سٹیزن پورٹل پر قرضی شکایات مسائل میں اضافہ کر رہی ہیں ،ضلعی صدر خواتین ونگ اٹک

اٹک :پاکستان سٹیزن پورٹل غریب عوام اور ضلعی انتطامیہ کے لئے وبال جان بن گیا
آئے روز فرضی شکایت کنندہ پیپلزکالونی اٹک کی چھوٹی سی مارکیٹ کے خلاف جھوٹ پر مبنی درخواستیں دیتے رہتے ہیں جن میں سے زیادہ تر درخواست کنندہ کا تعلق اسی بازار سے ہے اورایک جیسے کاروبار سے منسلک ہیں جب ضلعی انتظامیہ حرکت میں آتی ہے توان غریب ریڑھی بانوں کے پھل و سبزیاں اور دیگر سامان لے جاتے ہیں جو انہیں بھاری جرمانہ ادا کرنے کے بعد واپس کر دیا جاتا ہے۔
پیپلزکالونی کی رہائشی اور پی ٹی آئی کی ضلعی صدر خواتین ونگ مسز جعفری نے موقع پر جا کر ان ریڑھی بانوں کے مسائل سنے اور قانوں کے مطابق ان کی ریڑھیوں کو درست جگہ دلوائی۔ اس موقع پر پیپلزکالونی کی خواتین نے مسز جعفری کا شکریہ ادا کرتے ہو ئے کہا کہ ان ریڑھیوں کے نا ہونے کے سبب ہمیں بازار کے اندر جانا پڑتا ہے اور بعض اوباش لوگوں کی تنقید کا نشانہ بھی بنتے ہیں اگر بازار جائیں تو سو روپے سے زیادہ آنے جانے پر لگ جاتا ہے جو ہماری دسترس سے باہر ہے ۔ضلعی انتظامیہ سے گزارش ہے کہ ان ڑیرھی بانوں کو یہاں رہنے دیا جائے اس موقع پر پی ٹی آئی کی ضلعی صدر خواتین ونگ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سٹیزن پورٹل پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ چند شرپسند عناصراس ایپ کا غلط استعمال کر کے حکومتی اداروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم نے نئے سٹیزن پورٹل متعارف کرانے سے گریز کی ہدایت کی ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم آفس سے متعدد محکمہ جات کو ہدایت نامے جاری کیے گے ہیں اور کہا گیا ہے کہ پاکستان سٹیزن پورٹل سے متعلق آگاہی مہم چلائی جائے اورکہا گیا کہ سٹیزن پورٹل کی سہولت سے لوگوں کی بڑی تعداد ناواقف ہے، اس لیے عوام کو اس سلسلے میں بہتر طور پر آگاہ کیا جائے مسز جعفری نے کہا کہ پاکستان سٹیزن پورٹل 8 ہزار مختلف سرکاری محکموں سے منسلک ہے، اس پورٹل کے توسط سے اب تک 987140 شہریوں کی شکایات حل ہوئی ہیں سٹیزن پورٹل پر 44 ہزار 623 شہریوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام اس پورٹل کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔
