطابق غیرمعیاری اشیاء کے استعمال سے عوام میں ہارٹ اٹیک ،بلڈپریشر، کینسرجیسے موذی امراض اور معدے کی بیماریاں عام ہیں اور بچوں میں مضر صحت ٹافیاں ،پاپڑ،بسکٹ ،غیرمعیاری گھی ،آٹا،جوس سمیت دیگر اشیاء جان لیواثابت ہورہی ہیں اور ناقابل علاج ہیں،تحصیل بھرمیں ہارٹ اٹیک کاتناسب سب سے زیادہ ہے ،غیرمعیاری اشیاء کے استعمال اور انتظامی سطح پر چیک اینڈ بیلنس ، حکومتی سطح پر کوئی ٹھو س اقدامات نہ اٹھائے جانے کے باعث عوام شدید کرّب اوربے چینی کی کیفیت سے دوچارہیں،غیرمعیاری اور غیررجسٹرڈ کمپنیوں کا فوکس زیادہ تربچے ہیں جو چھوٹی چھوٹی پُرکشش چیزوں پر بضدہوتے ہیں جنہیں ان کے استعمال کے نفع یانقصان کا کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ دکاندار سادہ لوح لوگوں پربھی خوب کمائی کررہے ہیں، فوڈانسپکٹر تنخواہ کی حدتک محدود ہے اور ہرفرد کسی نہ کسی بیماری کاشکارہے ،ناقابل علاج بیماریاں کا تناسب بڑھ جانا اداروں کی ناقص کارکردگی کے ذمرہ میں آتاہے۔ عوام ،مختلف مکاتب فکرکے لوگوں نے حکومت سے ٹھوس اورہنگامی بنیادوں پر اس حساس نوعیت کے معاملہ اقدامات اٹھانے کامطالبہ کیاہے، غیرمعیاری اورمضرصحت اشیاء کے استعمال پر مکمل پابندی عائدکی جائے اور فوڈ انسپکٹر سمیت متعلقہ محکمہ کو فنگشنل کیاجائے تاکہ وہ کم از کم ہفتہ میں ایک مرتبہ بازاروں کا وزٹ کرے ،معیار اورکوالٹی چیک کرے، ایکسپائری ڈیٹ چیک کرے ،غیررجسٹرڈاشیاء کی فروختگی پر قانونی ضابطہ اوراختیارات استعمال کرتے ہوئے عوام کی جانوں کو محفوظ بنائے۔
