نقاش و دیگر کا قطبال میں آرپی او اور آئی جی پنجاب سے کھلی کچہری میں انکوائری کا مطالبہ

قطبال: تحصیل فتح جنگ  قطبال سے نقاش نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تھانہ نیو ایئر پورٹ پولیس نے مجھے اور میرے تین دوستوں کو اغوا ء کیا اور کسی نامعلوم ٹارچر سیل میں منتقل کردیا 6 روز مسلسل ہم پر شدید تشدد اور ٹارچر کیا گیا جو شاید دہشت گردوں کے ساتھ بھی نہ کیا جاتا ہو اور ہمیں وہ جرم قبول کرنے کا کہا گیا جس کی شکایت ہم خود ڈی پی او کے پاس لے کر گئے میرا قصور صرف اتنا تھا کہ میرے دوست کے گھر چوری ہوئی اور میں نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر تھانہ نیو ایئر پورٹ میں ایف آئی آر درج کرائی اور جب اس کے باوجود کوئی کاروائی نہیں ہوئی تو ایس ایچ او تھانہ نیو ایئر پورٹ کی شکایت لے کر مدعی کے ساتھ ڈی پی او صاحب کے پاس پیش ہوا تھا پولیس نے اپنی انا ء کی خاطر مجھ پر اور میرے دوستوں پر بہت ظلم کیا۔ 6 دن کے مسلسل تشدد کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا ۔ پولیس عوام کی خدمت کے لیے ہے یا ہم جیسے بے گناہ لوگوں پر غنڈہ گردی کے لیے ہے ۔مجھے امید ہے کہ آئی جی پنجاب اور آر پی او راولپنڈی اپنے محکمے میں چھپی کالی بھیڑوں کو بے نقاب کریں گے اور مجھے انصاف ضرور دلوایں گے۔۔
میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے اپیل کرتا ہوں کے مجھے انصاف دلایا جائے اور میری آر پی او راولپنڈی سے یہ اپیل ہے کہ ہمارے گاؤں میں آ کر کھلی کچہری لگائی جائے تاکہ آپ کو مزید حقائق کا بھی علم ہو۔یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک قطبال میں ڈکیتی ہوئی تھی جس کے بارے میں تھانہ ایئرپورٹ میں درخواست دی گئی تھی لیکن مقدمہ درج نہیں ہو سکا تھا جس کی وجہ سے ڈی پی او کے پاس نقاش نے مدعی دوست کے ہمراہ پیش ہو کر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔