نااہلی کیس کی سماعت مکمل،عمران خان منی ٹریل ثابت کرنے میں ناکام

اسلام آباد (صباح نیوز)سپریم کورٹ نے عمران خان کی نااہلی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ عمران خان نے جمائما سے لیے قرض کوظاہر نہیں کیا لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ جائیداد ظاہر کرنے کے بعد قرض ظاہر کرنے سے فرق پڑتا ہے۔یہ ابھی دیکھنا باقی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے چیئرمین کے لندن فلیٹ کے لیے رقم کہاں سے آئی۔عدالت نے عمران خان نااہلی کیس کی سماعت مکمل کر لی جبکہ جہانگیر ترین کی نااہلی کیس کی سماعت آج شروع ہوگی،عدالت نے عمران خان کے وکیل کو مقدمہ میں اضافی دستاویزات جمع کرانے کی اجازت دے دی ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمی کے 3 رکنی بینچ نے عمران خان نااہلی کیس کی سماعت شروع کی تو چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ نعیم بخاری کی نمائندگی کون کرے گا،تو تحریک انصاف کے وکیل نور منصور خان نے کہاکہ نعیم بخاری کی جانب سے چند دستاویزات جمع کرانی ہیں کیونکہ نعیم بخاری کوگزشتہ روزدستاویزات ملی ہیں،جس پر چیف جسٹس نے حنیف عباسی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اکرم شیخ صاحب اللہ کا نام لیکرجواب الجواب شروع کریں، اکرم شیخ نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان کے 2خطوط پرایڈریس مختلف ہیں،خطوط کے لیے عمران خان کینسرہسپتال کے لیٹرہیڈ استعمال ہوئے اور دونوں خطوط میں فیکس نمبرپربھی مختلف ہیں، نعیم بخاری کی عدم حاضری پر چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری سے مکالمہ کے دوران کہاکہ اکرم شیخ کہہ رہے ہیں کہ دونوں خطوط مصدقہ نہیں ہیں اور انہوں نے دونوں خطوط کی ساکھ پرسوال اٹھائے ہیں ۔اکرم شیخ نے کہاکہ عمران خان کے دستخط دونوں خطوط پرمختلف ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ کوئی توہوناچاہیے جو ان سوالات پر جواب دے ۔ اکرم شیخ نے کہاکہ دونوں دستاویزات ایسی نہیں عدالت میں پیش کی جائیں ان کا کہنا تھا کہ بنی گالہ اراضی کے نقشے کے لیے 79ہزارپاونڈ اداکیے گئے یہ رقم کہاں سے آئی عدالت کو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ رقم جمائماسے آئی یاعمران خان نے اداکیے ۔ اکرم شیخ نے کہاکہ نقشہ نویس کے بنی گالہ کے نقشہ کو مسترد کردیاگیا، اس دوران انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ نعیم بخاری راستے میں ہیں کچھ دیر میں پہنچیں گے ، چیف جسٹس نے درخواست میں اپنائے گئے موقف سے ہٹ کر بات کی تو چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ شیخ صاحب یہ آپ کامقدمہ نہیں ہے آپ کامقدمہ ہے کہ آف شورکمپنی کاظاہرنہیں کیاگیا ۔ اکرم شیخ نے کہاکہ عمران خان نے اپنی 1982سے 2002تک آمدن 21ملین بتائی جبکہ بنی گالہ اراضی کی تعمیرپر70ملین کے اخراجات آئے اس موقع پر جسٹس عمرعطابندیال نے اکرم شیخ سے کہاکہ کیاجن نکات پرآپ دلائل دے چکے ہیں وہ کمزورہیں ،ہم سے اکاونٹنگ کاکام نہ کروائیں آپ کے منہ سے قانون کی بات اچھی لگتی ہے جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ نیازی سروسزلمیٹڈ کے علاوہ کوئی دوسرااثاثہ سامنے نہیں آیا ۔ اکرم شیخ نے کہا کہ میرے اتنے وسائل نہیں کہ معلوم کرسکوں کوئی دوسرااثاثہ تھالیکن یہ حقیقت ہے کہ نیازی سروسز لمیٹیڈ کمپنی 2015تک فعال رہی ۔اکرم شیخ نے کہاکہ عمران خان2013کے الیکشن میں نیازی سروسزلمیٹیڈ کمپنی کو ظاہرکرسکتے تھے کیونکہ نیازی سروسزلمیٹئڈ کمپنی کے اکاونٹ میں عمران خان کی کتاب اورکرکٹ آمدن بھی آتی رہی انہوں نے کہاکہ عمران خان این ایس ایل کمپنی کے اکاونٹ میں رکھے پیسوں کواستعمال کرتے تھے ، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ ان حالات میں ہم کیاکرتے کیاہمارے پاس ریکارڈ طلب کرنے کااختیار ہے۔ اکرم شیخ نے جواب دیا کہ نیازی سروسز کمپنی کے اکائونٹ میں موجود ایک لاکھ پاونڈ کس کاتھاجبکہ عمران خان نے این ایس ایل کے اثاثے 2002اور1997 کے کاغذات میں نہیں بتائے جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ پیسہ کہیں بھی رکھاجائے کسی کاکیاجاتاہے اکرم شیخ نے کہاکہ کسی کاکچھ نہیں جاتالیکن قانون کابہت کچھ جاتاہے عدالت خود دیکھ لے کہ این ایس ایل کوظاہرکیاگیا اکرم شیخ نے کہاکہ ان کے موکل کامقدمہ اثاثے ظایرنہ کرنے کاہے ۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کی سابق جمائمہ کوایک لاکھ اسی ہزار ڈالرزقرض سے زیادہ اداکیے ۔ جتناقرض تھااتناہی اداکرناچاہیے تھااس دوران نعیم بخاری نے عدالت میں پہنچ کر بتایا کہ ان کی طبیعت گذشتہ روزسے ناساز ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ اکرم شیخ نے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ان کے جوابات آپ کو دینا ہونگے۔ اکرم شیخ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہاکہ جمائمہ خان کی طرف سے راشد خان کورقم بھیجنے پرسوال نہیں اٹھائے ۔ عمران خان کاقرض لیناالیکشن کمیشن کے ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتا اورجومقدمہ ثابت شدہ ہے اسی پر زورڈالوں گاکیونکہ یہ ثابت شدہ ہے کہ جمائمہ سے عمران خان نے قرض لیا اکرم شیخ کاغذات نامزدگی میں قرض ظاہر نہیں کیاگیاجسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ یہ میاں بیوی کے درمیان معاملہ تھا تو اکرم شیخ نے جواب دیا کہ معاملہ باپ بیٹے کاہویامیاں بیوی کا قانون کی نظرمیں دیکھناہے چیف جسٹس نے کہاکہ عمران خان نے قرض ظاہرنہیں کیالیکن جمائمہ کے نام اراضی کوظاہرکردیا ۔ اکرم شیخ نے کہاکہ عمران خان نے اپنے پہلے تحریری جواب میں کہاں لکھاہے کہ زمین جمائمہ کے لیے خریدی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ضمنی جواب میں عمران خان نے کہاہے کہ زمین جمائمہ کے لیے خریدی جس پر اکرم شیخ نے کہاکہ آخری جواب میں عمران خان نیاموقف پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں زمین سے انکا تعلق نہیں۔ وہ کہتے ہیں زمین براہ راست جمائما نے خریدی اکرم شیخ نے کہاکہ مجھے بتادیں میں عمران خان کے کس جواب پر انحصار کروں، چیف جسٹس نے کہاکہ جواب میں تضاد کدھر ہے؟ مان لیں جائیداد بے نامی تھی۔جواب میں لکھا ہے کہ ادائیگی جمائمہ نے بینک کے ذریعے بھیجی رقم سے کی تاہم دیکھنا یہ ہے کہ بے ایمانی ہوئی ہے اورکیا کوئی منی لانڈرنگ ہوئی ہے۔ بنی گالہ اراضی بے نامی ہوتوبھی فرق نہیں پڑتا جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ عمران خان نے برطانیہ سے رقم آنے کاریکارڈ دکھادیاجمائما نے 65لاکھ عمران خان کو پہلے بطور تحفہ دیئے ۔ 5لاکھ 62ہزارپاونڈ بعد میں تحفہ کیے ، جس پر اکرم شیخ نے موقف اپنایاکہ 5رکنی بینچ کافیصلہ دیکھ لیں کیاتنخواہ لینے کاادارہ تھاکہ نہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہوسکتاہے پانامہ فیصلہ اس مقدمے کے لیے متعلقہ نہ ہو یہ میاں بیوی کے درمیان معاملہ تھا جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ میں نے پہلے بھی کہاتھا وہ فیصلہ پڑھ لیں، اس موقع پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ عدالت قرار دیدے کہ میاں بیوی کے معاملہ پر عدالتی قانون ڈکلیئر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، تحفہ اور قرض میں فرق ہے ۔قرض ہر قانون کے تحت قرض ہوتا ہے جسٹس عمر عطا بندیال نے استفار کیاکہ عمران خان نے جمائما کو جو رقم ادا کی وہ قرض تھا یا تحفہ؟اکرم شیخ نے جواب دیا کہ جب عمران خان خود کہتے ہیں وہ قرض تھا ۔چیف جسٹس نے کہا کہ نعیم بخاری بھی کہہ چکے ہیں جمائما سے لی گئی رقم قرض تھی۔اکرم شیخ نے کہاکہ عمران خان کو قرض ظاہر کرنا چاہیے تھاچیف جسٹس نے کہاکہ بے نامی جب تک چیلنج نہ ہوجس کے نام ہومالک رہتاہے اس پر عمران خان کے وکیل اکرم شیخ نے کہاکہ 2002کے کاغذات نامزدگی میں خریدی گئی اراضی اورلندن فلیٹ کوظاہرکیا اورجمائمہ نے 5لاکھ 62ہزاروصول کی دستاویزات بھیج دی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عمران خان نے بنی گالہ اراضی کوظاہر کیا لیکن جمائمہ سے لیے قرض کوظاہر نہیں کیا اس لئے دیکھنایہ ہے کہ جائیداد ظاہر کرنے کے بعد قرض ظاہرکرنے سے فرق پڑتاہے جبکہ صرف 6.5فیصد قرض کی منی ٹریل ثابت نہیں ہوئی۔عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ کمپنی ٹیکس بچانے کے لیے بنائی گئی ۔ آف شور کمپنی کے اکائونٹ میں عمران خان کی دیگر آمدن بھی آتی رہی جبکہ ایک لاکھ پائونڈ عمران خان نے 2003کے کاغذات میں ظاہر نہیں کیے ۔اکرم شیخ کہتے ہیں عمران خان کو ایک لاکھ پائونڈ ظاہر کرنے چاہیے تھے ۔ عدالت کو نیازی سروسز لمیٹیڈ اکاونٹ کی 2003کی تفصیلات نہیں دی گئیں کیاایک لاکھ پاونڈ عمران خان کااثاثہ نہیں تھانعیم بخاری نے جواب دیا کہ این ایس ایل کو3دیگرکمپنیاں چلاچلارہی تھیں اس لئے یہ رقم عمران خان کااثاثہ نہیں تھی تاہم ایک لاکھ پاونڈ کی رقم عمران خان کے کنٹرول میں تھی چیف جسٹس نے کہاکہ ہم کسی کی ایمانداری کاجائزہ لے رہے ہیں۔عمران خان کہہ سکتے تھے ایک لاکھ پاونڈ انھیں دئیے جائیں۔اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ جب جمائمہ کو قرض ادا کیا گیا تو ظاہر کرنا بھی ضروری ہے اورعدالت کے کہنے پر پاناماکا فیصلہ دوبارہ پڑھا ہے۔30جون2002تک عمران خان کے نام قرض واجب الادا تھاالیکشن کے کاغذات میں قرض کو ظاہر نہیں کیا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ پاناماکیس میں معاملات کمپنی کے درمیان تھے تنخواہ کا معاملہ بیٹے اور باپ کے درمیان نہیںتھا۔اکرم شیخ نے کہاکہ یہ خاندانی کمپنی تھی اس لئے خاندانی معاملہ تھا۔جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ عمران خان 2002اکتوبر میں رکنی اسمبلی منتخب ہوئے۔اکرم شیخ نے کہاکہ کامیابی کا نوٹیفیکیشن اثاثوں کی تفصیل دینے پہ ظاہر ہوتا ہے ، چیف جسٹس نے کہاکہ بیوی سے قرض لینے اور واپس کرنے میں کوئی بدنیتی ظاہر نہیں ہوتی، اکرم شیخ نے کہاکہ عمران خان اپنے موقف پر قائم نہیں رہتے باربار موقف بدلتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ عمران خان نے جو کاغذات لگائے گئے وہ مسترد ہوگئے تھے اس لئے کاغذات مسترد ہونے پر اپیل دائر کی۔اکرم شیخ نے کہاکہ عمران خان کی اپیل منظور ہونے پر وہ ممبر قومی اسمبلی بن گئے اورپرویز مشرف عمران خان کو وزیر اعظم بنانا چاہتے تھے۔جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ کیا آپ چاہتے ہیں 2002 میں غلط فارم بھرنے پر عمران خان کو نااہلی کر دیں ؟؟چیف جسٹس نے کہاکہ کیا 2013 کے الیکشن میں عمران خان نے غلط بیانی کی ہے۔؟اکرم شیخ نے کہاکہ این ایس ایل کمپنی عمران خان نے 2013 میں ظاہر نہیں کی ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عمران خان کہتے ہیں کمپنی ان کے نام پر نہیں ہے ۔اکرم شیخ نے سوال اٹھایا کہ تو کیا آپ عمران خان کا موقف مان لیں گے۔چیف جسٹس نے کہاکہ حنیف عباسی کی درخواست میں نہیں لکھا کہ جمائمہ سے لیا قرض ظاہر نہیں کیا۔اکرم شیخ نے کہاکہ عمران خان پہلے آف شور کمپنی اور پھر اپنی اہلیہ کے پیچھے چھپتے رہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں غیر قانونی بات کیا ہوتی ہے۔پاناما کیس میں اثاثہ ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔چیف جسٹس نے کہاکہ عمران خان نے بنی گالہ اراضی کو ظاہر کیا۔اکرم شیخ نے کہاکہ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے ۔عمران خان مرد بنیں اپنی جائیداد ظاہر کرے ۔عمران خان مرد بنے سینہ تان کر کہے اراضی انہوں نے خریدی ہے اورپوری قوم کی نظریں عدالت پر لگی ہوئی ہیں کیونکہ عمران خان ملک کے وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ ہم نے نوٹ کر لیا ہے کہ ایک لاکھ پانڈ ظاہر نہیں کیا گیا اورایک لاکھ پانڈ عمران خان کااثاثہ تھا۔ اکرم شیخ نے کہاکہ عمران خان نے گرینڈ حیات ہوٹل کے فلیٹ کو بھی ظاہر نہیں کیا اورنہ لی گئی تنخواہ ظاہرنہ کرناکونسی بدنیتی تھی جبکہ عمران خان نے بھی تسلیم کیاکہ فلیٹ انھوں نے ظاہر نہیں کیا جبکہ عدالت نے عمران خان کو موقف پیش کرنے کے 18 مواقع دیئے نواز شریف کی نااہلی قابل وصول تنخواہ پر ہوئی جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ وہ تنخواہ ظاہر نہیں کی گئی تھی اکرم شیخ نے کہاکہ عدالت 5ممبربینچ کے فیصلہ کی پابند ہے ، جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ پاناما معاملہ میں 5ججزکااپنااپناالگ فیصلہ ہے ۔جس پر اکرم شیخ نے کہاکہ عدالت نے ججزکی ذاتی رائے کونہیں آرڈر آف کورٹ کودیکھنا ہے ، نیازی سروسزکمپنی پہلے دن سے اثاثہ تھی کیونکہ اگریہ فروخت ہوتی توفائدہ عمران خان کوہوتاانہوں نے کہاکہ عدالت کے مانگنے پر نیازی سروسز کا مکمل ریکارڈ پیش نہیں کیاگیااورگرینڈ حیات فلیٹ کیلئے دیاگیا ایڈوانس اثاثہ تھااکرم شیخ نے کہاکہ عدالت جوفیصلہ کرے گی قبول ہوگا تاہم الیکشن فارم کے مطابق گرینڈ حیات ہوٹل کاایڈوابس بھی ظاہرکرناچاہیے تھا تاہم عدالت فیصلہ محفوظ کرکے بھی انکوائری کرسکتی ہے ۔ عمران خان نااہلی کیس کی سماعت مکمل ہوئی تو عدالت نے قرار دیا کہ جہانگیرترین نااہلی کیس کی سماعت کاآغازآج(بدھ)سے ہوگاچیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عمران خان نااہلی کیس,کافیصلہ محفوظ نہیں کررہے کوئی بھی سوال ہواتوپوچھ لیں گے، اس دوران عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ جمائما خان سے دستاویزات وصول ہونے کاریکارڈ پیش کردیااس ضمن میں موجود دستاویزات  آج بدھ کو جمع کروادیں گے ۔