اعلی عدلیہ کے ججز پر مقدمات کی بلا تاخیرسماعت لازم قرار
مظفرآباد(نمائندہ خصوصی)چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر ( چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل ) و چیئرمین ریاستی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کی سربراہی میں دو الگ الگ اجلاس کانفرنس ہال سپریم کورٹ بلڈنگ مظفرآباد میں منعقد ہوئے ۔ سپریم جوڈیشل کونسل آزاد جمو ں وکشمیر کے اجلاس کی صدارت چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء نے کی ۔ اجلاس میں سینئر جج عدالت العظمیٰ جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی چیف جسٹس عدالت العالیہ (ممبران) کے علاوہ سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور نے بھی شرکت کی ۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز صاحبان کے لئے کوڈ آف کنڈکٹ کے از سر نو جائزہ اور فراہمی انصاف کے نظام کو موثر و شفاف بنانے کے لئے اور اس میں مزید بہتری کے لئے اقدامات اور سپریم جوڈیشل پاکستان کے لئے وضع کردہ کوڈ سے ہم آہنگ کرنے کے لیے دو آرٹیکلز کا اضافہ کرنے کے لئے ایجنڈا زیر غور لایا گیا اور بحث و تمحیص کے بعد آرٹیکل نمبر 10کو اسی صورت میں جبکہ آرٹیکل 11کی ایکٹ 1974کی منشاء کے مطابق تجویز شدہ صورت کی متفقہ طور پر منظور ی صادر فرمائی ۔ منظور شدہ آرٹیکلز کے مطابق اعلیٰ عدلیہ کے ججوں پر لازم ہوگا کہ وہ مقدمات کی بلا تاخیرسماعت اور تصفیہ کو یقینی بنائیں اور آئین و قانون کے مطابق جو ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے اس کوبلا تعطل آئین و قانون کے مطابق سرا نجام دیں ۔آزاد جموں وکشمیر عبوری آئین ایکٹ1974کے تحت جو فرائض اعلیٰ عدلیہ کے ججز صاحبان کو تفویض ہیں و ہ آئین اور قانو ن کے مطابق سرانجام دیں گے اور آئین کے مغائر کو ئی اقدا م نہیں کریں گے۔آزاد جموںوکشمیر کی عدالتی تاریخ میں پہلی بار ریاستی عدالتی پالیسی مجریہ 2018کا نفاذ،مجموعہ ضابطہ دیوانی میں ترامیم اور جوڈیشل اکیڈمی کے قیام کا معاملہ آخری مراحل میں داخل ۔چیف جسٹس آزاد جموںوکشمیر نے بحیثیت چیئرمین ریاستی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی ایک اور اجلاس کی صدارت فرمائی جس میں کمیٹی کے ممبران جسٹس راجہ سعید اکرم خان سینئر جج سپریم کورٹ ، جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی چیف جسٹس عدالت العالیہ ، جسٹس اظہر سلیم بابر ،سینئر جج عدالت العالیہ اور سیکرٹری قانون و پالیمانی امور(ممبران ) نے شرکت فرمائی ۔سیکرٹری قانون و پالیمانی امور نے کمیٹی کو بتایا کہ ضابطہ دیوانی میں ترامیم کا مسودہ حکومتی نوٹیفکیشن کیلئے متعلقہ حکام کے پاس زیر کارروائی ہے اور تین سے چار وز میں نوٹیفکیشن جاری ہونے کا امکان ہے اس کے علاوہ جوڈیشل اکیڈمی کے قیام کا مسودہ بھی زیر کارروائی ہے جس پر بہت جلد پیش رفت کا امکان ہے۔ اجلاس میں عدالتی اصلاحات سے متعلق تجاویز اور آزاد جموںوکشمیر میںپہلی بار ریاستی عدالتی پالیسی 2018کاجامع مسودہ بھی زیر غور آیاجس میں ماتحت عدلیہ کے منصفان سے متعلق ضابطہ اخلاق 2010،فوجداری،دیوانی،عائلی مقدمات کے سلسلہ میں اہم تجاویز مرتب کی گئی ہیں ۔پالیسی میں دیوانی ،فوجداری ،عائلی،مالی اور کرایہ داری کے مقدمات کے حوالے سے فیصلہ کیلئے جامع تجاویز مرتب کی گئی ہیں ۔مورخہ15مارچ کو مجوزہ اجلاس تک ضابطہ دیوانی کے قواعد کی حکومتی منظوری بھی حاصل ہو جائے گی اور اس طرح یہ عدالتی پالیسی حتمی طور پر منظور ہوجائے گی۔
