موہن بھاگوت کا کشمیر بارے بیان انکے ذہنی دیوالیہ پن کا عکاس ہے ۔۔۔ظفر اکبر
بھاگوت جیسے لوگ نفرت کے پجاری ہیں۔۔۔ ڈیموکریٹک فریِڈم پارٹی
سرینگر 17مارچ ( کے ایم ایس )مقبوضہ کشمیر میں جموںوکشمیر سالویشن موومنٹ کے غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرمین ظفر اکبر بٹ نے کشمیر کے بارے میں ہند و انتہا پسند جماعت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کے حالیہ بیان کو انکے ذہنی دیوالیہ پن اور تنگ نظری کا عکاس قرار دیتے ہوئے اسکی شدید مذمت کی ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق موہن بھاگوت نے ایک بیان میں کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے کہا تھاکہ کشمیریوں کو فوجی طاقت سے ہی کچلا جاسکتا ہے ۔ ظفر اکبر بٹ نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ ہوہن بھاگوت کو تاریخ کا مطالعہ کر کے اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ کشمیر ایک مسئلہ ہے جو حل ہونے کا منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کی بنیاد پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ظفر اکبر بٹ نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت جموںوکشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں کر سکتی اور نہ کشمیریوں اور انکی حقیقی قیادت کو اپنا مبنی برحق موقف بدلنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ انہوںنے کشمیری فوٹو جرنلسٹ کامران یوسف کی چھ ماہ کی حراست کے بعد رہائی کا خیر مقدم کیا۔ دریں اثنا جموںوکشمیر سالویشن موومنٹ کے ترجمان نے ایک بیان میں پارٹی چیئرمین ظفر اکبر بٹ اور پارٹی رہنما ہلال بیگ کی مسلسل غیر قانونی نظر بندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ حریت رہنماﺅں کو گھروں، جیلوں اورتھانوں میں نظر بند کر کے نہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جبر و استبداد کے ہتھکنڈوں سے کشمیریوںکے جذبہ آزادی کو ہرگز دبایا نہیں جاسکتا۔ ترجمان نے ظفر اکبر بٹ، ہلال بیگ اور غیر قانونی طور پر نظر بند دیگر حریت رہنماﺅں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
جموں کشمیر ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی نے بھی ایک بیان میں موہن بھاگوت کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھاگوت جیسے لوگ نفرت کے پجاری ہیں جو اپنے حقیر مفادات کی خاطر ہمیشہ لوگوں کو تقسیم کرنے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ بیان میں کہا کہ بھارت نے جموں وکشمیر کے ایک بڑے حصے پر فوجی طاقت کے بل پر قبضہ جما رکھا ہے جسے کشمیریوں نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔بیان میں بھاگوت کو مشورہ دیا گیا کہ وہ تاریخ کا مطالعہ کر کے اس سے سبق سیکھے۔بیان میں ممتاز آزادی پسند رہنما سید صلاح الدین کے بٹیوں کو بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی طرف سے ہراساں کرنے کی شدید مذمت کی گئی۔KMS-04/M