جرمن حکومت تنازع کشمیر حل کرانے کیلئے فرنٹ فٹ پر کھیلے،بیرسٹر سلطان

برلن( نمائندہ کشمیر ٹوڈے)آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم و پی ٹی ائی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ جرمنی دیوار برلن کی وجہ سے جرمن قوم کی تقسیم سے ہونے والی صورتحال کے باعث لائن اف کنٹرول کی وجہ سے ار پارکشمیریوں اور خاندانوں کی تقسیم سے ہونے والے دکھ دردمیں مماثلت کی وجہ سے مسئلہ کشمیرکو بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے۔ اسلئے ہم جرمن پارلیمنٹ اور جرمن حکومت سے کہتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلے  اور اس سلسلے میں جرمن حکومت رہنمائی بھی کرے اور پہل کرے تاکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں پیش رفت ہوسکے۔ کیونکہ جرمنی کے بھارت اور پاکستان دونوں سے دوستانہ تعلقات ہیں اور جرمنی کا انسانی حقوق پر بھی بہترین ٹریک ریکارڈ ہے۔  اسلئے جرمنی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ٹرمپ کی پالیسوں کے باعث پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر اس وقت جرمنی کی دنیا میں اہمیت اسلئے بھی بڑھ چکی ہے چونکہ جرمنی یورپی یونین کی قیادت بھی کررہا ہے۔لہذا میں جرمنی سے کہوں گا کہ وہ کشمیریوں کے پیدائشی حق خود ارادیت دلوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اج یہاں جرمن پارلیمنٹ میں جرمنی کے ممبران پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ اب وقت اگیا ہے کہ کشمیری عوام کو بھی ازادی نصیب ہو کیونکہ جسطرح دیوار برلن نے جرمن عوام کوایک طویل عرصے تک تقسیم کیے رکھا اور بالاخر جرمن عوام نے دیوار برلن گرا کر مشرقی و مغربی جرمنی کو ایک کردیا۔ اسی طرح لائن اف کنٹرول کی خونی لکیر نے بھی کشمیریوں کو منقسم کر رکھا ہے۔ لائن اف کنٹرول پر بھارت اورپاکستان  کی افواج امنے سامنے کھڑی ہیں اور کوئی بھی چھوٹا یا بڑا حادثہ ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جو پوری دنیا کے امن کے لئے خطرے کا باعث ہو سکتا ہے۔جرمنی چونکہ خود ان مشکلات سے گزار ہے لہذا جرمنی بہتر انداز میں مسئلہ کشمیر حل کرا سکتا ہے۔بعد ازاں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے جرمنی کے شیڈو وزیر خارجہ و جرمن ممبر پارلیمنٹ نیلز اینن(Niels Annon) سے علیحدگی میں بھی ملاقات کی۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اس موقع پر جرمن شیڈو وزیر خارجہ نیلز اینن کو مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی پربریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جرمن پارلیمنٹ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا کردار اداکرے۔ بعد ازاں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے  ڈاکٹر غلام نبی فائی اور دیگر کے ہمراہ دیوار برلن پر جاکر ملین مارچ کی جگہ کا معائنہ بھی کیا۔ یہ ملین مارچ دیوار برلن سے شروع ہو کر جرمن چانسلر انجیلا مارکل کی رہائشگاہ پر ایک یاداشت پیش کرنے کے بعد اختتام پذیر ہو گا۔