مقبوضہ کشمیر ،شوپیاں چلو مارچ روک دیا گیا،حریت قیادت گرفتار،کرفیو نافذ

سرینگر(اے این این)  مقبوضہ کشمیر  کے ضلع شوپیاں  میں بھارتی فوج  کے ہاتھوں زخمی ہونے والا ایک اور 10سالہ بچہ دم توڑ گیا ہے  جبکہ شہری ہلاکتوںکیخلاف مزاحمتی قیادت کا''شوپیاں چلو'' مارچ روکنے کیلئے سخت اقدامات کئے گئے ،اس دوران وادی میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا ،چوٹی کی حریت قیادت کو گھروں میں نظر بند رکھا،یاسین ملک  کی ریلی کی قیادت کی کوشش ناکام،ساتھیوں سمیت گرفتار  ،بھارتی فورسز نے اہم شاہرات کو خار دار تاروں  اور  کنٹینر رکھ کر بند کیا،حریت قائدین کے گھروں کے باہر اضافی نفری تعینات،دفعہ 144کا نفاذ ،رکاوٹوں  ،پابندیوں اور قدغنوں کے باوجودلوگوں کی بڑی تعداد مرکزی جامع مسجد پہنچنے میں کامیاب،وادی بھر مساجد سے لوگوں کی جلوس اور ریلیو ں کی شکل میں  شوپیاں پہنچنے کی کوشش،بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں  متعدد زخمی،وادی میں مکمل پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال،انٹر نیٹ اور موبائل سروس بھی بند۔ تفصیلات کے مطابق   مقبوضہ کشمیر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت  نے پلوامہ،کپواڑہ اور شوپیاں میں  حالیہ دنوں کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہری ہلاکتوں  کیخلاف جمعہ کو '' شوپیاں چلو'' احتجاجی مارچ کا اعلان کیا تھا اور اس دوران وادی میں ململ پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی گئی تھی۔مزاحمتی قیادت  کی اپیل پر کشمیری عوام کی جانب سے بھر پور طریقے سے لبیک کیا گیا تاہم  احتجاجی پروگرام ناکام بنانے کیلئے قابض فورسز نے  ہر طرح کا حربہ اختیار کیا اور لوگوں کو گھروں میں محصور رکھنے کی کوشش کی ۔ بھارتی فورسز نے  سرینگر کی مرکزی جامع مسجد کی طرف جانے والے تمام راستوں کو مسدود رکھا اور شوپیاں کی طرف جانے والی سڑکوں اور اہم شاہرات کو بھی کنٹینر اور خاردار تاریں لگا کر  بند کیا گیا تھا۔شوپیاں سمیت وادی کے اہم علاقوں  میں دفعہ 144کا نفاذ کیا گیا۔پہلے سے نظر بند حریت رہنماؤں سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کے گھروں کے باہر فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ۔مزاحمتی لیڈروں کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے اور شوپیاں کی طرف رخ کرنے کے پیش نظر گزشتہ کئی دنوں سے ہی بیشتر مزاحمتی لیڈرون کو خانہ و تھانہ نظر بند رکھا گیا ہے،جبکہ کئی ایک لیڈروں اور کارکنوں کے گھروں پر پولیس نے چھاپے مارے ہیں۔ سید علی گیلانی بدستور اپنے حید پورہ رہایش میں خانہ نظر بند ہیں،جبکہ میرواعظ عمر فاروق کو بھی گزشتہ کئی روز سے گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے۔ تحریک حریت جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی اور محمد اشرف لایا بدستور اپنے گھروں میں نظربند ہیں۔ ذرائع کے مطابق حریت(گ)  کے ترجمان غلام احمد گلزار کو جمعرات صبح پولیس نے گھر سے گرفتار کرکے تھانہ شیر گھڑی اور محمد یوسف مکرو کو پولیس اسٹیشن اسلام اباد ، جبکہ عمر عادل ڈار کو حیدرپورہ مرکزی افس میں نظربند کردیاگیا تھا ۔ لبریشن فرنٹ کے نائب صدر ایڈوکیٹ بشیر احمد بٹ اور سنیئر لیڈر شیخ عبدالرشید ،غازی بابا،اور بلال صدیقی کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ اسلامک پولٹیکل پارٹی کے چیئرمین محمد یوسف نقاش کو گھر پر چھاپے کے دوران حراست میں لیکر تھانہ صفا کدل میں بند کیا گیا۔فرنٹ ترجمان کے مطابق جاوید احمد زرگر اور ظہور احمد بٹ اور نور محمد کلوال کے گھر پر بھی چھاپے ماریے گئے۔شاہ ولی محمد کو سوپور،  محمد یاسین عطائی اور سید امتیاز حیدر کو بڈگام، عمر عادل ڈار کو نوگام اور عاشق حسین نارچور کو اسلام اباد پولیس تھانوں میں پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔دریں اثناء جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک جنہیں غلام محمد ڈار کے ہمراہ19 جنوری کواحتجاجی جلوس کی قیادت کرتے ہوئے لال چوک سے گرفتار کیا گیا تھا، ہنوز سرینگر سینٹرل جیل میں مقید ہیں۔ پولیس نے انہیں پہلے چار روزہ عدالتی تحویل پر جیل بھیج دیا تھا لیکن اب عدالتی تحویل میں27جنوری تک توسیع کی گئی ہے۔ جو ازادی پسند قائدین اور کارکنان پہلے ہی جیلوں میں بند ہیں ان میں مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، غلام قادر بٹ، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، ظہور احمد وٹالی، کامران یوسف، جاوید احمد، غلام محمد خان سوپوری، محمد یوسف میر، محمد رمضان خان، امیرِ حمزہ شاہ، محمد یوسف فلاحی، میر حفیظ اللہ، محمد یوسف لون، عبدالاحد پرہ، شکیل احمد یتو،نثار احمد نجار، جاوید احمد پھلے، محمد امین اہنگر، محمد امین پرے، لطیف احمد ڈار، مفتی عبدالاحد، محمد اشرف ملک، منظور احمد کلو، مولاناسرجان احمد برکاتی، محمد سبحان وانی، حاکم الرحمان بومئی، اخلاص احمد شیخ، شبیر احمد میر، محمد سلطان صوفی، غلام نبی گوجری، غلام حسن شاہ، عبدالمجید لوگری پورہ، عبدالغنی بٹ، رئیس احمد میر، سلمان یوسف، نذیر احمد مانتو، توصیف احمد، محمد رفیق گنائی، فاروق توحیدی، محمد شعبان خان، غلام محمد تانترے، گوہر احمد شیخ، محمد رجب بٹ، ناصر احمد گنائی، دانش مشتاق، عبدالحمید پرے، ریاض احمد میر، فیاض احمد داس، خورشید احمد لون، عرفان احمد، شاہد احمد، شکیل احمد بٹ، معراج الدین نائیکو، عبدالرشید راتھر، شارق مقبول، حکیم شوکت احمد، سجاد نو، اسداللہ پرے، غلام احمد پرے، ثنا اللہ ڈار، ہلال احمد پالہ، عبدالصمد انقلابی وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔گزشتہ روز  محمد یاسین ملک کے گھر واقع مائسمہ اور دفتر ابی گزر میں بھی چھپاے مارے گئے،تاہم محمد یاسین ملک دنوں جگہوں پر موجود نہیں تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک شوپیان چلو کال کے بعد ہی رپوش ہوگئے تھے  تاہم جمعہ کو  یاسین ملک جیسے ہی ریلی کی قیادت کیلئے مرکزی جامع مسجد  چوک پہنچے تو بھارتی فورسز  نے  انھیں بھی ساتھیوں سمیت گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا گیا۔ بانہال ،بارہمولہ ریل سروس کو بھی معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔شوپیاں میں ایک ہفتے کے دوران4شہری ہلاکتوں کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کے پیش نظر شمال و جنوب میں سیکورٹی فورسز اور پولیس کو الرٹ رکھا گیا ،جبکہ حساس مقامات اور علاقوں میں اضافی فورسز اور پولیس دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ شہر سرینگر کے 7تھانوں بشمول رعناواری،خانیار ،نوہٹہ ،صفاکدل ،ایم ار گنج اور مائسمہ و کرالہ کھڈ کے تحت انے والے علاقوں میں دفعہ144کے تحت بندشیں عائد  کی گئیں ۔تاہم تمام تر رکاوٹوں کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد  نے مساجد میں نماز جمعہ کے بعد  شوپیاں کی طرف مارچ کیا۔اس دوران بھارتی فورسز نے لوگوں کو مساجد کے باہر  سے ہی منتشر کر نے کی کوشش کی اور انسو گیس اور لاٹھی چارج کا بے دریغ استعمال کیا تاہم قابض فورسز لوگوں کو اگے بڑھنے سے روکنے میں ناکام رہیں۔اس دوران مختلف علاقوں میں  مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ کئی کو گرفتار کیا گیا۔اخری اطلاعات تک وادی کے تمام اضلاع سے لوگوں کا شوپیاں کی طرف مارچ جاری تھا اور حالات کشیدہ  تھے ۔ادھر سات روز  اسپتال میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد شوپیان کا ایک اور کمسن بچہ زندگی کی جنگ ہار گیا۔اس طرح شوپیان مسلح جھڑپ کے بعد جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد5تک پہنچ گئی جبکہ دو لڑکیوں سمیت دیگر کئی افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔مشرف فیاض ولد فیاض احمد نجار ساکنہ دارمدور کیگام شوپیان مسلح جھڑپ کے بعدتباہ شدہ عمارت کے ملبے سے بارودی مواد پھٹنے سے شدید زخمی ہوا تھا جسے بعد میں صورہ اسپتال  کے ائی سی یو وارڈ میں تشویش ناک حالت میںعلاج ومعالجے کیلئے رکھا گیا تھا تاہم جمعرات کی صبح قریب ساڑے چار بجے یہ معصوم کمسن زندگی کی جنگ ہار گیا۔مشرف کی میت کو جوں ہی اسکے ابائی گاوں دارمدور کیگام پہنچایا گیا تو ہر طرف کہرام مچ گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ پہلے سے ہی دارمدور میں ایک میدان میں جمع ہوئے اور مشرف کی میت کیلئے ایک اسٹیج بنا کے رکھا گیا۔ جلوس جنازہ سے ٹیلی خطاب کے دوران حریت گ کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے مشرف فیاض کو خراج پیش کرتے ہوے کہا کہ ہم سے ہمارے اخلاق،ہمارا کردار، ہماری عزت اور عصمتیں چھین لی جارہی ہیں۔ ہم لوگوں کو ایسے عذاب میں مبتلا کیا گیا ہے کہ ہم رات بھر پریشانی کی وجہ سے سو نہیں پاتے ہیں۔ کس طرح ہمارے نوجوان جن کے ہاتھوں میں قلم و کتابیں ہوتی ہے ان ہی نوجوانوں کا کس طرح خون بہایا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کو زخمی کیا جا رہا ہے اور بعد میں یہ نوجوان ہسپتالوں میں دم توڑ دیتے ہیں۔گیلانی نے مزید کہاں کہ مجھے مسلسل پچھلے اٹھ سالوں سے گھر میں قید کر کے رکھا گیا ہے۔ میں ہر ایک شہید کے گھر پر پہنچ جاتا تھا لیکن حکمرانوں نے مجھے چار دیواری میں قید کر کے رکھا ہے۔ہر کوئی ہند نوازسیاسی جماعت جو کشمیر میں ہیں بھارت کی طرف سے ہماری جو عزتیں لوٹی جارہی ہیں اور نوجوانوں کا کھلے عام قتل کیا جا رہا ہے، میں برابر کے شریک ہیں۔اور ہم نے پہلے ہی جمع المبارک کو شوپیان چلو کی کال دیہے اور لوگوں سے کہاہے کہ وہ جمعہ کی نماز شوپیان میں ادا کرے۔تاکہ جو ضلع شوپیان میں کمسن سمیت چار نوجوانوں کو جان بحق کیا گیا اونکے لواحقین سے اظہار تعزیت کی جائے۔ہندوستان کی طرف سے ہم پر کئے جانے والے ظلم سے ہمارے ازادی کی جدوجہد کے حوصلہ پست نہیں ہونے چاہئے۔ ٹیلی خطاب کے بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے مشرف کا دو بار نماز جنازہ پڑھا۔ اور جلوس کی صورت میں اسلام و ازادی کے حق میں نعرے بازی کی گونج میںاسے پر نم انکھوں سے سپرد لحد کیا،مشرف کی میت کو پاکستانی پرچم میں سپرد خاک کیا گیا ۔معصوم کی تدفین کے بعد لوگ مشتعل ہو گئے اور بھارتی فورسز پر پتھراؤ کیا سج کے جواب  میں بھارتی فورسز نے  انسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔ادھر ضلع شوپیان میںمسلسل  نویں  روز بھی تعزیتی ہڑتال رہی ۔تمام تر کاروباری وتعلیمی ادارے بند رہے۔ سڑکوں پر ٹریفک کی امد رفت بھی متاثر رہی۔ انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی بند  ہے ۔