جنڈ اور پنڈی گھیب کی پسماندگی کا ازالہ کب ہو گا؟

گیس فیلڈز کی قریبی آبادیوں کیلئے نہ ہی رائلٹی فنڈ نہ ہی گیس فراہم ، تیل اور گیس کے وسیع ذخائر ہونے کے باوجود علاقے میں مسائل کی بھرمار
اٹک( مانیٹرنگ ڈیسک) مغرب میں صوبہ پنجاب کا آخری ضلع اٹک۔1904ء میں معرض وجود میں آیا۔ راولپنڈی سے 85کلومیٹر مغرب میں جی ٹی روڈ پر واقع ہے ضلع اٹک حضرو،فتح جنگ،جنڈ،پنڈی گھیب اور حسن ابدال دیگر تحصیلیں ہیں۔ضلع اٹک میں تیل اورگیس کے وسیع ذخائرپائے جاتے ہیں۔اٹک کی تحصیل جنڈ اور پنڈیگھیب اس حوالے سے کافی زرخیز ہیں یہاں تیل گیس سلفر کے بے شمار ذخائر ہیں جنکی زندہ مثال دکھنی آئل فیلڈ جنڈ ،سرگ آئل فیلڈ ،پاکستان آئل لمیٹڈ میال ،پاکستان آئل لمیٹڈ کھوڑ ،پی او ایل ڈھلیاں ،احمدال آئل فیلڈ،سگھری ویل ،رنگلی ویل ،صدقال آئل فیلڈ ،توت آئل فیلڈ ،رتنا آئل فیلڈ،پیر ولی آئل فیلڈہیں۔
اتنے وسیع تیل و گیس کے ذخائر ہونے کے باوجود پورا علاقہ پسماندگی غربت بے روذگاری و محرومی کا شکار ہے علاقے کے وسائل کو اغیار و سیاسی مافیا دونوں لوٹ رہے ہیں پورے علاقے کے اندر کوئی اچھا کالج نہیں کوئی ٹیکنکل ادارہ نہیں کوئی اچھا ہسپتال نہیں کوئی کھیل کا بہترین میدان نہیں تفریح کے لئیے کوئی پارک نہیں پچانوے فیصد علاقہ گیس سے محروم ہے 1990 کے بعد سے ان تمام اداروں کے اندر سندھی و پٹھان مافیا کا راج ہے پیپلز پارٹی دور حکومت میں بڑی تعداد میں سیاسی طور پر سندھ سے لوگوں کو بھرتی کر کے لایا گیا بعد میں ایک بڑی تعداد میں خیبر پختونخواہ سے لوگوں کو بھرتی کر کے ان اداروں میں جھونک دیا گیا مشرف دور حکومت میں امان اللہ خان جدون نے ہزارہ ڈویژن سے بڑی تعداد میں عوام کو بھرتی کر کے ان اداروں کے اندر ڈالا پچھلے زرداری دور میں رہی سہی کسر زرداری نے پوری کر دی یہ ادارے اپنی ضرورت سے دوگنی بھرتی سے بھرے ہوئے ہیں مقامی نوجوان ڈگریاں اٹھائے دربدر پھر رہے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں میں نئی بننے والی گورنمنٹ حلقے کے منتخب نمائندے اور آئل اینڈ گیس انتظامیہ سے علاقے کے نوجوانوں کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے مخاطب ہوں
فی الفور
آئل فیلڈ کے ارد گرد کے تمام دیہات کو ہنگامی بنیادوں پہ گیس فراہم کی جائے
علاقے کے تمام بے روذگار پڑھے لکھے جوانوں کو ان اداروں کے اندر ملازمتیں دی جائیں
آئل فیلڈ سے خارج ہونے والی زہریلی گیسوں کے روک تھام اور فضائی آلودگی سے بچنے کا خاطر خواہ انتظام کیا جائے
علاقے کے اندر ایک جدید ترین 1000 بستر پہ مشتمل ہسپتال قائم کیا جائے
علاقے کے اندر ٹیکنیکل ادارہ قائم کر کے علاقے کے نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر ان اداروں کے اندر جگہ دی جائے
اعلی تعلیم کے حصول کے لئیے نوجوانوں کو رائلٹی دی جائے
شٹ ڈاون اور دوسرے منصوبہ جات کے اندر مقامی لیبر کو استعمال کیا جائے
علاقے کی محرومیوں کو دور کیا جائے
اربوں روپے کی رائلٹی علاقے کے اندر خرچ کی جائے نہ کہ آپس میں بندر بانٹ کر لی جائے
علاقے کی فضا کو بہتر بنانے کے لئیے بڑے پیمانے پہ شجرکاری مہم شروع کروائی جائے
جلد از جلد ان مطالبات پہ عملدرآمد کیا جائے یہ نہ ہو کہ کل یہاں کا نوجوان بھی سوئی اور بلوچستان کے علاقے کی طرح اپنے حقوق کے لیے باہر نکل آئے اور اسوقت یقیناً وقت گزر چکا ہو گا ۔
