اٹک: دینی مدارس اسلام کا قلعہ اور مساجد چھاوَنیاں ہیں:مفتی کفایت اللہ 

اٹک (ڈیلی اٹک نیوز ) دینی مدارس اسلام کا قلعہ اور مساجد چھاوَنیاں ہیں دینی مدارس مسلمانوں کو دین سے روشناس کرانے اور آنے والی نسلوں کا تعلق قرآن و سنت سے جوڑنے میں اہم کردار اد ا کر رہے ہیں دینی مدارس وہ این جی اوز ہیں جو حکومتی امداد کے بغیر عوام اور مخیر حضرات کے تعاون سے چلتے ہیں جو لوگ مساجد و مدارس سے تعاون کرتے ہیں ان کیلئے یہ صدقہ جاریہ ہے سب سے بہتر انسان قرآن پڑھنے اور پڑھانے والے کو قرار دیا گیا ہے جبکہ جو لوگ تعاون کرتے ہیں وہ بھی اس ضمن میں شامل ہیں انشاءاللہ دینی مدارس قیامت تک قائم رہیں گے مدارس کو مٹانے والے اور سازشیں کرنے والے ناکام و نامراد اور خسارہ اٹھانے والوں میں شمار ہوں گے ان خیالات کا اظہار مرکزی رہنما جمعیت علمائے اسلام مفتی کفایت اللہ ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل وفاق المدارس پاکستان ، مولانا قاضی عبدالرشید، حافظ فرمان الٰہی ،صاحبزادہ طاہر محمود و دیگر علمائے کرام نے دارالعلوم عثمانیہ تعلیم القرآن سکنہ محلہ گلشن عثمان شکردرہ میں سالانہ دستار فضیلت و تقسیم اسناد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر فارغ التحصیل حفاظ کرام کی دستا ر بندی کی گئی کانفرنس میں علمائے کرام قرائ حضرات حفاظ کرام و عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی مقررین نے کہا کہ اسلام ایک پرامن اور آفاقی مذہب ہے جس نے انسانیت کی قدر سکھائی ہے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی ;248; نے امن کا پیغام دیا اور دنیا میں ان کے صحابہ کرام و اہل بیت عظام نے دین اسلام کو دنیا میں پھیلایا اور اس کیلئے قربانیاں دیں آج امت مسلمہ بے راہ روی کا شکار ہو چکی ہے اور قرآن و سنت سے منہ موڑ لیا ہے جس سے دنیا بھر میں مسلمان تختہ مشق اور مظالم کا شکار ہو چکے ہیں اگر آج بھی مسلمان قرآن و سنت کو تھام لیں اللہ کے احکامات اور نبی ;248; کے مبارک طریقوں پر عمل پیرا ہو جائیں تو پوری دنیا میں مسلمانوں کو وہی شان و شوکت حاصل ہو سکتی ہے اس گئے گزرے دور میں یہ دینی مدارس کسمپرسی کے عالم میں بغیر کسی حکومتی امداد کے مسلمانوں کو رشتہ قرآن و حدیث سے جوڑنے کیلئے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں محض اللہ کے فضل و کر م اور مخیر حضرات کے تعاون سے یہ مدارس دن رات مصروف عمل ہیں اور ان مدارس سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں علمائے کرام ، حفاظ اور قرائ حضرات فارغ التحصیل ہو کر ملک اور بیرون ملک دینی خدمات میں مصروف عمل ہیں دینی مدار س کے خلاف سوچنے والے اور انہیں ختم کرنے کے ارادے کر نے والے یہ جان لیں کہ اس سے پہلے بھی کئی حکمران آئے جو مدارس کے خاتمہ کا خواب دیکھتے رہے مدارس آج بھی قائم ہیں مدارس ختم کرنے والے حکمران خود بھی ختم ہو گئے اور ان کا اقتدار بھی ڈوب گیا۔